سعید سعدی — ستمبر 22، 2017 11:49 صبح
ترے وہ عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا
تری لفاظیوں کو ہم نے پھر بھی معتبر جانا
جہاں میں آج کب کوئی کسی کے ساتھ چلتا ہے
چلا جو دو قدم ہمراہ ہم نے ہم سفر جانا
تمہاری سادہ لوحی سے مجھے بس یہ شکایت ہے
ملا جو راہ زن اسکو بھی تم نے راہبر جانا
یہ ویرانی، ادھورے خواب ، ملبہ آرزوؤں کا
دلِ برباد کو اجڑا ہوا ہم نے کھنڈر جانا
سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
محمد وارث — ستمبر 22، 2017 12:06 شام
سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
واہ واہ، لاجواب!
سعید سعدی — ستمبر 22، 2017 12:10 شام
بہت نوازش
محمد تابش صدیقی — ستمبر 22، 2017 12:16 شام
بہت خوب جناب۔
سعید سعدی — ستمبر 22، 2017 12:20 شام
La Alma — ستمبر 22، 2017 3:22 شام
بہت خوب.
علی دا ملنگ — ستمبر 22، 2017 3:28 شام
ترے وہ عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا
تری لفاظیوں کو ہم نے پھر بھی معتبر جانا
جہاں میں آج کب کوئی کسی کے ساتھ چلتا ہے
چلا جو دو قدم ہمراہ ہم نے ہم سفر جانا
تمہاری سادہ لوحی سے مجھے بس یہ شکایت ہے
ملا جو راہ زن اسکو بھی تم نے راہبر جانا
یہ ویرانی، ادھورے خواب ، ملبہ آرزوؤں کا
دلِ برباد کو اجڑا ہوا ہم نے کھنڈر جانا
سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
لاجواب بھائی۔۔۔
بہت اچھی ہے۔۔
سعید سعدی — ستمبر 24، 2017 7:35 صبح
لاجواب بھائی۔۔۔
بہت اچھی ہے۔۔
بہت نوازش بھائی
الف عین — ستمبر 25، 2017 8:17 صبح
خوب ہے
اسد اقبال — ستمبر 25، 2017 10:21 صبح
ترے وہ عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا
تری لفاظیوں کو ہم نے پھر بھی معتبر جانا
جہاں میں آج کب کوئی کسی کے ساتھ چلتا ہے
چلا جو دو قدم ہمراہ ہم نے ہم سفر جانا
تمہاری سادہ لوحی سے مجھے بس یہ شکایت ہے
ملا جو راہ زن اسکو بھی تم نے راہبر جانا
یہ ویرانی، ادھورے خواب ، ملبہ آرزوؤں کا
دلِ برباد کو اجڑا ہوا ہم نے کھنڈر جانا
سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
ترے وہ عہد و پیماں اور پھر ان سے مکر جانا
تری لفاظیوں کو ہم نے پھر بھی معتبر جانا
جہاں میں آج کب کوئی کسی کے ساتھ چلتا ہے
چلا جو دو قدم ہمراہ ہم نے ہم سفر جانا
تمہاری سادہ لوحی سے مجھے بس یہ شکایت ہے
ملا جو راہ زن اسکو بھی تم نے راہبر جانا
یہ ویرانی، ادھورے خواب ، ملبہ آرزوؤں کا
دلِ برباد کو اجڑا ہوا ہم نے کھنڈر جانا
سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
ماشاءاللہ سعدی بھائی پوری غزل ہی بہت اچھی ہے
سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لو پہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
مگر آخری شعر کا جواب نہیں بہت خوب کیا کہنے