کاشف اسرار احمد — جون 25، 2015 11:01 صبح
ایک غزل پیش ہے ۔
احباب کی توجہ چاہونگا۔
-------------------------
خوشی کی راہ پہ، اُس کی طرح، وہیں من و عن
چلیں ہیں توڑ کے ہم بھی، وفا کا ہر بندھن !
وہ بے بسی ہے کہ، دیکھے بھی اب نہیں جاتے
صَلِیبِ عمر پہ، پامال خواہشوں کے بدن !
یہ ہے سیاستِ دوراں، یہاں ہے وہ رہبر
کہ جس کو جانتے ہیں سب کہ ہے کھلا رہزن
میں بچ کے شہرِ فِتَن سے تو آ گیا، لیکن
گنوا کے خواب، کرا کے لہو لہان بدن
ترا وجود، کدُورت کی اِن فَضاؤں میں
مُخالفت میں اندھیروں کے، اک دَمَکتی کِرن
تمام رات خیالوں میں روشنی کی طرح
تمھاری یاد ستارا تھی یا چمکتا رتن
فریب ہی تو ہے احساس قرب کا عالم
یہ رات ہجر کی، آنگن میں سرسراتی پَوَن !
شبابِ غم کے اندھیروں میں روشنی دیتے
چراغ ذہن کے کاشف، جلے پہن کے کفن !
-----------------------------
الف عین — جون 26، 2015 1:03 صبح
خوب۔ بھائی@محمد یعقوب آسی رہنمائی کریں کہ ’من و عن‘ کا درست تلفظ کیا ہے۔ مجھے شک ہے کہ پہلے نون پر شدہ ہے!!
کاشف اسرار احمد — جون 26، 2015 6:33 صبح
جزاک اللہ استاد محترم ۔
ادب دوست — جون 26، 2015 11:06 صبح
مجھے شک ہے کہ پہلے نون پر شدہ ہے!!
استادِ محترم نا چیز بھی یہی تلفظ جانتا ہے ۔
مِن + نو + عَن
ادب دوست — جون 26، 2015 11:08 صبح
کاشف اسرار احمد بھائی بہت خوب،
خاص طور سے یہ شعر بہت پسند آیا۔
وہ بے بسی ہے کہ، دیکھے بھی اب نہیں جاتے
صَلِیبِ عمر پہ، پامال خواہشوں کے بدن !
کاشف اسرار احمد — جون 26، 2015 5:49 شام
فیروزاللغات میں بھی یہی ہے۔۔ یعنی مِن + نو + عَن
مطلع تبدیل کرنا پڑیگا۔
انشا اللہ کرتا ہوں۔
جزاک اللہ استاد محترم ۔

سید عاطف علی — جون 26، 2015 10:24 شام
خوب۔ بھائی@محمد یعقوب آسی رہنمائی کریں کہ ’من و عن‘ کا درست تلفظ کیا ہے۔ مجھے شک ہے کہ پہلے نون پر شدہ ہے!!
میرے خیال میں تو مِن و عن کا تلفظ ۔ منو عن۔ ہے یہاں شدہ نہیں ۔عربی لفظ پر شدہ تو شاید ہمیشہ کسی عربی قاعدے کے تحت آتا ہے ۔ جب کہ یہ عربی سے اردو لہجے میں ڈھلی ہوئی ترکیب یا مروج محاورہ لگتا ہے اورغالباً ایسا ہی اہل علم حضرات سے سننے میں آتا ہے۔بہت سے عوام اسے مَن و عن بھی کہتے ہیں ۔۔ ۔ و اؤ عطف پر ایسا شدہ عجیب لگے گا۔۔فیروززاللغات کی بات دل کو نہیں لگتی اگر یہی مذکورہے۔۔۔واللہ اعلم
الف عین — جون 27، 2015 1:00 صبح
مجھے کم از کم عاطف کی بات قبول کرنے میں اشکال ہے
کاشف اسرار احمد — جون 27، 2015 9:25 صبح
استاد محترم
یعنی مطلع بدلنا ہی پڑیگا ۔۔

ٹھیک ہے۔ کوشش کرتا ہوں ۔
شکریہ
کاشف اسرار احمد — جون 27، 2015 10:41 صبح
مقطع اب یوں پڑھا جائیگا :
حریم غم کے اندھیرے اجالنے کے لیے
چراغ ذہن کے کاشف، جلے پہن کے کفن !
شکریہ
کاشف اسرار احمد — جولائی 19، 2015 1:00 شام
احباب مکمل غزل کچھ اس شکل میں ہوئی ہے :
..............**********************..............
حسین پھول خطا کے، ندامتوں کی چبھن
تمام عمر کی مِحنت ہے یہ مہکتا چمن
یہ ہے سیاستِ دوراں، یہاں ہے وہ رہبر
کہ جس کو جانتے ہیں سب کہ ہے کھلا رہزن
میں بچ کے شہرِ فِتَن سے تو آ گیا، لیکن
گنوا کے خواب، کرا کے لہو لہان بدن
وہ بے بسی ہے کہ دیکھے بھی اب نہیں جاتے
صَلِیبِ عمر پہ پامال خواہشوں کے بدن
ق
میں اس کی ایک ہنسی پر نثار کر ڈالوں
تمام شِعر، یہ غزلیں یہ میرے دل کی جلن
خَموش راگ ہیں جتنے رَباب میں پِنہاں
جومنتظر ہیں لِباسِ حدیثِ فِکر و سُخن
------------------
ترا وجود، کدُورت کی اِن فَضاؤں میں
مُخالفت میں اندھیروں کے، اک دَمَکتی کِرن
تمام رات خیالوں میں روشنی کی طرح
تمھاری یاد ستارا تھی یا چمکتا رتن
اک اُس کی یاد، کہ تنہائی میں پکارا جب
سمٹ کے آ گئی، بانہوں میں جیسے ایک دلھن
فریبِ ہی تو ہے احساسِ قرب کا عالم
یہ رات ہجر کی، آنگن میں سرسراتی پَوَن !
حریمِ غم کے اندھیرے اجالنے کے لیئے
چراغ ذہن کے کاشف جلے پہن کے کفن
..............**********************..............
شکریہ۔
بابا جی — جولائی 19، 2015 2:39 شام
بهت خوب
خالد محمود چوہدری — جولائی 19، 2015 7:47 شام
استادِ محترم نا چیز بھی یہی تلفظ جانتا ہے ۔
مِن + نو + عَن
جی بالکل درست فرمایا
مِن ّ و عَن {مِن + نو (و مجہول) + عَن} (
عربی)
متعلق
فعل
معانی
ہوبہو،
جوں کا توں،
حرف بحرف،
حقیقت کے مطابق،
مفصل و مشرح