ایک غزل ’’ جشنِ آزادی کے موقع پر ‘‘

مغزل — اگست 6، 2008 11:59 صبح
غزل
ہزار نطقِ سخن ہوں نثارِ آزادی
دل و نظر میں ہے اب تک خمارِ آزادی
یہی متاعِ محبت، یہی مآلِ وفا
نگارِ غازۂ محنت، عذارِ آزادی
جناح و جوہر و اقبال اور سرسید
یہی محرّک و دار و مدارِ آزادی
وطن سے جائیے باہر تو ساتھ رہتے ہیں
اک عطر بیز سی خوشبو، حصارِ آزادی
بس ایک ہم ہیں کہ خوش ہیں بنالیے ہم نے
مزارِ قائدِاعظم، مَنارِ آزادی
انہی سے پوچھیے آزادی کیسی نعمت ہے
بھٹک رہے ہیں جو قرب و جوارِ آزادی
ہمارا جینا و مرنا وطن کی خاطر ہو
دعائے دل ہے یہ پروردگارِ آزادی
کہ ساٹھ برسوں میں ہم نے بھلادیے محمود
وفا، خلوص و مروّت، وِقارِ آزادی

م۔م۔مغل
محمد وارث — اگست 6، 2008 12:11 شام
گو مجھے آپ کے پیش کردہ خیالات سے اصولی اختلاف ہے محمود صاحب، لیکن شاعری بہت اچھی ہے۔
واہ واہ سبحان اللہ کیا خوبصورت غزل ہے، لا جواب!
عمار ابن ضیا — اگست 6، 2008 12:16 شام
بہت خوب غزل ہے مغل صاحب!
وارث بھائی! اختلافی نکات کونسے؟
مغزل — اگست 6، 2008 12:18 شام
:hatoff:حضور دل مت رکھیے ۔۔:idea:
سلام سلامت سننے کی عادت نہیں مجھے اپنے پرکھوں کی طرح جو بالآخر غارت ہوئے۔۔:|
آپ کی کرم نوازی کر شکریہ لیکن میں جاننا چاہوں گا۔۔۔
کہ کن باتوں پر آپ مختلف رائے رکھتے ہیں ۔۔
نیاز مند
م۔م۔مغل :)
مغزل — اگست 6، 2008 12:19 شام
بہت خوب غزل ہے مغل صاحب!
وارث بھائی! اختلافی نکات کونسے؟

بہت شکریہ دوست ۔۔
حوصلہ افزائی کیلئے ۔
میں نے وہی سوال وارث صاحب کی خدمت میں پیش کیئے ہیں۔
فرخ منظور — اگست 6، 2008 12:23 شام
بہت اچھی غزل ہے - عمدہ محمود صاحب - خوش رہیے -
محمد وارث — اگست 6، 2008 12:24 شام
آپ حضرات کا شکریہ توجہ کیلیئے، لیکن بھائی صاحبان موقع اور محل تو ہے لیکن یہ فورم اسطرح کی گفتگو کا نہیں وگرنہ یہ خاکسار کسی ایسی "آزادی" کا قائل نہیں ہے جو کبھی ملی ہی نہ ہو۔
لیکن بس، میں اس بات کو آگے نہیں بڑھاؤں گا۔
نوازش!
والسلام
مغزل — اگست 6، 2008 12:35 شام
یعنی ۔۔
کسی کوہو تو ہو وارث خمارِ آزادی
ہمیں تو آج بھی ہے انتظارِ آزادی
مغزل — اگست 6، 2008 12:36 شام
بہت اچھی غزل ہے - عمدہ محمود صاحب - خوش رہیے -

فرخ بھائی آداب
بہت بہت شکریہ ۔۔
حوصلہ افزائی کیلئے ممنون ہوں۔
والسلام
عمار ابن ضیا — اگست 6، 2008 12:48 شام
گستاخی معاف، میں نے 2003ء میں اپنے خیالات اس طرح لکھے تھے:
میں آزادی سے لے کر
آج تک کی گزری اس آدھی صدی پر
غور جب کرتا ہوں
یوں محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے یہ کوئی سنسان رستہ ہے
جہاں ہر ایک منزل پر پہنچنا چاہتا ہے
اس پر طرہ یہ کہ
سارے ایک ہی منزل کے طالب ہیں
مگر سارے الگ ہیں
دوسروں سے دور ہیں
مجبور ہیں
ہاں یوں تو منزل ایک ہے سب کی
مگر سارے جدا ہیں
اس لیے رستہ بھٹک کر
اتنا چل کر بھی وہیں موجود ہیں اب
جس جگہ سے ہم چلے تھے کہ
وہی ویران راہیں ہیں
وہی سنسان رستہ ہے
ذرا سوچو تو
کیا یہ سودا سستا ہے؟
الف نظامی — اگست 6، 2008 3:13 شام
آزادی طاغوت سے ، غلامیِ خدا و رسول ملے
خوشا وطنِ پاک ملے ، خدا اور رسول ملے
ایم اے راجا — اگست 6، 2008 6:23 شام
مغل صاحب بہت خوب غزل ہے، جیسی بھی ہے نام تو آزادی ہے نہ، اب ہم خود ہی آزادی نہیں چاہتے تو کون دے ہمیں آزادی!
الف عین — اگست 7، 2008 6:26 صبح
یہ داغ داغ اجالا کی بات دوسری ہے، لیکن قومی جذبات کے اظہار کے طور پر غزل اچھی ہی ہے۔ بلکہ اسے بھی نظم ہی کہیں جو غزل کے فارم میں ہے۔
بس غازہِ‘ غلط ہے، درست املا غازۂ ہونا چاہیے۔ غازہ میں ’ہ‘ کا تلفظ الف کا ہی ہوتا ہے، اس لئے کسرِ اضافت نہیں ہمزۂ اضافت استعمال ہوتا ہے۔
مغزل — اگست 7، 2008 6:47 صبح
بہت بہت شکریہ باباجانی۔
املا کا مجھے علم تھا ۔۔ لیکن کمپیوٹنگ (تحریر)میں مجھے اس کی ناب کا علم نہیں تھا۔
سو یوں لکھ دیا ۔۔ اب آپ کے مراسلے سے کاپی پیسٹ کر کے مدون کرلیا ہے۔
(مناسب خیال کیجئے تو اس کی ناب بھی بتا دیں )
حوصلہ افزائی اور کرم فرمائی کیلئے۔۔ایک بار پھر بہت بہت شکریہ۔
جیا راؤ — اگست 10، 2008 8:27 شام
بہت خوبصورت غزل ہے مغل جی۔
ڈھیروں داد قبول کیجئیے۔

کہ ساٹھ برسوں میں ہم نے بھلادیے محمود
وفا، خلوص و مروّت، وِقارِ آزادی

بہت خوب !
مگر ساٹھ برس زیادہ ہو گیا، یہ سب تو ہم نے بہت جلدی بھلا دیا تھا نا !:)
چاند بابو — اگست 14، 2008 7:30 شام
محترم م۔ م۔ مغل صاحب بہت خوب غزل کہی آپ نے بہت شکریہ۔
مغزل — اگست 15، 2008 5:28 صبح
بہت شکریہ جیا جی اور چاند بابو بھیا۔۔
بہت بہت شکریہ۔
والسلام

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%E2%80%99%E2%80%99-%D8%AC%D8%B4%D9%86%D9%90-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%88%D9%82%D8%B9-%D9%BE%D8%B1-%E2%80%98%E2%80%98.14245/