ایک قصہ اک کہانی رات دن

خرم شہزاد خرم — اگست 8، 2008 7:29 صبح
ایک قصہ اک کہانی رات دن
یاد کرتے ہیں جوانی رات دن
زندگی مین خشک سالی ہے مگر
آنکھ میں ہے اب بھی پانی رات دن
جانتے ہیں چاند سورچ سب مجھے
جاگنا عادت پُرانی رات دن
ہے حقیقت سب کو ہے اس کی خبر
زندگی فانی ہے فانی رات دن
ہم فقیروں کو تو کچھ آتا نہیں
اک صدا ہی بس لگانی رات دن
آنکھ کو میری یہ کیسا غم لگا
اس میں رہتی ہے روانی رات دن
دل جلے یا پھر جلے کوئی دیا
آگ ہے ہم نے جلانی رات دن
اس کے چہرے سے مجھے لگتا ہے یوں
یہ بھی لکھتا ہے کہنانی رات دن
اک دیا رکھا ہے ہم نے بام پر
جل رہی ہے بس جوانی رات دن
اس نگر سے اس نگر ہجرت نا کی
ہجر میں ہے زندگانی رات دن
شعر کہنے کے لیے خرم ابھی
جان ہے تم کو لگانی رات دن
خرم شہزاد خرم
شمشاد — اگست 8، 2008 8:52 صبح
دل جلے یا پھر جلے کوئی دیہ
آگ ہے ہم نے جلانی رات دن
بہت اچھے خرم بھائی، اس کے بخیئے تو اساتذہ کرام ہی ادھیڑیں گے، لیکن میری طرف سے داد وصول فرمائیں۔
حسن علوی — اگست 8، 2008 8:57 صبح
بہت اچھی کوشش ھے خرم۔ شئیر کرنے کا شکریہ
خرم شہزاد خرم — اگست 8، 2008 11:30 صبح
بہت شکریہ پسند کرنے کا
محمد وارث — اگست 8، 2008 11:38 صبح
اچھی غزل ہے خرم صاحب!
الف عین — اگست 8، 2008 6:18 شام
غزل تو اچھی ہے لیکن اگر اصلاح سخن والی فورم میں ہوتی تو کچھ کہتا بھی۔ فی الحال تو داد قبول کرو۔
فرخ منظور — اگست 8، 2008 6:25 شام
اچھی غزل ہے خرم-
خرم شہزاد خرم — اگست 9، 2008 8:28 صبح
سر جی یہاں بھی اصلاح کر سکتے ہیں آپ
الف عین — اگست 9، 2008 11:50 صبح
پہلی بات۔۔۔ اس شعر میں ردیف ’رات دن‘ بے معنی ہیں:
ہے حقیقت سب کو ہے اس کی خبر
زندگی فانی ہے فانی رات دن
دل جلے یا پھر جلے کوئی دیہ۔
اک دیہ رکھا ہے ہم نے بام پر
۔ درست ’دیا‘
فرخ منظور — اگست 9، 2008 12:18 شام
اعجاز صاحب معذرت کے ساتھ لیکن مجھے یہ سمجھ میں نہیں‌ آیا کہ "رات دن" ردیف کیوں نہیں ہو سکتے؟ براہِ مہربانی روشنی ڈالیے گا -
جہاں تک بے معنی ہونے کا سوال ہے تو غالب نے کہا تھا -
رات دن گردش میں ہیں زمین و آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
بہت شکریہ!
محمد وارث — اگست 11، 2008 7:55 صبح
فرخ صاحب، میرے خیال میں اعجاز صاحب نے 'رات دن' ردیف ہونے پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس مخصوص شعر کی طرف اشارہ کیا ہے جو انہوں نے لکھا ہے کہ اس شعر میں ردیف مہمل ہے۔
خرم شہزاد خرم — اگست 11، 2008 8:02 صبح
سر باقی غزل کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں مہربانی فرما کر اپنی رائے دےشکریہ
الف عین — اگست 11، 2008 8:13 صبح
میں نے جواب دیا تھا لیکن آج محفل میں پھر سرور پرابلم تھی جو پوسٹ نہیہں ہو سکا۔
وارث کی بات درست ہے۔ میرا کہنے کا مطلب یہی تھا کہ زندگی کا رات دن فانی ہونا درست بیان نہیں۔ اس لئے مہمل ہے۔
باقی کل میں نے تمہاری دونوں غزلوں پر اظہار کر کے رکھا تھا لیکن گھر میں نیٹ دھوکا دے گیا رات کو، اور اس وقت وہ فائل میری فلیش ڈسک میں نیہیں ہے۔ گھر کے لیپ ٹاپ میں ہی کیا تھا شاید۔
الف عین — اگست 11، 2008 5:59 شام
خرم۔۔ آپریشن حاضر ہے:
ایک قصہ اک کہانی رات دن
یاد کرتے ہیں جوانی رات دن
درست
زندگی مین خشک سالی ہے مگر
آنکھ میں ہے اب بھی پانی رات دن
اب بھی کے ساتھ رات دن؟ یہ مہمل ہے
آنکھ میں رہتا ہے پانی رات دن کر دو
جانتے ہیں چاند سورج بھی مری
جاگنا عادت پُرانی رات دن
چلے گا، اگرچہ بیان میں کچھ کمی سی ہے، الفاظ کی نشست دوسرے مصرع میں۔
ہے حقیقت سب کو ہے اس کی خبر
زندگی فانی ہے فانی رات دن
یوں ی’رات دن‘ کا استعمال غلط ہے۔ پھر فانی ہے فانی سے ،طلب۔ اس شعر کو نکال ہی دو۔
ہم فقیروں کو تو کچھ آتا نہیں
اک صدا ہی بس لگانی رات دن
درست
آنکھ کو میری یہ کیسا غم لگا
اس میں رہتی ہے روانی رات دن
میری کر دیا ہے۔ اچھا شعر ہے
دل جلے یا پھر جلے کوئی دیا
آگ ہے ہم نے جلانی رات دن
ہم نے کچھ کرنا پنجابی ہے اردو نہیں۔ اردو میں ’ہم کو‘ کا محل ہے۔
آگ ہے ہم کو جلانی ۔۔
اس کے چہرے سے مجھے لگتا ہے یوں
یہ بھی لکھتا ہے کہانی رات دن
اچھا شعر ہے درست۔
اک دیا رکھا ہے ہم نے بام پر
جل رہی ہے بس جوانی رات دن
مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔ جوانی کس طرح جلتی ہے بام پر دیا رکھنے سے؟ کچھ تبدیئل کرو تو سوچا جائے۔
اس نگر سے اس نگر ہجرت نا کی
ہجر میں ہے زندگانی رات دن
ہجرت نہ کی‘ ہونا چاہئے۔ لیکن مطلب یہاں بھی گڑبڑ ہے۔جب ہجرت نہیں کی تو اس کا تعلق زندگی میں ہجر سے ؟؟ مراد؟
خرم شہزاد خرم — اگست 12، 2008 5:49 صبح
شعر کہنے کے لیے خرم ابھی
جان ہے تم کو لگانی رات دن
اور یہ اس کا کیا بنا اس پر تو کوئی رائے نہیں ہے آپ کی
ایم اے راجا — اگست 18، 2008 11:06 صبح
خرم بھائی اور تما م اہلِ محفل السلام علیکم۔
کافی دن سے باہر ہوں اور نیٹ کی سہولت میسر نہیں آج مفت کا ہاتھ لگا ہے تو سوچا محفل کی خبر لو ں۔
خرم بہت اچھی غزل ہے مبارک ہو۔
مغزل — اگست 18، 2008 11:21 صبح
زندگی مین خشک سالی ہے مگر
آنکھ میں ہے اب بھی پانی رات دن
ہم فقیروں کو تو کچھ آتا نہیں
اک صدا ہی بس لگانی رات دن
شعر کہنے کے لیے خرم ابھی
جان ہے تم کو لگانی رات دن
خرم شہزاد خرم

شاباش خرم بھیا۔۔ ماشااللہ بہت خوب
سارہ خان — اگست 18، 2008 11:41 صبح
بہت خوب خرم اچھی غزل ہے ۔۔
خرم شہزاد خرم — اگست 19، 2008 4:52 صبح
خرم بھائی اور تما م اہلِ محفل السلام علیکم۔
کافی دن سے باہر ہوں اور نیٹ کی سہولت میسر نہیں آج مفت کا ہاتھ لگا ہے تو سوچا محفل کی خبر لو ں۔
خرم بہت اچھی غزل ہے مبارک ہو۔

ارے راجا بھائی کیسے ہیں اور سنائے پنجاب کیسا لگا آپ کو غزل پسند کرنے کا شکریہ
خرم شہزاد خرم — اگست 19، 2008 4:53 صبح
شاباش خرم بھیا۔۔ ماشااللہ بہت خوب

بہت شکریہ سر جی آپ کی حوصلہ افزائی کی بہت ضرورت ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%82%D8%B5%DB%81-%D8%A7%DA%A9-%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%AF%D9%86.14299/