ایک قطعہ:: از ::فرحان سموں فرحان

محمد فرحان سموں — اپریل 25، 2019 9:08 صبح
اپنا ظاہر جمال کرتے ہو
اتنا کاہے وبال کرتے ہو
جانتے ہو مِری غریبی کو
کس لیے پھر سوال کرتے ہو
عظیم — اپریل 25، 2019 10:06 صبح
اپنا ظاہر جمال کرتے ہو
اتنا کاہے وبال کرتے ہو
جانتے ہو مِری غریبی کو
کس لیے پھر سوال کرتے ہو
دوسرا شعر اچھا ہے
لیکن پہلا
الفاظ کی نشست بدلنے سے بہتر ہو جائے گا
ظاہر اپنا جمال کرتے ہو
کاہے اتنا وبال کرتے ہو
مگر دوسرے شعر کے ساتھ اس کا کوئی تعلق سمجھ میں نہیں آ رہا۔ قطعہ ہے تو دونوں اشعار میں ربط ہونا چاہیے تھا
معذرت کہ آپ نے اصلاح کے لیے پیش نہیں کیا لیکن پھر بھی یہ سب لکھ رہا ہوں۔
محمد فرحان سموں — اپریل 26، 2019 11:29 شام
جناب یہ میری غزل کے دو مصرعے ہیں. جو کہ صرف پہلی مرتبہ یہاں چیک کرنے کے لیے پوسٹ کیے تھے.
محمد فرحان سموں — اپریل 26، 2019 11:32 شام
میں اردو محفل کی اس ویب سائٹ پر پہلی بار لاگ ان ہوا ہوں. آپ کی اصلاح کا شکریہ.
عظیم — اپریل 27، 2019 8:53 صبح
جناب یہ میری غزل کے دو مصرعے ہیں. جو کہ صرف پہلی مرتبہ یہاں چیک کرنے کے لیے پوسٹ کیے تھے.
کیا غزل ابھی مکمل نہیں ہوئی؟ اس طرح تو یہ دو اشعار کہلائے جاتے جن کا آپس میں ربط ضروری نہیں
محمد فرحان سموں — اپریل 28، 2019 7:54 صبح
مکمل غزلیں پھی مراسلے میں ڈالی جائیں گی. فلحال یہ ویب سائٹ سمجھ رہا ہوں.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%82%D8%B7%D8%B9%DB%81-%D8%A7%D8%B2-%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D9%85%D9%88%DA%BA-%D9%81%D8%B1%D8%AD%D8%A7%D9%86.106564/