زھرا علوی — اپریل 16، 2008 10:24 صبح
"شام کی بے طلب اداسی میں
ہاتھ اٹھتے نہیں دعا کے لیئے
کس کو فرصت ہے اور کس کو غرض
کون تنکے چنے ہوا کے لیئے"۔۔۔۔۔۔
زہرا علوی
ابن سعید — اپریل 16، 2008 10:40 صبح
میں نے بلاگ پر تو تبصرہ کر ہی دیا تھا اس شعر پر

محسن حجازی — اپریل 16، 2008 10:58 صبح
بہت اچھے۔۔۔ کون تنکے چنے ہوا کے لیے ۔۔۔
محب علوی — اپریل 16، 2008 11:02 صبح
اچھا قطعہ ہے
اس سے قطع نظر کیا صاحبہ بلاگ بھی ہیں زہرا علوی
زھرا علوی — اپریل 16، 2008 6:42 شام
پسندیدگی کا شکریہ

جی ہاں بلاگ پہ بھی تھوڑا کام کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
http://tatheer.wordpress.com
ابن سعید — اپریل 16، 2008 6:47 شام
اچھا قطعہ ہے
اس سے قطع نظر کیا صاحبہ بلاگ بھی ہیں زہرا علوی
ملاحظہ فرمائیں
یہ دھاگہ
الف عین — اپریل 16، 2008 7:33 شام
بہت عمدہ۔ مبارک ہو زہرا۔ کہتی رہو۔۔
حسن علوی — اپریل 16، 2008 11:02 شام
بہت اچھا لکھا زھرا آپ نے۔ جاری رکھیئے