ایک مختصر تازہ نظم

سید انور جاوید ہاشمی — مئی 4، 2008 12:25 صبح
[آپ کی بصارتوں کی نظر ایک نظم
رفوگر میں اگر ہوتا رفوکرتا میں پیراہن
گلابوں کے (خیالوں میں)
جنھیںسفاک ہاتھوں نے اتارا شاخ سے
پھر بے لبادہ کردیا اُن کو( کہ خوشبو کھوچکی رنگت اُڑی)/مچھیرا ہوتا تو گہرے سمندر سے سنہرے جال لے کر میں پکڑتا مچھلیاں تنہا
یہ کار عشق گو ہوتا نہیں آساں
اگر ہوتا میں شہزادہ
سدھارتھ کی طرح اپنی بیاہتا چھوڑ کر
نروان ساگر میں اُترجاتا (زمانوں سے گزرجاتا)
مری تاریخ کے اچھے برے کردار اتنے ہیں
فلک پر تارے جتنے ہیں
ستارہ در ستارہ،کہکشاں در کہکشاں
چلتے رہو،دیکھو، سنو لیکن۔۔۔زباں سے کچھ نہیں کہنا سید انور جاوید ہاشمی
الف عین — مئی 4، 2008 6:46 صبح
اچھی نظم ہئے ہاشمی صاحب۔۔ بس ایک توجہ۔۔
سدھارتھ کا تلفظ Siddharth ہےSiddarath نہیں جسطرح آپ نے یہاں باندھا ہے۔ فعولن کے وزن پر۔
محمد وارث — مئی 4، 2008 10:36 صبح
بہت اچھی نظم ہے ہاشمی صاحب، لاجواب
مغزل — جنوری 8، 2009 9:55 صبح
ہاشمی صاحب یہاں تشریف لانے کو شکریہ قبول کیجیے۔
نظم پسند آئی ۔ امیدہے کرم فرماتے رہیں گے
ارشد خان — جنوری 9، 2009 6:50 صبح
سلام انور ہا شمی صا حب
آپ نے نظم کا عنوان نہیں لکھا ۔ عنوان سے نظم کا پتہ چلتا ہے ۔ کیوں ؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D9%86%D8%B8%D9%85.12119/