ایک مختلف مکالمہ

کاشف اسرار احمد — جون 17، 2015 11:39 صبح
ایک مختلف مکالمہ پیش ہے ... سوال و جواب کی شکل میں..
احباب کی آراء اور مشوروں کا منتظر رہونگا ... نوازش
-----------------------------------------------------------------
سوال:
اے مری صبحِ درخشاں، تری فرقت کا عذاب
چشمِ گریہ سے رواں اور رہے گا کب تک؟
جواب:
جب تلک روح سے لپٹا حِسِ ادراک رہے
لذّتِ غم کے سبھی دریا رواں ہیں تب تک !
سوال:
اک جنوں مجھ سے جو لپٹا ہے یوں طعنہ زن ہے
فہم و دانش سے بتا تیری نبھے گی کب تک؟
جواب:
اے مرے ہجر کے ساتھی، ذرا دو چار گھڑی!!
یہ جو غم خوار دکھے ہیں، یہ رکینگے، تب تک ؟!
سوال:
اُس کی قربت کے سویرے پہ سیاہی کا نقاب
مجھے بتلاؤ رفیقو کہ رہے گا کب تک ؟
جواب:
یہ حقیقت ہے کہ، ماہ رخ ترا، اب تک نہ ملا
دل سے باندھے جا نشانے، انہیں لعلیں لب تک !:p
سید کاشف
-------------------------------------------------------------

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81.82860/