ایک نئی غزل - تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

محمد وارث — اگست 28، 2009 9:14 صبح
ایک تازہ غزل سب احباب کی خدمت میں دست بدستہ پیش کر رہا ہوں امید ہے اپنی قیمتی رائے سے اس خاکسار کو نوازیں گے۔

تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے
بخشی گئی بہشت مجھے کس حساب میں؟
دوزخ میں کس بنا پہ جلایا گیا مجھے؟
چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سُلایا گیا مجھے
بیدادِ دہر نے جو کیا سنگ دل ہمیں
تو کربلا دکھا کے رُلایا گیا مجھے
تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
یوں ہی نہیں یہ علم سکھایا گیا مجھے
فرخ منظور — اگست 28، 2009 9:32 صبح
واہ واہ! کیا خوبصورت غزل کا نزول ہوا ہے قبلہ! بہت مبارک ہو! :)
دل پاکستانی — اگست 28، 2009 9:45 صبح
واہ سبحان اللہ۔ خوبصورت غزل کیلیے بیحد شکریہ جناب۔
فاتح — اگست 28، 2009 10:07 صبح
سبحان اللہ سبحان اللہ! اس خوبصورت تخلیق پر بے پناہ مبارک باد۔
ہر ایک شعر اپنی ذات میں انتہائی معنی آفریں ہے۔ سماں باندھ دیا ہے قبلہ۔ خصوصاً ذیل کے اشعار کا تو جواب نہیں:
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے
چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سُلایا گیا مجھے​
مغزل — اگست 28، 2009 10:28 صبح
کیا کہنے وارث صاحب ، واہ ، بہت خوب ماشا اللہ ، بہت خوب غزل ہے ، ’’ اثر پزیری ‘‘ کا جواب نہیں ،و اہ واہ
الف نظامی — اگست 28، 2009 11:00 صبح
بہت خوب!!!
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
بیدادِ دہر نے جو کیا سنگ دل ہمیں
تو کربلا دکھا کے رُلایا گیا مجھے
کاشفی — اگست 28، 2009 11:08 صبح
ماشاء اللہ۔۔ بہت ہی عمدہ بہت ہی خوب۔۔ پوری غزل ہی عمدہ ہے۔۔تمام اشعار عمدہ و لاجواب۔۔۔ آپ کا شمار تو اساتذہ اور کلاسیکل شعراء کرام میں ہونا چاہیئے جناب! ماشاء اللہ
فرخ منظور — اگست 28، 2009 11:22 صبح
کیا کہنے وارث صاحب ، واہ ، بہت خوب ماشا اللہ ، بہت خوب غزل ہے ، ’’ اثر پزیری ‘‘ کا جواب نہیں ،و اہ واہ

ذ سے اثر پذیری
محمد وارث — اگست 28، 2009 2:47 شام
آپ سب دوستوں کی محبتوں کا بہت شکریہ، خاکسار کا سر زیرِ بارِ احسان ہے :)
واہ واہ! کیا خوبصورت غزل کا نزول ہوا ہے قبلہ! بہت مبارک ہو! :)

بہت شکریہ حضور!
واہ سبحان اللہ۔ خوبصورت غزل کیلیے بیحد شکریہ جناب۔

بہت شکریہ سعد، نوازش!
سبحان اللہ سبحان اللہ! اس خوبصورت تخلیق پر بے پناہ مبارک باد۔
ہر ایک شعر اپنی ذات میں انتہائی معنی آفریں ہے۔ سماں باندھ دیا ہے قبلہ۔ خصوصاً ذیل کے اشعار کا تو جواب نہیں:
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے​

سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے​

چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں​

قسمت کی لوری دے کے سُلایا گیا مجھے​

ذرہ نوازی ہے آپ کی حضور، نوازش آپ کی!
کیا کہنے وارث صاحب ، واہ ، بہت خوب ماشا اللہ ، بہت خوب غزل ہے ، ’’ اثر پزیری ‘‘ کا جواب نہیں ،و اہ واہ

نوازش مغل صاحب اور بہت شکریہ بندہ پرور اس تبصرے اور 'تاثر' کیلیے!
بہت خوب!!!
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
بیدادِ دہر نے جو کیا سنگ دل ہمیں
تو کربلا دکھا کے رُلایا گیا مجھے

بہت شکریہ نظامی صاحب، نوازش۔
ماشاء اللہ۔۔ بہت ہی عمدہ بہت ہی خوب۔۔ پوری غزل ہی عمدہ ہے۔۔تمام اشعار عمدہ و لاجواب۔۔۔ آپ کا شمار تو اساتذہ اور کلاسیکل شعراء کرام میں ہونا چاہیئے جناب! ماشاء اللہ

ارے نہیں بھائی، کہاں یہ بندۂ کمینہ اور کہاں اساتذہ، میں تو ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کے بھی قابل نہیں، بہت شکریہ آپ کی محبت کیلیے، نوازش برادرم۔
ملائکہ — اگست 28، 2009 3:52 شام
بہت خوبصورت غزل لکھی ہے:)
الف عین — اگست 28، 2009 5:43 شام
ایک بار پھر۔۔ جیو وارث
محمد وارث — اگست 29، 2009 5:27 صبح
بہت خوبصورت غزل لکھی ہے:)

بہت شکریہ ملائکہ، نوازش :)
ایک بار پھر۔۔ جیو وارث

سیروں خون بڑھ گیا اعجاز صاحب :)
نوازش قبلۂ من۔
عمران شناور — اگست 29، 2009 5:33 صبح
ماشاء اللہ بہت خوبصورت غزل ہے۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔
محمد وارث — اگست 29، 2009 9:00 صبح
بہت شکریہ عمران صاحب، نوازش
جیہ — اگست 29، 2009 11:45 صبح
واہ واہ پیر و مرشد ۔ لا جواب
یہ دو شعر واقعی لا جواب ہیں
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے
دوسرے شعر میں کہیں میرے طرف تو اشارہ نہیں:)
ظفری — اگست 29، 2009 12:12 شام
مزا آگیا پڑھ کر وارث بھائی ۔۔۔۔۔ بہت خوب ۔
بہت ہی اعلی غزل ہے ۔ مطلع تو ہمیں اپنا حسب ِ حال لگا :
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
بہت اعلیٰ ۔
محمد وارث — اگست 30، 2009 6:18 صبح
واہ واہ پیر و مرشد ۔ لا جواب
یہ دو شعر واقعی لا جواب ہیں
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے
دوسرے شعر میں کہیں میرے طرف تو اشارہ نہیں:)

بہت شکریہ جیہ، نوازش آپ کی!
اور اللہ نہ کرے کہ میرا اشارہ آپ کی طرف ہو، یہ اشارہ فی الحال انکی طرف ہے جو 'اٹھائے' جا چکے :)
مزا آگیا پڑھ کر وارث بھائی ۔۔۔۔۔ بہت خوب ۔
بہت ہی اعلی غزل ہے ۔ مطلع تو ہمیں اپنا حسب ِ حال لگا :
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
بہت اعلیٰ ۔

بہت شکریہ ظفری بھائی، نوازش آپ کی :)
زرقا مفتی — اگست 30، 2009 6:52 صبح
بہت خوب
وارث صاحب
غزل کے بیشتر اشعار پسند آئے
میری جانب سے داد قبول کیجیے
والسلام
زرقا
سلیمان جاذب — اگست 30، 2009 9:34 صبح
ماشااللہ وارث بھائی بہت خوب
آصف شفیع — اگست 30، 2009 10:32 صبح
محترم وارث صاحب! بہت عمدہ کلام ہے۔ لہجے میں اقبال سا طمطراق نظر آتا ہے۔ غزل کی خوبصورتی یہ ہے کہ موجودہ عہد میں کہی جانے والی غزل سے ہٹ کر ہے اور نمایاں ہے۔ منفرد غزل لکھنے پر مبارکباد قبول ہو۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%D9%86%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92.24898/