ایک نظم-- معجزہ ۔۔۔ نوید صادق

نوید صادق — جنوری 1، 2010 8:34 صبح
نوید صادق
معجزہ​

ہمارے ہاتھ کٹنے سے بہت پ
ہلے
سُنا ہے، لوگ کہتے تھے
”یہاں اک شہسوار آئے گا
جس کی چاپ سے دیوارِ استبداد میں رخنے پڑیں گے
ملائک آسمانوں سے اُتر آئیں گے اُس کے ساتھ چلنے کو
وہ اپنے گُرزِ ہیبت ناک سے،تلوار سے
خوشحالیوں کے عہد کی بُنیاد رکھے گا“
بہت ممکن ہے
اب بھی لوگ کہتے ہوں
”یہاں اک شہسوار آئے گا
جس کی چاپ ---- !!!! “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ںوید صادق)
مغزل — جنوری 1، 2010 9:04 صبح
اے ہے ۔۔ اف فففف۔۔۔
سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، ۔۔۔ نوید بھائی جواب نہیں ، ۔ کمال تاثر ہے نظم کا، مجھے تو لگتا ہے روایت شکنی میں آپ ہمیں اپنا مرید قبول کرہی لیں گے ، کمال اوج پر ہے نظم اپنی حسیت، نفسِ مضمون ، اتار چڑھاؤ،دروبست اور وحدتِ تاثر۔۔۔ ایک سے ایک ندرت ایک ایک کمال ، اس پرسہاگہ کہ نظم طویل نہیں ، حالانکہ موضوع مکمل نشست کا متقاضی ہے ، ۔۔ سب سے بڑی بات کہ نظم کا مزاج سرگوشی پر منطبق ہے اور قصہ خوانی کی مجلس میں مجلسیوں کے چہروں پر زرد الاؤ کے رنگ میں بے یقینی کی گومگوں کیفیت چھوڑتا ہوا۔۔۔۔ ایں سعادت بزورِ بازو نیست، کاش مجھے دست بوسی کا شرف حاصل ہوتا آپ سے۔۔
نوید صادق — جنوری 1، 2010 9:09 صبح
کاش مجھے دست بوسی کا شرف حاصل ہوتا آپ سے۔۔
آپ ہمیں شرمندہ کرنے کی ایک عدد ناکام کوشش کر رہے ہیں!!:)
عمران شناور — جنوری 1، 2010 9:31 صبح
زبردست نوید صادق صاحب! بہت خوب
مغزل — جنوری 1، 2010 10:45 صبح
آپ ہمیں شرمندہ کرنے کی ایک عدد ناکام کوشش کر رہے ہیں!!:)

قبلہ ، نہ تو مجھے منافقت آتی ہے اور نہ شعوری طور پر ایسا کرتا ہوں ۔ سو میرے بیان کوشرمندہ کرنے کے تناظر میں مت لیجیے ۔
اے کاش کے میں روانی میں دست بوسی کی بجائے قدم بوسی لکھ جاتا ۔اے کاش
ملائکہ — جنوری 1، 2010 10:50 صبح
مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آئی:(
مغزل — جنوری 1، 2010 11:18 صبح
اوہ۔۔ گڑیا ۔۔ کیا میں کوشش کروں‌سمجھانے کی ؟؟
(‌اس نظم پر ایک تنقیدی مضمون لکھا جاسکتا ہے ، انشا اللہ تفہیم آسان ہوجائے گی )
نوید صادق — جنوری 1، 2010 11:36 صبح
مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آئی:(
دست بوسی؟ قدم بوسی؟ یا نظم؟
مغزل — جنوری 1، 2010 11:42 صبح
تینوں ۔ ہاہاہا ۔۔ نوید بھائی ۔ یہ اپنی ملو بٹیا ایسی ہی شرارتی ہیں‌۔۔
آصف شفیع — جنوری 1، 2010 11:47 صبح
نوید صاحب، بہت عمدہ نظم کہی ہے۔ اس نظم کی خوبی اس کا اختصار اور جامیعیت ہے۔ ملائکہ صاحبہ کو نظم شاید ڈرامائی اختتمام کی وجہ سے سمجھ نہیں آئی۔
مغزل — جنوری 1، 2010 11:49 صبح
میں بتاؤں آصف بھائی ۔۔۔۔ ؟؟/
انہیں بہت سے لفظ سمجھ نہیں آئے ۔۔۔
ملائکہ — جنوری 1، 2010 12:49 شام
جی ہاں بالکل:party:
فرخ منظور — جنوری 1، 2010 3:47 شام
بہت خوب نظم ہے۔ واہ واہ! نوید بھائی، آپ کے نظمیں تو غزلوں سے بازی لیتی جا رہی ہیں۔ بہت داد قبول فرمائیں۔ :)
S. H. Naqvi — جنوری 1، 2010 6:51 شام
سب مایا ہے۔
S. H. Naqvi — جنوری 1، 2010 6:53 شام
معجزہ
ہمارے ہاتھ کٹنے سے بہت پہلے
سُنا ہے، لوگ کہتے تھے
”یہاں اک شہسوار آئے گا
جس کی چاپ سے دیوارِ استبداد میں رخنے پڑیں گے
ملائک آسمانوں سے اُتر آئیں گے اُس کے ساتھ چلنے کو
وہ اپنے گُرزِ ہیبت ناک سے،تلوار سے
خوشحالیوں کے عہد کی بُنیاد رکھے گا“
بہت ممکن ہے
اب بھی لوگ کہتے ہوں
”یہاں اک شہسوار آئے گا
جس کی چاپ ---- !!!! “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ںوید صادق
مغزل — جنوری 1، 2010 7:52 شام
نقوی صاحب اپنا تعار ف باقائدہ دیجے ، تعارف کی لڑی میں ویسے آپ کا تکیہ کلام ” سب مایہ ہے ’’ بھی خوب تعارف ہے ۔
شاہ حسین — جنوری 1، 2010 9:30 شام
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباس مجاز میں ۔
بہت خوب جناب نوید صادق صاحب نہایت عمدہ نظم ہے ۔
الف عین — جنوری 3، 2010 6:37 صبح
واہ نوید۔ واقعی کیا ڈرامائی نظم کہی ہے۔ ماشاء اللہ۔ لگتا ہے کہ نظموں کا ایک مجموعہ ہونے والا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%DB%81-%DB%94%DB%94%DB%94-%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF-%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82.27530/