محمد اظہر نذیر — اکتوبر 19، 2011 8:58 صبح
تواتر
کبھی دیکھی ہے کیا تُم نے
ٹپکتی بوند پانی کی
کسی پتھر زمیںپر بھی
فقط گر کے تواتر سے
زمیں میں چھید کرتی ہے
اُ سی اک بوند کی مانند
میں ٹپکوں گا تواترسے
تمھارے سنگ سے دل میں
کبھی تو چھید کردوں گا۔
محمداحمد — نومبر 18، 2011 8:24 صبح
بہت خوب !
اگر تحریری اردو میں ہوتی تو پھر کیا ہی بات تھی۔
مغزل — نومبر 18، 2011 9:57 صبح
تواتر
کبھی دیکھی ہے کیا تُم نے
ٹپکتی بوند پانی کی
کسی پتھر زمیںپر بھی
فقط گر کے تواتر سے
زمیں میں چھید کرتی ہے
اُ سی اک بوند کی مانند
میں ٹپکوں گا تواترسے
تمھارے سنگ سے دل میں
کبھی تو چھید کردوں گا۔
پیارے بھائی اظہر ۔ تحریری شکل میں شامل کیجے ۔۔
نظم اپنی معنویت میں خوب ہے ۔۔ باقی باتیں اگر اجازت ہو تو عرض کروں گ۔
دعا گو: م۔م۔مغل
الف عین — نومبر 19، 2011 4:53 صبح
اچھی نظم ہے، بس ذرا لفظ ‘چھید‘ کھٹک رہا ہے۔
مغزل — نومبر 19، 2011 5:13 صبح
بالکل بابا جانی ۔ یہ لفظ نظم اور غزل کا ہے ہی نہیں ۔ ۔۔
پھر مجھے اس منظوم اظہارِ کیف میں اقدار کشی کی بُو بھی آرہی ہے ۔۔
کہ محبوب سے ایسا مکالمہ تھڑے پاٹے کی بولیوں میں تو روا ہو تو ہو۔۔
ذاتی مسئلہ ہو تو ہو۔ مگرا دبی زبان کا حصہ نہیں ۔۔
محمد اظہر نذیر — دسمبر 14، 2011 11:28 صبح
تواتر
کبھی دیکھی ہے کیا تُم نے
ٹپکتی بوند پانی کی
کسی پتھر زمیںپر بھی
فقط گر کے تواتر سے
زمیں میں چھید کرتی ہے
اُ سی اک بوند کی مانند
میں ٹپکوں گا تواترسے
تمھارے سنگ سے دل میں
کبھی تو چھید کردوں گا۔
پیارے بھائی اظہر ۔ تحریری شکل میں شامل کیجے ۔۔
نظم اپنی معنویت میں خوب ہے ۔۔ باقی باتیں اگر اجازت ہو تو عرض کروں گ۔
دعا گو: م۔م۔مغل
محترم ، نیکی اور پوچھ پوچھ؟
محمد اظہر نذیر — دسمبر 14، 2011 11:29 صبح
اچھی نظم ہے، بس ذرا لفظ ‘چھید‘ کھٹک رہا ہے۔
محنت وصول ہو گءی
مغزل — دسمبر 14، 2011 11:30 صبح
بھائی آپ کی آمد سے قبل بابا جانی ارشاد فرما ہی چکے ہیں ۔۔ میرا اسی جانب اشارہ مقصود تھا۔۔ باقی تو مختصراً لکھ ہی دیا تھا۔۔
مغزل — دسمبر 14، 2011 11:31 صبح
بھائی اپنے پہلے مراسلے میں تصویر ہٹا کر تحریر کو شامل کرلیں تو مناسب رہے گا۔ شکریہ
محمد اظہر نذیر — دسمبر 14، 2011 11:32 صبح
بھائی اپنے پہلے مراسلے میں تصویر ہٹا کر تحریر کو شامل کرلیں تو مناسب رہے گا۔ شکریہ
جی بہتر ہے
مغزل — دسمبر 14، 2011 11:37 صبح
خوش رہو بھیا۔ اور ایک کام اگر ناگوار نہ گزرے تو۔۔
یہ کہ ن م راشد، مجید امجد، اخترالایمان ، فیض صاحب سمیت مشاہیر کی نظمیات کا مطالعہ عادت بنا لیں تو نظم کے برتاؤ پر انشا اللہ عبور حاصل ہوجائے گا۔۔
اور ان سوالات کا شافی جواب ملے گا کہ نظم کیسے کہتے ہیں کیوں کہتے ہیں اور نظم کب کہتے ہیں ؟؟۔۔۔ امید ہے برا نہ مناؤ گے۔۔