ایک نظم ۔۔۔ یہ شہر بیمار ہے طبیبو!

بشارت گیلانی — جنوری 1، 2014 5:56 شام
یہ لوگ جو شہر کی رگوں میں،
لہو کی مانند دوڑتے ہیں،
یہ لوگ جو اس کی زندگی ہیں،
یہ لوگ خود زندگی کی صورت بھی دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔
یہ شہر بیمار ہے طبیبو!
یہ کیسا آزار ہے طبیبو؟
محمد یعقوب آسی — جولائی 2، 2014 10:36 شام
اچھی نظم ہے! مختصر اور پر تاثیر! داد قبول کیجئے۔
بشارت گیلانی — جولائی 11، 2014 4:05 صبح
ذرہ نوازی ہے آسی صاحب۔ آپ کی حوصلہ افزائی میرے لئے بہت خاص اہمیت رکھتی ہے۔
جواب میں تاخیر کی معذرت۔
الف عین — جولائی 11، 2014 10:56 صبح
واہ واہ، اچھی نظم ہے
ندیم مراد — جولائی 22، 2014 1:48 صبح
بہت خوب گیلانی صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94%DB%94%DB%94-%DB%8C%DB%81-%D8%B4%DB%81%D8%B1-%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%A8%D9%88.70780/