نوشین فاطمہ عبدالحق — اگست 16، 2015 11:08 صبح
نہ گرے ہیں کبھی اعداء , نہ ہی اغیار گرے
جب بھی نظروں سے گرے یار و نمک خوار گرے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جن کا آموختہ دہراتے رہے مور و صبا
ایک ٹھوکر پہ وہ ناداں سر بازار گرے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہمیں گرتا ہوا دیکھا تو وہ خوش ہو کے ہنسے
ہم اٹھے , پھر گرے , پھر اٹھ کے کئی بار گرے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مقصد زندگی بس ایک بچا ہے نوشی !
جیسے ممکن ہو بس اک دوجے کی دستار گرے
آوازِ دوست — اگست 16، 2015 11:12 صبح
ہمیں گرتا ہوا دیکھا تو وہ خوش ہو کے ہنسے
ہم اٹھے , پھر گرے , پھر اٹھ کے کئی بار گرے
واہ ! خوب کہا

اچھی غزل ہے
عاطف ملک — مارچ 30، 2017 9:12 شام
ہمیں گرتا ہوا دیکھا تو وہ خوش ہو کے ہنسے
ہم اٹھے , پھر گرے , پھر اٹھ کے کئی بار گرے
واہ،
بہت خوب نوشین صاحبہ!
تمنا ہے زمانہ ٹھوکروں پر اب ہمیں رکھ لے
کہ ہم کو چوٹ کھاتا دیکھ کر "وہ" مسکرائے ہیں
نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 31، 2017 6:20 صبح
واہ،
بہت خوب نوشین صاحبہ!
تمنا ہے زمانہ ٹھوکروں پر اب ہمیں رکھ لے
کہ ہم کو چوٹ کھاتا دیکھ کر "وہ" مسکرائے ہیں
سلامت رہیں ۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 31، 2017 6:33 صبح
نہ گرے ہیں کبھی اعداء , نہ ہی اغیار گرے
جب بھی نظروں سے گرے یار و نمک خوار گرے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جن کا آموختہ دہراتے رہے مور و صبا
ایک ٹھوکر پہ وہ ناداں سر بازار گرے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہمیں گرتا ہوا دیکھا تو وہ خوش ہو کے ہنسے
ہم اٹھے , پھر گرے , پھر اٹھ کے کئی بار گرے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مقصد زندگی بس ایک بچا ہے نوشی !
جیسے ممکن ہو بس اک دوجے کی دستار گرے
لا جواب اشعار
ظہیراحمدظہیر — اپریل 2، 2017 6:05 صبح
واہ! بہت خوب!
اگرچہ غزل اصلاح کے زمرے مین نہیں لیکن میرا مخلص مشورہ ہے کہ ایک دو غزلیں اصلاح سخن مین ضرور لگائیں ۔ آپ میں شعر کی اچھی اور فطری صلاحیت ہے ۔ اس محفل میں ایسے قابل اور ماہر لوگ موجود ہیں کہ جن کی رہنمائی سے آپ کے اشعار چمک سکتے ہیں ۔ استاد محترم الف عین صاحب کی موجودگی سےاستفادہ کریں ۔
فی الحال اس غزل کے دوسرے اور چوتھے اشعار کو ایک نظر اور دیکھ لیجئے ۔
کلیم گورمانی — اپریل 2، 2017 10:43 صبح
مقصد زندگی بس ایک بچا ہے نوشی !
جیسے ممکن ہو بس اک دوجے کی دستار گرے
خوب
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 2، 2017 10:52 صبح
ہمیں گرتا ہوا دیکھا تو وہ خوش ہو کے ہنسے
ہم اٹھے , پھر گرے , پھر اٹھ کے کئی بار گرے
لاجواب اور زبردست ۔