ایک پہیلی کے اشارات میں رہتا ہے وہ

احمد وصال — فروری 21، 2018 5:11 صبح
اک پہیلی کے اشارات میں رہتا ہے وہ
یوں مجسم سا میری ذات میں رہتا ہے وہ
بند آنکھوں سے اسے روز یہاں دیکھتا ہوں
ہاں مرے دل کے مضافات میں رہتا ہے وہ
اس کو بھولا ہوں ؟ تری بات غلط ہے صاحب
میری راتوں کی مناجات میں رہتا ہے وہ
میں نے اک بار بنایا تھا جسے پنسل سے
اسی خاکے کے نشانات میں رہتا ہے وہ
سوچتے سوچتے میں دور نکل آتا ہوں
کیوں کھڑا سوچتا ہر بات میں رہتا ہے وہ
دوجے لوگوں کو سکھاتا ہے کہ کیا بولنا ہے
خود کیوں گم صم سا ملاقات میں رہتا ہے وہ!
مجھ سےکوئی بھی نہیں پوچھتا احمد اس کا
جانتے سب ہیں جوابات میں رہتا ہے وہ
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 21، 2018 5:19 صبح
واہ ،بہت عمدہ غزل ہے ۔
اس کو بھولا ہوں ؟ تری بات غلط ہے صاحب
میری راتوں کی مناجات میں رہتا ہے وہ
لاجواب ،زبردست
احمد وصال — فروری 21، 2018 5:21 صبح
واہ ،بہت عمدہ غزل ہے ۔
لاجواب ،زبردست
بہت محبت محترم۔۔۔
محمد تابش صدیقی — فروری 21، 2018 5:31 صبح
بند آنکھوں سے اسے روز یہاں دیکھتا ہوں
ہاں مرے دل کے مضافات میں رہتا ہے وہ

اس کو بھولا ہوں ؟ تری بات غلط ہے صاحب
میری راتوں کی مناجات میں رہتا ہے وہ

میں نے اک بار بنایا تھا جسے پنسل سے
اسی خاکے کے نشانات میں رہتا ہے وہ

بہت خوب احمد وصال بھائی۔
بہت عرصہ بعد چکر لگایا۔ :)
احمد وصال — فروری 21، 2018 5:38 صبح
بہت خوب احمد وصال بھائی۔
بہت عرصہ بعد چکر لگایا۔ :)

جی محترم۔۔ کچھ تدریسی مصروفیات کچھ زندگی کی الجھنیں ۔۔ ان شاء اللہ اب حاضری ہوتی رہے گی
منیب الف — فروری 21، 2018 9:16 صبح
واہ، احمد بھائی! بہت اچھے اشعار :redrose:
احمد وصال — فروری 22، 2018 5:19 صبح
واہ، احمد بھائی! بہت اچھے اشعار :redrose:

بہت محبت محترم
سلامتی کی دعائیں
فاخر رضا — فروری 22، 2018 5:39 صبح
بہت خوب
میں نے اک بار بنایا تھا جسے پنسل سے
اسی خاکے کے نشانات میں رہتا ہے وہ
یہ ذرا اٹک رہا ہے
ظہیراحمدظہیر — فروری 23، 2018 3:18 صبح
واہ ! بہت خوب !
صاحب والے شعر کو ایک نظر دیکھ لیجئے ۔ شتر گربہ لگ رہا ہے اس میں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%BE%DB%81%DB%8C%D9%84%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%88%DB%81.100257/