ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی
شکر یہ ہے نہ کھلی گر وہ جوانی کھلتی
سب کو ہوتی نہیں محسوس مہکتی مسکان
ہر کسی پر تو نہیں رات کی رانی کھلتی
ثبت انعام سب اس کے ہیں جگر پر میرے
غیر پر کیسے بھلا اس کی نشانی کھلتی
تُو مری نرم مزاجی کی بلائیں لیتا
دوست تجھ پر جو مری شعلہ فشانی کھلتی
وہ سزا مجھ کو فلاں اور فلانی دیتا
بات اس پر جو فلاں اور فلانی کھلتی
جیسے کھلتی ہے کلی قطرہ ءِ شبنم پا کر
وہ مری آنکھ پہ، بھرتے ہوئے پانی کھلتی
عین ممکن تھا قمر شعر سے ظاہر ہوتی
وہ حقیقت نہ جو اشکوں کی زبانی کھلتی
قمر آسی
شکر یہ ہے نہ کھلی گر وہ جوانی کھلتی
سب کو ہوتی نہیں محسوس مہکتی مسکان
ہر کسی پر تو نہیں رات کی رانی کھلتی
ثبت انعام سب اس کے ہیں جگر پر میرے
غیر پر کیسے بھلا اس کی نشانی کھلتی
تُو مری نرم مزاجی کی بلائیں لیتا
دوست تجھ پر جو مری شعلہ فشانی کھلتی
وہ سزا مجھ کو فلاں اور فلانی دیتا
بات اس پر جو فلاں اور فلانی کھلتی
جیسے کھلتی ہے کلی قطرہ ءِ شبنم پا کر
وہ مری آنکھ پہ، بھرتے ہوئے پانی کھلتی
عین ممکن تھا قمر شعر سے ظاہر ہوتی
وہ حقیقت نہ جو اشکوں کی زبانی کھلتی
قمر آسی