اے شبِ ماتم تری فرقت میں گھبراتا ہوں میں

محمد ریحان قریشی — مئی 18، 2018 9:32 شام
آئنے کے سامنے یہ سر جھکا پاتا ہوں میں
غیر تو پھر غیر ہیں خود سے بھی شرماتا ہوں میں
اے غمِ ہستی مجھے یوں چھوڑ کر تنہا نہ جا
اے شبِ ماتم تری فرقت میں گھبراتا ہوں میں
جس سے آ جاتی ہے ہر مخفی حقیقت سامنے
وہ طلسمِ چشم بستن تجھ کو دکھلاتا ہوں میں
جس کے پہلو میں چھپے ہیں سب سوالوں کے جواب
آہ اس افسانۂ ہستی کو جھٹلاتا ہوں میں
گفتگو میری نہیں جز پیرویِ سامری
اس فسونِ عاجزی پر کتنا اتراتا ہوں میں
میں کہ ہوں بزمِ دو عالم کا وہ عیشِ دائمی
مدتِ رقصِ شرر میں ختم ہو جاتا ہوں میں
تو مجھے مل کر بھی اے ریحان ملتا ہی نہیں
جب بھی پاتا ہوں تجھے کھویا ہوا پاتا ہوں میں
محمد تابش صدیقی — مئی 18، 2018 9:43 شام
بہت خوب۔
اور مقطع تو لاجواب
تو مجھے مل کر بھی اے ریحان ملتا ہی نہیں
جب بھی پاتا ہوں تجھے کھویا ہوا پاتا ہوں میں
محمد ریحان قریشی — مئی 18، 2018 9:55 شام
بہت خوب۔
اور مقطع تو لاجواب
ذرہ نوازی آپ کی. بہت بہت شکریہ!
محمد وارث — مئی 19، 2018 6:20 صبح
اچھی غزل ہے قریشی صاحب!
الف عین — مئی 20، 2018 3:18 شام
کلاسیک!
اے خان — مئی 20، 2018 3:26 شام
بہت خوب جناب
محمد ریحان قریشی — مئی 20، 2018 4:05 شام
حوصلہ افزائی پر بے حد ممنون ہوں استادِ محترم.
بہت شکریہ! خوش رہیے.
محمد خرم یاسین — مئی 20، 2018 4:48 شام
آئنے کے سامنے یہ سر جھکا پاتا ہوں میں
غیر تو پھر غیر ہیں خود سے بھی شرماتا ہوں میں
اے غمِ ہستی مجھے یوں چھوڑ کر تنہا نہ جا
اے شبِ ماتم تری فرقت میں گھبراتا ہوں میں
جس سے آ جاتی ہے ہر مخفی حقیقت سامنے
وہ طلسمِ چشم بستن تجھ کو دکھلاتا ہوں میں
جس کے پہلو میں چھپے ہیں سب سوالوں کے جواب
آہ اس افسانۂ ہستی کو جھٹلاتا ہوں میں
گفتگو میری نہیں جز پیرویِ سامری
اس فسونِ عاجزی پر کتنا اتراتا ہوں میں
میں کہ ہوں بزمِ دو عالم کا وہ عیشِ دائمی
مدتِ رقصِ شرر میں ختم ہو جاتا ہوں میں
تو مجھے مل کر بھی اے ریحان ملتا ہی نہیں
جب بھی پاتا ہوں تجھے کھویا ہوا پاتا ہوں میں
واہ۔ بہت خو ب
محمد خرم یاسین — مئی 20، 2018 4:49 شام
آئنے کے سامنے یہ سر جھکا پاتا ہوں میں
غیر تو پھر غیر ہیں خود سے بھی شرماتا ہوں میں
اے غمِ ہستی مجھے یوں چھوڑ کر تنہا نہ جا
اے شبِ ماتم تری فرقت میں گھبراتا ہوں میں
جس سے آ جاتی ہے ہر مخفی حقیقت سامنے
وہ طلسمِ چشم بستن تجھ کو دکھلاتا ہوں میں
جس کے پہلو میں چھپے ہیں سب سوالوں کے جواب
آہ اس افسانۂ ہستی کو جھٹلاتا ہوں میں
گفتگو میری نہیں جز پیرویِ سامری
اس فسونِ عاجزی پر کتنا اتراتا ہوں میں
میں کہ ہوں بزمِ دو عالم کا وہ عیشِ دائمی
مدتِ رقصِ شرر میں ختم ہو جاتا ہوں میں
تو مجھے مل کر بھی اے ریحان ملتا ہی نہیں
جب بھی پاتا ہوں تجھے کھویا ہوا پاتا ہوں میں

ریحان بھائی ڈھیر ساری داد۔ خوبصورت کاوش۔
اپنی علمی کم مائیگی کے احساس کے ساتھ لب کشا ہوں۔۔۔۔
سر جھکا پاتا ہوں اس میں اشکال ہے کہ سر جھکا ہوا پاتا ہوں یا بمشکل تمام جھکاتا ہوں (ویسے یہ اشکال اس مصرعے کو خوبصورت بھی بنا رہا ہے)
اور خود سے کیوں شرماتے ہیں آئینہ دیکھ کر ریحان بھائی (محض شوخی سمجھ کر نظر انداز بھی کرسکتے ہیں :) )
ہائے دیوانگی "اے شبِ ماتم تری فرقت میں گھبراتا ہوں میں" (ورنہ معاملہ اس کے الٹ ہو تو زندگی کتنی سہانی ہے :) )
کافی سارے فلسفیانہ سوالات دماغ میں کلبلا رہے ہیں ۔۔۔ لیکن چلیے نہیں پوچھتا :
جس کے پہلو میں چھپے ہیں سب سوالوں کے جواب
آہ اس افسانۂ ہستی کو جھٹلاتا ہوں میں
کیا حقیقت ہے ۔۔۔ دنیا کے ہر حساس انساں یا کم از کم ہر شاعر کا المیہ (ویسے شوہروں کا المیہ بھی اس سے مختلف نہیں):
تو مجھے مل کر بھی اے ریحان ملتا ہی نہیں
جب بھی پاتا ہوں تجھے کھویا ہوا پاتا ہوں میں
فہد اشرف — مئی 20، 2018 6:34 شام
بہت خوب
محمد ریحان قریشی — مئی 20، 2018 7:41 شام
ریحان بھائی ڈھیر ساری داد۔ خوبصورت کاوش۔
اپنی علمی کم مائیگی کے احساس کے ساتھ لب کشا ہوں۔۔۔۔
سر جھکا پاتا ہوں اس میں اشکال ہے کہ سر جھکا ہوا پاتا ہوں یا بمشکل تمام جھکاتا ہوں (ویسے یہ اشکال اس مصرعے کو خوبصورت بھی بنا رہا ہے)
اور خود سے کیوں شرماتے ہیں آئینہ دیکھ کر ریحان بھائی (محض شوخی سمجھ کر نظر انداز بھی کرسکتے ہیں :) )
ہائے دیوانگی "اے شبِ ماتم تری فرقت میں گھبراتا ہوں میں" (ورنہ معاملہ اس کے الٹ ہو تو زندگی کتنی سہانی ہے :) )
کافی سارے فلسفیانہ سوالات دماغ میں کلبلا رہے ہیں ۔۔۔ لیکن چلیے نہیں پوچھتا :
جس کے پہلو میں چھپے ہیں سب سوالوں کے جواب
آہ اس افسانۂ ہستی کو جھٹلاتا ہوں میں
کیا حقیقت ہے ۔۔۔ دنیا کے ہر حساس انساں یا کم از کم ہر شاعر کا المیہ (ویسے شوہروں کا المیہ بھی اس سے مختلف نہیں):
تو مجھے مل کر بھی اے ریحان ملتا ہی نہیں
جب بھی پاتا ہوں تجھے کھویا ہوا پاتا ہوں میں
سر آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہماری تکبندی کو اس خوبصورت تبصرے کے قابل سمجھا۔
حمیرا عدنان — مئی 20، 2018 10:38 شام
خوبصورت غزل کہنے پر بہت سی داد قبول فرمائیے
محمد خرم یاسین — مئی 21، 2018 10:01 صبح
سر آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہماری تکبندی کو اس خوبصورت تبصرے کے قابل سمجھا۔
آپ کی محبت ہے ۔ جزاک اللہ خیرا
محمداحمد — مئی 23، 2018 8:34 صبح
بہت خوب!
عمدہ غزل ہے بھائی!
خوش رہیے۔ :)
عرفان سعید — مئی 23، 2018 8:44 صبح
جس کے پہلو میں چھپے ہیں سب سوالوں کے جواب
آہ اس افسانۂ ہستی کو جھٹلاتا ہوں میں
غزل کا جواب نہیں اور کمال ہے یہ شعر!
عباد اللہ — اگست 6، 2018 6:26 شام
بہت عمدہ غزل:redheart::redheart:
محمد ریحان قریشی — اگست 6، 2018 6:32 شام
ذرہ نوازی پر بے حد ممنون ہوں عباد بھائی ہے۔
شکیب — اگست 6، 2018 6:35 شام
کیا بات ہے۔ جیو میرے بھائی۔ مقطع کی الگ سے داد!
صدف رباب — اگست 6، 2018 6:57 شام
ماشاء اللّه بہت اعلیٰ!!
وجاہت حسین — اگست 7، 2018 5:40 صبح
گفتگو میری نہیں جز پیرویِ سامری
اس فسونِ عاجزی پر کتنا اتراتا ہوں میں

واہ. ماشاءاللہ. بہت خوب.
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D8%B4%D8%A8%D9%90-%D9%85%D8%A7%D8%AA%D9%85-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.101447/