اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — اکتوبر 20، 2012 4:40 صبح
اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا
گھنگرو سجا لے پاؤں میں، باجا خرید لا
میرے جنون عشق کی رانی تو مر چکی
بازار سے تُو جا کوئی راجا خرید لا
جذباتِ عشق گہرے سمندر میں ڈال دے
تف ایسی بے بسی پہ، کنارا خرید لا
نیلام کر دے رات کی یہ زرد چاندنی
سورج کے دام صبح کا تارا خرید لا
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا
ارزانیوں پہ اپنی پشیماں ہے کس قدر
اے میرے خواب! اس کا سراپا خرید لا
یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ
یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا​
فاتح الدین بشیرؔ​
رانا — اکتوبر 20، 2012 5:09 صبح
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا
بہت ہی زبردست فاتح بھائی۔
بہت ہی اعلی۔ لاجواب۔
عسکری — اکتوبر 20، 2012 5:09 صبح
یہ مجھے اقبال ٹاؤن کی شاعری لگی ہے فاتح بھائی :D
فاتح — اکتوبر 20، 2012 5:37 صبح
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا
بہت ہی زبردست فاتح بھائی۔
بہت ہی اعلی۔ لاجواب۔
بہت شکریہ رانا صاحب۔
ویسے یقین کیجیے ہمیں پہلے ہی معلوم تھا کہ آپ کو یہی شعر پسند آئے گا۔ :)
فاتح — اکتوبر 20، 2012 5:40 صبح
یہ مجھے اقبال ٹاؤن کی شاعری لگی ہے فاتح بھائی :D
عمران! اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اقبال ٹاؤن کہاں ہے تو یہ بھی جان سکتے کہ اس جملے کا مطلب کیا ہے۔ :D
عسکری — اکتوبر 20، 2012 5:45 صبح
عمران! اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اقبال ٹاؤن کہاں ہے تو یہ بھی جان سکتے کہ اس جملے کا مطلب کیا ہے۔ :D
ڈائمنڈ مارکیٹ لاہور :p
نایاب — اکتوبر 20، 2012 5:52 صبح
اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا​
گھنگرو سجا لے پاؤں میں، باجا خرید لا​
میرے جنون عشق کی رانی تو مر چکی​
بازار سے تُو جا کوئی راجا خرید لا​
جذباتِ عشق گہرے سمندر میں ڈال دے​
تف ایسی بے بسی پہ، کنارا خرید لا​
نیلام کر دے رات کی یہ زرد چاندنی​
سورج کے دام صبح کا تارا خرید لا​
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے​
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا​
ارزانیوں پہ اپنی پشیماں ہے کس قدر​
اے میرے خواب! اس کا سراپا خرید لا​
یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ​
یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا​
فاتح الدین بشیرؔ​
کلاسیک
مدیحہ گیلانی — اکتوبر 20، 2012 5:52 صبح
واہ ! کیا کہنے .آپ کی مرصع و مسجع غزل بہت پسند آئی۔
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا۔
بھرپور غزل لکھنے پر بہت سی مبارکباد .
موجو — اکتوبر 20، 2012 6:02 صبح
السلام علیکم
بہت اعلیٰ فاتح بھائی
فاتح — اکتوبر 20، 2012 6:04 صبح
بہت شکریہ
فاتح — اکتوبر 20، 2012 6:05 صبح
واہ ! کیا کہنے .آپ کی مرصع و مسجع غزل بہت پسند آئی۔
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا۔
بھرپور غزل لکھنے پر بہت سی مبارکباد .
بہت شکریہ۔ پذیرائی پر ممنون ہوں۔
فاتح — اکتوبر 20، 2012 6:06 صبح
السلام علیکم
بہت اعلیٰ فاتح بھائی
و علیکم السلام
بہت شکریہ جناب
پپو — اکتوبر 20، 2012 6:15 صبح
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا
منصور آفاق — اکتوبر 20، 2012 6:22 صبح
کیا کہنے فاتح صاحب ،، بہت زبردست غزل ہے ۔
ناعمہ عزیز — اکتوبر 20، 2012 6:26 صبح
سیپلی اوسم :peacesign::thumbsup:
احمد علی — اکتوبر 20، 2012 6:27 صبح
یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ​
یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا​
بہت عُمدہ۔۔​
محمد وارث — اکتوبر 20، 2012 6:34 صبح
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا
یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ
یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا
واہ واہ واہ، لاجواب۔ کیا کہنے فاتح صاحب
قرۃالعین اعوان — اکتوبر 20، 2012 6:36 صبح
شاندار!
محمداحمد — اکتوبر 20، 2012 6:45 صبح
واہ واہ فاتح بھائی کیا بات ہے۔
ہمیشہ کی طرح لاجواب غزل کہی ہے آپ نے۔
بہت 'سی' داد حاضرِ خدمت ہے۔ :)
خوش رہیے۔
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:18 صبح
ڈائمنڈ مارکیٹ لاہور :p
گویا غزل کی قیمت وصول پائی کہ اس قدر قیمتی معلومات حاصل ہو گئیں۔ :laughing:
صفحات: 1 2 3 4 5

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D9%81%D8%A7%D8%AD%D8%B4%DB%81-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7-%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF-%D9%84%D8%A7-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.55552/