اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے

sadia saher — مارچ 8، 2009 5:01 شام
8 مارچ کو ساری دنیا میں عورتوں کادن منایا جاتا ھے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں عورتوں کی ترجیحات اور ھونگی مگر ترقی پزیر ممالک میں یا پاکستان میں جو سمینار ھوتے ھیں قانون بنائے جاتے ھیں کیا ان کا کوئ اثر روایتوں میں قید عورتوں کی زندگی پہ ھوتا ھے ؟
بڑے بڑے ھوٹلوں میں سمینار ھوتے ھیں لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ھیں مگر ظلم و ستم کی چکی میں پیسنے والی عورتوں کو کیا فائدہ ھوتا ھے ان کو تو شاید اس دن کا پتا بھی نا ھو
پاکستان میں پچھلے سال بہت سے واقعات ھوئے ابھی ایک رپورٹ پڑھ رھی تھی جس میں پاکستان میں عورتوں پہ ھونے والے ظلم و ستم کے اعدادو شمار تھے وہی پڑھ کر یہ لکھا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس بے حس دنیا میں
جہاںشملے اونچے رکھنے کے لیے
بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا ھے
جہاں بھائیوں کے گناہوں کا کفارہ
بہنوں کو ادا کرنا پڑتا ھے
جہاں زندہ رھنے کی خواھش میں مرنا پڑتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس بے درد دنیا میں
جہاں جائیداد کے بٹوارے کے خوف سے
بہنوں کے خوابوں کے ٹکڑے کر دیے جاتے ھیں
بیٹیوں کو بیاھنے کے خواب دیکھنے والی ماؤں کے سامنے
ان بیٹیوں کو خاموشی سے قرآن سے بیاہ دیا جاتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس دنیا میں جہاں قدم قدم پہ امتحان ھے
جہاں اپنی ذات کے اظہار ھے کی خواھش کے بدے
اس کی ذات اس کی ھستی کو فنا کر دیا جاتا ھے
جہاں اپنی آرزوؤں کے اظہار پہ
اپنے ھاتھوں سے قتل کرنے پہ
باپ اور غیرت مند بھائیوں کی ناک اونچی ھوتی ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس روایتوں کی قیدی دنیا میں
اے میری خوش فہم مائیں
کس آس پہ بیٹی کا نام سرداراں رکھا
نام رکھنے سے قسمت نہیں بدلتی
مختاراں نام رکھنے سے جینے کا اختیار نہیں ملتا
تسنیم کی ذات کی تسلیم نہیں کیا جاتا
شہزادی کہنے سے عمر بھر کی غلامی سے نجات نہیں ملتی
کیوں جنم دیا مجھے میری بے بس مائیں
تیرے قدموں تلے تو صدیوں پہلے جنت لکھی گئ تھی
پھر اس جنت کو قدموں تلے کیوں روندا جاتا ھے
خوش بخت تھی عرب کی بیٹیاں
جو ایک بار مرتی تھیں
یہاں تو آج بھی ایک ایک سانس کے بدلے
ھزار بار زندہ درگور ھونا پڑتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس دنیا میں جہاں قبروں کو پوجا جاتا ھے
اور زندہ لوگوں سے زندہ رھنے کا حق چھین لیا جاتا ھے
جہاں روایتوں کو زندہ رکھنے کے لیے
لوگوں کو مرنا پڑتا ھے
اے میری بے بس اور مجبور مائیں
کیوں جنم دیا مجھے
اے مائیں
arifkarim — مارچ 8، 2009 5:34 شام
"ترقی یافتہ "ممالک میں بھی عورتوَں کا حال برا ہی ہے۔
یاسر عمران مرزا — مارچ 8، 2009 5:35 شام
عورتوں پر ظلم وستم عام ہے، بہت بے انصافی کی جاتی ہے عورت کے ساتھ مگر یہ مت بھولیں ، عورت فرشتہ نہں ہے ، عورت نے بھی اس عالم میں فساد برپا کر رکھا ہے،
اور ویسے بھی جہاں پاکستان میں بے انصافی ہے وہاں یہ نیں دیکھا جاتا کے عورت ہے یا مرد، بے انصافی غریب عوام کے ساتھ بلا کیس تمیز کے کی جاتی ہے
sadia saher — مارچ 9، 2009 12:23 شام
سلام اور شکریہ زرقا فاتح اور نایاب
عارف یورپ میں عورت سے کوئ زیادتی نہیں کر رھا وہ خود کر رھی ھے اپنے ساتھ مردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ۔ عورت اپنی حدود بھول گئ ھے
sadia saher — مارچ 9، 2009 12:32 شام
سلام مرزا یاسر
آپ نے ٹھیک کہا پاکستان میں بے انصافی ھو رھی ھے بے انصافی ایک عام ینسان کے ساتھ ھورھی ھے اس کے لیے عوام کا شعور بیدار ھونا چاھیے اس کے لیے تعلیم ضروری ھے جہاں تک عورت سے زیادتی کی بات ھے تو پاکستان میں ایسے بہت سے واقعات ھوئے ھیں جو کسی بھی مسلم ملک میں ھونا افسوس کی ھی نہیں قابل شرم بات ھے
طالوت — مارچ 9، 2009 1:14 شام
بڑی سچی اور کڑویں باتیں ہیں ۔۔
بی بی ظلم کو ظلم کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے اس میں عورت و مرد کی کیا تخصیص ۔۔ اسی طرح مرد بھی مختلف مظالم کا شکار ہیں اور اس میں عورتیں بھی برابر کی حصہ دار ہیں ۔۔ شاعری کا زمرہ ہے مزید بحث نہیں کی جا سکتی ۔۔
وسلام
arifkarim — مارچ 9، 2009 1:50 شام
سلام اور شکریہ زرقا فاتح اور نایاب
عارف یورپ میں عورت سے کوئ زیادتی نہیں کر رھا وہ خود کر رھی ھے اپنے ساتھ مردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ۔ عورت اپنی حدود بھول گئ ھے

کیا آپ یورپ میں رہتی ہیں؟؟؟
یورپ میں بھی عورت کو "جھوٹی آزادی" کے نام پر اتنا ہی ظلم سہنا پڑ رہا ہے جتنا کہ "غریب ممالک" میں ۔ یہاں بھی جنسی تشدد اور زنا کاری مردوں کی طرف سے "زبردستی" ہوتی ہے۔ عورتوں کی خواہش کے مطابق نہیں۔ پھر بچے ہونے کے بعد انکے باپ انکو بے یار و مددگار ماں کے حوالے کرکے چلتے بنتے ہیں۔ نیز بچہ ہونے کے بعد بھی ماں زیادہ عرصہ تک اپنے بچے کیساتھ نہیں رہ سکتی، جاب کی وجہ سے۔ 2 سال تک کے بچوں کو کنڈر گارڈن میں چھوڑا جا رہا ہے، جہاں ماں باپ کے پیار کی بجائے بچہ معاشرے کے کارکنان کے ہاتھوں بڑا ہوتا ہے۔ :mad:
اور ابھی آپ کہہ رہی ہیں کہ یورپ میں‌عورت کیساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوتی!:confused:
sadia saher — مارچ 10، 2009 6:06 شام
سلام طاالوت
پاکستان میں ظلم سب کے ساتھ ھو رھا ھے مگر آپ کا کیا خیال ھے عورت کے ساتھ ظلم کون کر رھا ھے ۔ مرد کے ساتھ معاشرہ اور سسٹم کر رھا ھے مگر عورت کے ساتھ زیادتی اکثر فیملی والے کرتے ھیں پیداھوتے ھی بیٹا اور بیٹی میں فرق کر کے
عارف یہ ایک لمبی بحث ھے میں دو بلاگ لکھ رھی ھوں اس میں ان سب باتوں کے جواب لکھنے کی کوشش کرونگی ۔۔۔۔ جی میں یورپ میں رھتی ھوں
طالوت — مارچ 11، 2009 5:10 صبح
سعدیہ مرد کے ساتھ ظلم صرف نظام یا معاشرہ ہی نہیں کر رہا ، مرد بھی انھی رسوم رواج اور اندھی روایات کی چکی میں پس رہا ہے جس میں عورت پس رہی ہے ، فرق بس تناسب کا ہے بلکہ اگر کہوں کہ "وہ تو مرد ہے" کے جملے نے بہت سے مظالم پر پردہ ڈال رکھا ہے ورنہ حالت دونوں طرف بری ہے ۔۔
اکثر مردوں کو "ناک" بھی بڑی پیاری ہوتی ہے اور خود کو مظلوم کہنا یا سننا ان کے لیے باعث شرم ہوتا ہے اسلیے وہ کھل کر ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں ذکر نہیں کرتے ۔۔۔ بہت کچھ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
وسلام
sadia saher — مارچ 19، 2009 5:50 شام
سلام طالوت
مجھے ان رسموں رواجوں کا علم نہیں جن کی چکی میں مرد پس رھا ھے اکثر معاشرے کے مظالم کا شکار عورتیں ھی ھوتی ھیں ۔۔۔ مانتی ھوں مرد کو اپنی ناک بہت پیاری ھوتی ھے مگر یہ ناک بہت سے مسلے کھڑے کرتی ھے
بلال — مارچ 19، 2009 8:19 شام
ظلم ظلم ظلم۔۔۔
آج ایک دوست نے موبائل پر ایک ویڈیو دیکھائی۔ جب سے وہ دیکھی ہے بڑی بے چینی ہو گئی ہے۔ آج سے پہلے بھی ایسی ہی کچھ ویڈیو دیکھی تھیں لیکن اس ویڈیو نے تو حد کر دی۔ ایک عورت مردوں کے ہجوم میں پڑی ہے سب اسے مار رہے ہیں۔ آخر کار کچھ لوگ بڑے بڑے پتھر اس کے سر پر مارتے ہیں جس سے وہ مر جاتی ہے۔ اور تو اور مرنے کے بعد بھی مارا جاتا ہے۔
جس نے دیکھائی اُس کو بھی معلوم نہیں کہ یہ ویڈیو کہاں کی ہے لیکن لوگوں کی آوازوں سے عربی زبان معلوم ہوتی ہے لیکن میں کنفرم اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ شور بہت تھا جس کی وجہ سے الفاظ کی سمجھ آنا بھی مشکل ہے۔ باقی مجھے تو وہ ویڈیو ٹھیک لگی باقی پتہ نہیں کمپیوٹر کا کمال ہے یا نہیں۔
لیکن جو بھی ہو اگر ایسا دنیا میں ہو رہا ہے تو ظلم ہے ظلم ہے ظلم ہے۔ اگر اُس عورت نے قتل یا زنا جو بھی کیا تھا لیکن میرے خیال میں سزا اس طرح نہیں دینی چاہئے۔ جیسی وہ دے رہے تھے۔ باقی میں دیکھتا ہوں ہو سکتا ہے یو ٹیوب سے وہ ویڈیو مل جائے۔۔۔
طالوت — مارچ 20، 2009 1:51 صبح
اس وڈیو کا ذکر میں یہاں کر چکا ہوں بلال ! اس کے بارے میں متضاد خبریں ہیں ۔۔ کچھ کے مطابق وہ ایران کا واقعہ ہے ، کچھ اسے عراق میں کردوں کی کارستانی بتاتے ہیں ۔۔ مگر زبان سمجھ نہیں آتی، اسیے عربی یا فارسی کہنا مشکل ہے ۔۔
وسلام
طالوت — مارچ 20، 2009 1:53 صبح
سعدیہ میرا کہنے کا مقصد تھا کہ ظلم کو ظلم کہنا چاہیے جنس کا ظلم سے کوئی تعلق نہیں ۔۔
وسلام

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AC%D9%86%D9%85-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92.19967/