اے کاش مرے پاؤں میں کانٹے ہی اُگ رہیں

ش زاد — مارچ 31، 2011 5:25 شام
پردہ اُٹھا کے حُسنِ ازل آئے تو بنے
جو دیکھتا ہے مُجھ کو بھی دکھلائے تو بنے
خورشیدِ جان آج نرالا ہی کچھ کرے
تاروں کے بیچ گھوم کے کھوجائے تو بنے
جب بھی پلٹ کے دیکھا ہے پتھرا گیا ہوں میں
اس بار آپ سامری پتھرائے تو بنے
اے کاش مرے پاؤں میں کانٹے ہی اُگ رہیں
یہ دشت ایک آبلہ بن جائے تو بنے
بہلایا جاتا تھا مُجھے بچپن میں چاند سے
اب مُجھ سے کوئی چاند کو بہلائے تو بنے
تو دیکھ دیکھ آئینہ اترائی ہے بہت
پر اب یہ تجھ کو دیکھ کے اترائے تو بنے
ش زاد​
زھرا علوی — اپریل 1، 2011 10:20 صبح
واہ !! بہت ہی خوبصورت غزل ش زاد۔۔!!
ش زاد — اپریل 4، 2011 6:48 شام
بہت شکریہ محترمہ
ایس فصیح ربانی — اپریل 7، 2011 6:33 صبح
بہت خوب، بہت اچھی غزل ہے۔
غزل میں اضافت کے ساتھ اعلانِ نون ٹھیک نہیں ہوتا۔
میرا اشارہ "خورشیدِ جان" کی طرف ہے۔
الف عین — اپریل 17، 2011 6:43 شام
اچھی غزل ہے انوکھی زمین میں۔
ش زاد — مارچ 30، 2012 7:09 شام
بہت شکریہ سلامت رہیئے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D8%B4-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%B9%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D8%A7%D9%8F%DA%AF-%D8%B1%DB%81%DB%8C%DA%BA.33474/