بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں

راحیل فاروق — فروری 22، 2017 1:06 صبح
بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں
دل کی باتیں ہیں یہ لوگوں میں سنانے کی نہیں
جبر سے شیخ کرے داخلِ جنت تو کرے
زندگی موت کی باتوں میں تو آنے کی نہیں
کچھ تو کر خستگی اپنی پہ نظر اے دنیا
یہ تری عمر نئے فتنے اٹھانے کی نہیں
چل پڑے تو کبھی دیکھا نہیں مڑ کے ہم نے
جی میں آئی تو سنی ایک زمانے کی نہیں
سختئِ راہ تھکا دے تو تھکا دے ورنہ
جستجو تیرے مسافر کو ٹھکانے کی نہیں
کوئے جاناں سے بہت شکوے سہی پر راحیلؔ
آ گئے ہو تو ضرورت تمھیں جانے کی نہیں
راحیلؔ فاروق
۲۲ فروری ۲۰۱۷ء
غدیر زھرا — فروری 22، 2017 3:13 صبح
بہت خوب :)
فہد اشرف — فروری 22، 2017 3:45 صبح
واہ جناب کیا کہنے،
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 22، 2017 3:54 صبح
خوبصورت ۔ مزے دار
لئیق احمد — فروری 22، 2017 4:40 صبح
بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں
دل کی باتیں ہیں یہ لوگوں میں سنانے کی نہیں
پہلے مصرعے نے ہی جکڑ لیا آج تو۔۔ بہت خوب
زبان آسان ہو تو زیادہ لطف دے جاتی ہے۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — فروری 22، 2017 5:09 صبح
جبر سے شیخ کرے داخلِ جنت تو کرے
زندگی موت کی باتوں میں تو آنے کی نہیں

کچھ تو کر خستگی اپنی پہ نظر اے دنیا
یہ تری عمر نئے فتنے اٹھانے کی نہیں
واہ بھیا ۔ بہت خوب اور زبردست ۔۔
اور یہ دونوں شعر تو لاجواب ہیں ۔ ڈھیروں داد
منصور محبوب چوہدری — فروری 22، 2017 5:55 صبح
کچھ تو کر خستگی اپنی پہ نظر اے دنیا
یہ تری عمر نئے فتنے اٹھانے کی نہیں
ڈھیروں داد ۔۔۔ بہت خوب
محمد وارث — فروری 22، 2017 6:05 صبح
لاجواب!
آورکزئی — فروری 22، 2017 6:11 صبح
واہ واہ کیا کہنے جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقطع میں ویسے خود کو تسلی نہیں دے رہا محترم۔۔۔۔۔۔ اگئے ہو تو ضرورت تمہیں جانے کی نہیں۔۔۔۔
الف عین — فروری 22، 2017 6:21 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔ایک مصرع تھوڑا سا کھٹکا جس کی تم سے امید نہیں تھی۔
چل پڑے تو کبھی دیکھا نہیں مڑ کے ہم نے
’مڑ کے ‘کی جگہ ’مڑ کر‘ ہو سکتا ہے لیکن طویل ’تو‘ کا بھی کچھ علاج ہو جاتا تو روانی میں دس بارہ چاند لگ جاتے
محمد تابش صدیقی — فروری 22، 2017 6:29 صبح
بہت عمدہ راحیل بھائی.
خاص کر ان اشعار کا تو جواب نہیں.
چل پڑے تو کبھی دیکھا نہیں مڑ کے ہم نے
جی میں آئی تو سنی ایک زمانے کی نہیں
سختئِ راہ تھکا دے تو تھکا دے ورنہ
جستجو تیرے مسافر کو ٹھکانے کی نہیں

کیا بات ہے.
لاریب مرزا — فروری 22، 2017 10:32 صبح
خوب!! خوب!!
یوسف سلطان — فروری 22، 2017 12:12 شام
بہت عمدہ ۔
محمدظہیر — فروری 22، 2017 12:55 شام
"بات کہنے کی نہیں" پڑھتے ہی اقبال صاحب کے شکوہ کا "تو بھی تو ہر جائی ہے"زبان پر آ گیا :ROFLMAO:
بہت عمدہ ہے:)
جاسمن — مارچ 21، 2017 10:01 صبح
زََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََبردست!
نیرنگ خیال — مارچ 21، 2017 10:04 صبح
بہت اعلیٰ ۔۔۔ لاجواب
حسن محمود جماعتی — مارچ 21، 2017 2:48 شام
واہ واہ قبلہ بہت عمدہ بہت خوب
محمد عظیم الدین — مارچ 22، 2017 1:41 صبح
جبر سے شیخ کرے داخلِ جنت تو کرے
زندگی موت کی باتوں میں تو آنے کی نہیں
کیا کہنے جناب راحیل فاروق صاحب
آصف اثر — مارچ 22، 2017 3:04 صبح
سختئِ راہ تھکا دے تو تھکا دے ورنہ
جستجو تیرے مسافر کو ٹھکانے کی نہیں
عزم وہمت اور حوصلہ افزائی کے اشعار میں ایک اور بہترین شعر کا اضافہ۔ لاجواب۔
کاشف اسرار احمد — مارچ 22، 2017 3:57 صبح
واہ راحیل بھائی ۔۔۔۔۔ عمدہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.94985/