بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — نومبر 19، 2012 4:28 شام
کیا کیا نِعَم نہ تُو نے اے بارِ خدا دیے
شوقِ بدیع کار میں ہم نے گنوا دیے
ہم نے تو مَنّتوں کے بھی دھاگے بڑھا دیے
جا، عشق کے مزار پہ اب تُو جلا دیے
قرطاسِ ابیض آج بھی شائع نہ ہو تو کیا
"ہم نے کتابِ زیست کے پرزے اُڑا دیے"
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے
تا، کشتگاں کی خاک اُڑا پائے، پائے ناز
شوقِ طلب کے کشتوں کے پشتے لگا دیے
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے
فاتح الدین بشیرؔ​
احمد علی — نومبر 19، 2012 4:32 شام
اعلیٰ۔۔۔
عائشہ عزیز — نومبر 19، 2012 4:33 شام
ایک "مشکل" کی ریٹنگ بھی ہونی چاہیے۔:rolleyes:
محمد امین — نومبر 19، 2012 5:30 شام
کیا کیا نِعَم نہ تُو نے اے بارِ خدا دیے​
شوقِ بدیع کار میں ہم نے گنوا دیے​
ہم نے تو مَنّتوں کے بھی دھاگے بڑھا دیے​
جا، عشق کے مزار پہ اب تُو جلا دیے​
قرطاسِ ابیض آج بھی شائع نہ ہو تو کیا​
"ہم نے کتابِ زیست کے پرزے اُڑا دیے"​
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر​
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے​
تا، کشتگاں کی خاک اُڑا پائے، پائے ناز​
شوقِ طلب کے کشتوں کے پشتے لگا دیے​
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی​
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے​
فاتح الدین بشیرؔ​

واقعی۔۔۔۔ بہت خوب اور مشکل غزل ہے :) ۔۔۔
ہم نے تو مَنّتوں کے بھی دھاگے بڑھا دیے
جا، عشق کے مزار پہ اب تُو جلا دیے
اس شعر کا مصرعِ ثانی سمجھ نہیں آیا فاتح بھائی۔۔۔ تو جلانا مطلب؟​
فاتح — نومبر 19، 2012 5:34 شام
واقعی۔۔۔ ۔ بہت خوب اور مشکل غزل ہے :) ۔۔۔
ہم نے تو مَنّتوں کے بھی دھاگے بڑھا دیے
جا، عشق کے مزار پہ اب تُو جلا دیے
اس شعر کا مصرعِ ثانی سمجھ نہیں آیا فاتح بھائی۔۔۔ تو جلانا مطلب؟​
تے پیش واؤ تُو (too)
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 19، 2012 5:40 شام
واہ وا ۔واہ وا۔ واہ!
کیا خوب غزل ہے داد قبول کیجیے جنابِ فاتح الدین بشیر صاحب۔
محمد امین — نومبر 19، 2012 5:40 شام

اوہ اچھا "اب" سمجھ آیا :) ۔۔۔ میں پیرایہ اور سیاق نہیں سمجھا تھا :)
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 19، 2012 5:41 شام
ایک "مشکل" کی ریٹنگ بھی ہونی چاہیے۔:rolleyes:
بھئی ہم بھی عائشہ عزیز بٹیا کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔
قرۃالعین اعوان — نومبر 19، 2012 5:41 شام
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے
سچ کہا!
عمدہ!
بلکہ بہت خوبصورت!
قرۃالعین اعوان — نومبر 19، 2012 5:44 شام
فاتح بھیا آپ کا مجموعہ کلام کب چھپ رہا ہے؟
عائشہ عزیز — نومبر 19، 2012 5:45 شام
بھئی ہم بھی عائشہ عزیز بٹیا کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔
دیکھا فاتح بھیا آپ مذاق سمجھ رہے تھے اب تو خلیل چاچو نے بھی کہہ دیا ہے۔
رانا — نومبر 19، 2012 5:48 شام
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے
واہ فاتح بھائی۔ بہت خوب۔ ایک اور عمدہ غزل کے لئے بہت شکریہ۔
چار بٹا چھ فیصد متفق وِد عائشہ بہنا۔
عاطف بٹ — نومبر 19، 2012 5:52 شام
واہ، بہت خوب۔
مدیحہ گیلانی — نومبر 19، 2012 5:56 شام
واہ واہ سبحان اللہ ۔۔ عمدہ و لاجواب غزل ہے ۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ پہلے بھی ہم پڑھ چکے ہیں آپکی یہ تخلیق ۔۔۔آپ نے شاید کسی طرحی مشاعرے کے لیے کہی تھی ۔چلیئے کسی بہانے آپکو اپنی گمشدہ غزلیں لگانے کا خیال تو آیا ۔غزل کی ستائش کے لیے الفاظ نہیں ہیں ہمارے پاس۔ بہت سی داد قبول کیجیے ۔
فاتح — نومبر 19، 2012 6:46 شام
فاتح بھیا آپ کا مجموعہ کلام کب چھپ رہا ہے؟
ہماری وفات کے بعد دوست احباب ہی چھاپیں گے۔۔۔ ان شا اللہ
صائمہ شاہ — نومبر 19، 2012 6:56 شام
واہ
قرۃالعین اعوان — نومبر 19، 2012 7:06 شام
ہماری وفات کے بعد دوست احباب ہی چھاپیں گے۔۔۔ ان شا اللہ
مایوسی ہوئی جواب سن کر!
محمد وارث — نومبر 20، 2012 5:58 صبح
کیا کہنے فاتح صاحب، بہت خوب
اور اس شعر کا تو جواب نہیں
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے
لاجواب
محمد بلال اعظم — نومبر 20، 2012 7:17 صبح
کیا کیا نِعَم نہ تُو نے اے بارِ خدا دیے​
شوقِ بدیع کار میں ہم نے گنوا دیے​
ہم نے تو مَنّتوں کے بھی دھاگے بڑھا دیے​
جا، عشق کے مزار پہ اب تُو جلا دیے​
قرطاسِ ابیض آج بھی شائع نہ ہو تو کیا​
"ہم نے کتابِ زیست کے پرزے اُڑا دیے"​
بازارِ شام پر نہ ہوئی حشر تک سحَر​
شمس النّہار نوکِ سناں پر سجا دیے​
تا، کشتگاں کی خاک اُڑا پائے، پائے ناز​
شوقِ طلب کے کشتوں کے پشتے لگا دیے​
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی​
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے​
فاتح الدین بشیرؔ​

لاجواب غزل ہے۔
ماشاءاللہ
ایک سے بڑھ کے ایک غزل آج کل آپ محفل پہ شئیر کر رہے ہیں۔
اس سلسلے کو رکنے ہرگز نہ دیجئے گا۔
اس غزل میں کچھ کچھ محسن نقوی کا رنگ بھی لگا ہے مجھے۔
(اس بات کا بُرا مت منائیے گا، میرا مقصد موازنہ کرنا نہیں ہے)
باباجی — نومبر 20، 2012 8:33 صبح
زبردست جناب بہت ہی خوب
ہر سُو فقط ہوَس کی دکانیں تھیں کھُل رہی
یاروں نے کاروبارِ محبت بڑھا دیے
صفحات: 1 2 3 4 5 6 7

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D8%B4%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AD%D8%B4%D8%B1-%D8%AA%DA%A9-%D8%B3%D8%AD%D9%8E%D8%B1-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.56455/