بتا بتا کر ستا رہے ہو

اسامہ جمشید — نومبر 30، 2012 6:19 صبح
بتا بتا کر ستا رہے ہو​
سنو تمہارا حسا ب ہوگا​
جہاں دکھوں کی دوا ملے گی​
وہاں پہ جینا عذاب ہوگا​
منافقت کے اصول پر تم​
چلے تو تم کو ثواب ہوگا​
خیال میں بھی حقیقتں ہیں​
حقیقتوں میں بھی خواب ہوگا​
تو شاعروں کو سمجھ سکے گا​
جو حال تیرا خراب ہوگا​
ہم اپنی ضد پر جمے رہیں گے​
کبھی تو الٹا نقاب ہوگا​
یہ مسلکوں پر لڑائی کیوں ہے​
سوال ہے تو جواب ہوگا​
سید زبیر — نومبر 30، 2012 6:28 صبح
بہت خوب
یہ مسلکوں پر لڑائی کیوں ہے
سوال ہے تو جواب ہوگا
واہ ۔ ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
باباجی — نومبر 30، 2012 6:33 صبح
واہ بہت خوب بھائی جان
یہ مسلکوں پر لڑائی کیوں ہے
سوال ہے تو جواب ہوگا
محمد بلال اعظم — نومبر 30، 2012 7:13 صبح
واہ
پوری غزل ہی خوب ہے۔
محمد بلال اعظم — نومبر 30، 2012 7:13 صبح
بتا بتا کر ستا رہے ہو​
ستا ستا کر بتا رہے ہو:D
اسامہ جمشید — نومبر 30، 2012 10:14 صبح
بہت خوب
یہ مسلکوں پر لڑائی کیوں ہے
سوال ہے تو جواب ہوگا
واہ ۔ ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
نوازش قبله سيد زبير صاحب
اسامہ جمشید — نومبر 30، 2012 10:14 صبح
واہ بہت خوب بھائی جان
یہ مسلکوں پر لڑائی کیوں ہے
سوال ہے تو جواب ہوگا
نوازش حضور
اسامہ جمشید — نومبر 30، 2012 10:15 صبح
بتا بتا کر ستا رہے ہو​
ستا ستا کر بتا رہے ہو:D
نوازش بلال بھائي
الف عین — نومبر 30، 2012 10:45 صبح
سادہ و پرکار غزل!!
اسامہ جمشید — نومبر 30، 2012 12:00 شام
نوازش استاد گرامی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%D8%B3%D8%AA%D8%A7-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%D9%88.56788/