بر صلیبِ آرزو، رات، تنہائی، دیا!

اسد قریشی — اکتوبر 12، 2012 5:54 صبح
بر صلیبِ آرزو، رات، تنہائی، دیا!
کر رہے تھے گفتگو، رات، تنہائی، دیا!
درد کو فرصت نہ تھی، دیکھتے ہی رہ گئے
آنکھ سے بہت لہو، رات، تنہائی، دیا!
کام تھا مشکل مگر، عمر بھر کرتے رہے
اک خراشِ دل رفو، رات، تنہائی، دیا!
کس پہ میں کرتا یقیں، رہنما کرتا کسے
ہو رہے میرے عدو، رات، تنہائی، دیا!
گر جدا ہونا ہی تھا ساتھ دیتا تو کوئی
آبلہ پا، دل لہو، رات، تنہائی، دیا!
غم بھلانے کے لئے دل فگاراں کو بہت
تم اسد، خم اور سبو، رات، تنہائی، دیا!
اسد
محمد بلال اعظم — اکتوبر 16، 2012 2:01 شام
بر صلیبِ آرزو، رات، تنہائی، دیا!
کر رہے تھے گفتگو، رات، تنہائی، دیا!
درد کو فرصت نہ تھی، دیکھتے ہی رہ گئے
آنکھ سے بہت لہو، رات، تنہائی، دیا!
کام تھا مشکل مگر، عمر بھر کرتے رہے
اک خراشِ دل رفو، رات، تنہائی، دیا!
کس پہ میں کرتا یقیں، رہنما کرتا کسے
ہو رہے میرے عدو، رات، تنہائی، دیا!
گر جدا ہونا ہی تھا ساتھ دیتا تو کوئی
آبلہ پا، دل لہو، رات، تنہائی، دیا!
غم بھلانے کے لئے دل فگاراں کو بہت
تم اسد، خم اور سبو، رات، تنہائی، دیا!
اسد

واہ واہ اسد صاحب کیا ہی خوب غزل ہے۔
غم بھلانے کے لئے دل فگاراں کو بہت
تم اسد، خم اور سبو، رات، تنہائی، دیا!
واہ سبحان اللہ
اسد قریشی — اکتوبر 17، 2012 6:12 صبح
محمد بلال اعظم بھائی! بہت شکریہ، بہت خوش رہیئے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1-%D8%B5%D9%84%DB%8C%D8%A8%D9%90-%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%8C-%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%8C-%D8%AF%DB%8C%D8%A7.55303/