برکھا رت آئی ( گیت از خاور چودھری)

خاورچودھری — مئی 23، 2010 1:11 شام
گیت از خاورچودھری
برکھا رُت آئی
برکھا رُت آئی
پیت کی ڈالی پے بولے کویلیا
جیسے چھنکے روز مری پایلیا
بادل راجا کے شور میں دب جائے
ہربات سنائی
برکھا رُت آئی
موہے چھیڑیں سکھیاں دیکھ تو بالم
ساون چھوٹ رہا ہے ' آجا ظالم
جلمی بارش جوت بجھانے آئے
میں ہوئی سودائی
برکھا رُت آئی
بادل برسیں آگ لگائیں تن میں
تم بن کیا جیون ' دُھول اُڑے من میں
کون مرے ہونٹوں کا رنگ چرائے
آ رے ہرجائی
برکھا رُت آئی
شمشاد — مئی 23، 2010 1:21 شام
بہت شکریہ خاور بھائی شریک محفل کرنے کا۔
فرخ منظور — مئی 23، 2010 1:28 شام
بہت خوبصورت گیت ہے۔ شکریہ خاور صاحب!
خاورچودھری — مئی 24، 2010 3:47 صبح
سخنور بھائی ، شمشاد بھائی
آپ کی محبت ، آپ کا کرم
خاورچودھری — مئی 26، 2010 7:03 صبح
حضور(الف عین ) آپ کا اور محمد وارث صاحب کا ممنون ہوں‘ توجہ کے لیے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%D8%B1%D8%AA-%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%DA%AF%DB%8C%D8%AA-%D8%A7%D8%B2-%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%86%D9%88%D8%AF%DA%BE%D8%B1%DB%8C.29987/