بس بہت ہوگئے نیلام ، چلو لوٹ چلو

ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 5:07 شام
بس بہت ہوگئے نیلام ، چلو لوٹ چلو
اتنے ارزاں نہ کرو دام ، چلو لوٹ چلو
نہ مداوا ہے کہیں جن کا ، نہ امیدِ قرار
ہر جگہ ہیں وہی آلام ، چلو لوٹ چلو
معتبر ہوتی نہیں راہ میں گزری ہوئی رات
اس سے پہلے کہ ڈھلے شام ، چلو لوٹ چلو
ماہِ نخشب سے یہ چہرے ہیں نظر کا دھوکا
چاند اصلی ہے سرِ بام ، چلو لوٹ چلو
پتے اُڑتے ہیں ہواؤں میں پرندوں کی جگہ
رُت بدلنے کا ہے پیغام ، چلو لوٹ چلو
اس سے پہلے کہ زمانہ کوئی دیدے عنوان
واقعہ ہے ابھی بے نام ، چلو لوٹ چلو
اک ہوس کہتی ہے ’’کچھ دور ذرا اور ابھی“
اک صدا آتی ہے ہرگا م’’چلو لوٹ چلو “
منتظر کوئی نہیں مانا وہاں ، پھر بھی ظہیر
کچھ ادھورے ہیں ابھی کام ، چلو لوٹ چلو
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۴​
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 5:15 شام
کیا کہنے ظہیر بھائی۔
معتبر ہوتی نہیں راہ میں گزری ہوئی رات
اس سے پہلے کہ ڈھلے شام ، چلو لوٹ چلو

اک ہوس کہتی ہے ’’کچھ دور ذرا اور ابھی“
اک صدا آتی ہے ہرگا م’’چلو لوٹ چلو “
فاتح — مارچ 2، 2016 5:33 شام
واہ واہ واہ
اتنے ارزاں نہ کرو دام۔۔۔ کیا کہنے
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:43 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی۔

تابش بھائی ، نوازش ہے آپ کی ۔ بہت شکریہ!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:47 صبح
واہ واہ واہ
اتنے ارزاں نہ کرو دام۔۔۔ کیا کہنے

فاتح بھائی ! حقیقت ہے ! غزل کیا ہے بس ندامت نامہ ہے ہمارا ۔ دعاؤں میں یاد رکھا کیجے ۔ اللہ آپ کو آباد رکھے ۔
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2016 7:06 صبح
ماہِ نخشب سے یہ چہرے ہیں نظر کا دھوکا
چاند اصلی ہے سرِ بام ، چلو لوٹ چلو
کیا تلمیح ہے۔۔۔ اعلیٰ
بہت خوب سر۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 6، 2016 6:46 صبح
کیا تلمیح ہے۔۔۔ اعلیٰ
بہت خوب سر۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔

سرکار ، جہاں ہم ہیں وہاں یہ تلمیح ایک تلخ حقیقت ہے۔ کبھی موقع ملے تو ہمارے پسندیدہ شاعر افتخار عارف کی ایک نظم ’’پس چہ باید کرد‘‘ پڑھئے گا ۔ میری پسندیدہ ترین نظموں میں سے ہے ۔ اکثر بے ساختہ زبان پر آتی ہے ۔
نیرنگ خیال — مارچ 7، 2016 6:11 صبح
سرکار ، جہاں ہم ہیں وہاں یہ تلمیح ایک تلخ حقیقت ہے۔ کبھی موقع ملے تو ہمارے پسندیدہ شاعر افتخار عارف کی ایک نظم ’’پس چہ باید کرد‘‘ پڑھئے گا ۔ میری پسندیدہ ترین نظموں میں سے ہے ۔ اکثر بے ساختہ زبان پر آتی ہے ۔
بلاشبہ وہ نظم ایک شاہکار ہے۔
شکیب — مارچ 7، 2016 6:29 صبح
بہت اعلیٰ ظہیر بھائی۔
معتبر ہوتی نہیں راہ میں گزری ہوئی رات
اس سے پہلے کہ ڈھلے شام ، چلو لوٹ چلو
مصرع اولیٰ میں ”ہوتی نہیں (ہوتِ نہی)“ پر نادیدہ سا وقفہ محسوس ہورہا ہے، نیز آپ اور عمدہ طریقے سےیہی مضمون باندھ سکتے ہیں، تاکہ رواں ہوجائے۔
مطلع اور مقطع سچ میں بے حد پسند آئے۔ ڈھیروں داد!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B3-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A6%DB%92-%D9%86%DB%8C%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%8C-%DA%86%D9%84%D9%88-%D9%84%D9%88%D9%B9-%DA%86%D9%84%D9%88.88414/