بس میں نہیں کہ شوقِ محبت بڑھاؤں میں

عظیم — جولائی 20، 2017 5:46 شام

بس میں نہیں کہ شوقِ محبت بڑھاؤں میں
لیکن یہ طے کِیا ہے کہ چلتا ہی جاؤں میں
مجھ سے نظر چرا کے چلے عجز و انکسار
مٹی کو، اپنی خاک سے ، بہتر بتاؤں میں
پہنچے نہ میری ذات سے خلقِ خدا کو رنج
حتٰی کہ اِس کے پیر کے نیچے بھی آؤں میں
اب مجھ کو اس جہان کے دل جیتنے ہیں بس
کل تک یہ آرزو تھی بہت داد پاؤں میں
پہلے سی چشمِ تر میں روانی نہیں جو اب
پلکوں کے بھیگنے پہ بھی خوشیاں مناؤں میں
کھنچتا ہے شعر گوئی کی جانب ہی میرا دل
جتنی بھی اس طرف سے توجہ ہٹاؤں میں
جب تک نہیں کلام پہ قدرت مجھے عظیم
تب تک نہ کیوں، یہ طبعِ رواں آزماؤں میں
*****
السلام علیکم ۔ یہ غزل بابا (الف عین) سے اصلاح کے بعد پیش کی گئی ہے ۔ شکریہ
سید عاطف علی — جولائی 20، 2017 6:56 شام
اس زمین سےاپنی ایک غزل یاد آگئی ۔
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 21، 2017 3:00 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے۔ داد وصول فرمائیے
عظیم — جولائی 21، 2017 7:00 صبح
اس زمین سےاپنی ایک غزل یاد آگئی ۔
غزل کو پسند کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ سید عاطف علی بھائی ۔
بہت خوبصورت غزل ہے۔ داد وصول فرمائیے
بہت بہت شکریہ محترم خلیل بھائی ۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 21، 2017 7:07 صبح
بہت خوب عظیم بھائی۔ کیا کہنے۔
مجھ سے نظر چرا کے چلے عجز و انکسار
مٹی کو، اپنی خاک سے ، بہتر بتاؤں میں

پہنچے نہ میری ذات سے خلقِ خدا کو رنج
حتٰی کہ اِس کے پیر کے نیچے بھی آؤں میں
عظیم — جولائی 21، 2017 7:10 صبح
بہت خوب عظیم بھائی۔ کیا کہنے۔
بہت بہت شکریہ محمد تابش صدیقی بھائی ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B3-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%81-%D8%B4%D9%88%D9%82%D9%90-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.97656/