"بکرا" ایک ادھوری نظم جیسی تیسی نظر محفل

مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 26، 2012 6:02 شام
کان کھینچے ہے کوئی کوئی رسن کھینچے ہے
کتنے یہ بکرا دم مرگ جتن کھینچے ہے
نیند کرنے کو ہے اسکے نہ سکوں کرنے کو
اک جگر باقی ہے بیچارے کے خوں کرنے کو
گائے کو چھیڑیں تو اک چاہئے سینے میں جگر
زور آتا ہے تو بیچارے زباں بستہ پر
ماندھ آنکھیں ہیں کچھ اس طرح کہ دیکھے نہ بنے
دل تڑپتا ہے کچھ ایسا کہ سنبھالے نہ بنے
نایاب — اکتوبر 26، 2012 6:23 شام
واہہہہہہہہ کیا خوب نقشہ کھینچا ہے
محمد امین — اکتوبر 26، 2012 6:47 شام
خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
محمد بلال اعظم — اکتوبر 26، 2012 6:47 شام
واہ محترم مہدی صاحب:)
واہ محترم نقوی صاحب:)
واہ محترم حجاز صاحب:)
واہ محترم مہدی نقوی حجاز صاحب;)
خوب نظم لکھی ہے۔:grin:
محمد بلال اعظم — اکتوبر 26، 2012 6:49 شام
اچھا نقص آیا تھا
میرے رپلائے بھی بکرا بکرا ہو گئے ہیں۔
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2012 4:32 صبح
اچھا نقص آیا تھا
میرے رپلائے بھی بکرا بکرا ہو گئے ہیں۔

:eek:
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2012 4:32 صبح
خوب۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ :)
پسندیدگی کا شکریہ محترم
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 27، 2012 4:32 صبح
واہہہہہہہہ کیا خوب نقشہ کھینچا ہے
بہت شکریہ بندہ نوازی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DA%A9%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84.55751/