بکھرا ہوا ہوں ضبط کا یارا نہیں رہا

محمود احمد غزنوی — نومبر 5، 2009 12:59 شام
بکھرا ہُوا ہوں ، ضبط کا یارا نہیں رہا
کُچھ چِھن گیا ہےاب وہ ہمارا نہیں رہا
کچھ ایسے پائمال ہوئی سرزمینِ دل
کوئی شبِ خیال میں تارا نہیں رہا
اک ایسا دشت ہے یہ جس میں مرےلئے
کوئی سراب، کوئی سہارا نہیں رہا
مدّت سے اک جمود سا طاری ہےقلب پر
آنکھوں میں کوئی اشک ستارا نہیں رہا
نکلے تری گلی سے تو کعبہ تھا سامنے
دل پر کچھ اختیار ہمارا نہیں رہا
یارب دلِ حزیں کو نئی زندگی ملے
مانا کبھی یہ عرش تمہارا نہیں رہا​
اشتیاق علی — نومبر 5، 2009 1:37 شام
ما شااللہ بہت خوب ۔ شکریہ۔
محمود احمد غزنوی — نومبر 5، 2009 1:41 شام
ذرّہ نوازی ہے آپکی۔:)
فاتح — نومبر 5، 2009 3:52 شام
سبحان اللہ! خوبصورت غزل ہے۔مبارک باد قبول کیجیے محمود غزنوی صاحب۔
اور اس بار غزل میں کہیں بھی وزن کا کوئی مسئلہ بھی نہیں۔ ماشاء اللہ
الف عین — نومبر 5، 2009 4:23 شام
واہ محمود میاں، اچھی غزل ہے۔
لیکن فاتح ایک شعر میں اب بھی گڑبڑ ہے، شاید تم نے غور نہیں کیا:
اک ایسا دشت ہے یہ جس میں مرےلئے
کوئی سراب، کوئی سہارا نہیں رہا
پہلا مصرع وزن سے خارج ہے،
وزن میں کرنے کے لئے ۔۔ اک ایسا دشت ہے یہ، کہ جس میں مرے لئے
کیا جا سکتا ہے، لیکن روانی مار کھا جاتی ہے۔
اس سے بہتر یوں ہو سکتا ہے
اک ایسا دشت ہے یہ جہاں میرےواسطے
محمود احمد غزنوی — نومبر 5، 2009 4:28 شام
سبحان اللہ! خوبصورت غزل ہے۔مبارک باد قبول کیجیے محمود غزنوی صاحب۔
اور اس بار غزل میں کہیں بھی وزن کا کوئی مسئلہ بھی نہیں۔ ماشاء اللہ
الحمدللہ۔ ۔ ۔ بہت بہت شکریہ:)
محمود احمد غزنوی — نومبر 5، 2009 4:32 شام
واہ محمود میاں، اچھی غزل ہے۔
لیکن فاتح ایک شعر میں اب بھی گڑبڑ ہے، شاید تم نے غور نہیں کیا:
اک ایسا دشت ہے یہ جس میں مرےلئے
کوئی سراب، کوئی سہارا نہیں رہا
پہلا مصرع وزن سے خارج ہے،
وزن میں کرنے کے لئے ۔۔ اک ایسا دشت ہے یہ، کہ جس میں مرے لئے
کیا جا سکتا ہے، لیکن روانی مار کھا جاتی ہے۔
اس سے بہتر یوں ہو سکتا ہے
اک ایسا دشت ہے یہ جہاں میرےواسطے
شکریہ استادِ محترم۔ ۔ ۔ ۔
اگر اسکو یوں کریں تو کیسا ہے؟
اک ایسے دشت میں ہوں، جس میں مرے لئے
لیکن شائد نہیں۔:)
فاتح — نومبر 5، 2009 4:45 شام
اعجاز صاحب! بجا فرما رہے ہیں آپ۔ میں روانی میں شاید "کہ" کے اضافے کے ساتھ اسے " اک ایسا دشت ہے کہ یہ جس میں مرےلئے" پڑھ گیا۔
بہت شکریہ
آپ کے مجوزہ مصرع "اک ایسا دشت ہے یہ جہاں میرےواسطے" کی تائید کرتا ہوں۔
رہ وفا — نومبر 18، 2009 9:50 صبح
بہت خوبصورت غزل لکھنے پر داد قبول کیجئے
ایم اے راجا — نومبر 21، 2009 7:39 شام
بہت خب، لاجواب غزل ہے مگر غزنوی صاحب مجھے مندرجہ ذیل مصرعہ سمجھ نہیں آیا؟
یارب دلِ حزیں کو نئی زندگی ملے
مانا کبھی یہ عرش تمہارا نہیں رہا
کیا عرش آپکا تخلص ہے؟
محمود احمد غزنوی — نومبر 25، 2009 4:20 صبح
شکریہ راجہ صاحب۔ ۔ ۔چونکہ بندے کا دل ہی وہ محلّ ہے جہاں اللہ کی سمائی ہوسکتی ہے، لیکن ہر دل اس مرتبے کا اھل نہیں ہوتا۔۔۔لہذا سمجھ لیں کہ اس شعر میں یہی رونا رویا گیا ہے:)
مغزل — نومبر 28، 2009 2:43 شام
کیا کہنے محمود غزنوی صاحب، واہ بہت خوب، ایک مصرعے پر میں رکا، مگر بعد کے مراسلات میں بابا جانی نے نشاندہی کردی تھی،
اچھی غزل ہے ، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ سلامت رہیں صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DA%A9%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%B6%D8%A8%D8%B7-%DA%A9%D8%A7-%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%A7.26398/