زھرا علوی — اگست 21، 2011 4:48 شام
بکھرے ہیں اس طرح کہ سمیٹے نہ جائیں گے
لگتا ہے اب خدا کی قسم مر ہی جائیں گے
دست طلب میں ایک ہی رکھا ہے اب سوال
دیکھیں گے اور پھر انہیں دیکھے ہی جائیں گے
راہ یقیں میں اب کے جو چھوڑیں گے اپنا ہاتھ
ڈھونڈیں گے پھر ہمیں تو کہیں بھی نہ پائیں گے
زھراء علوی
ابن سعید — اگست 21، 2011 4:54 شام
بہت خوب بٹیا رانی۔ ویسے عرصہ بعد محفل واپسی ہوئی ہے آپ کی۔ اور شاید آپ کو یہ بھی علم نہیں کہ محفل کی ننھی پریوں میں سے ایک کی شادی ہونے کو ہے۔

زھرا علوی — اگست 21، 2011 4:57 شام
اچھا واقعی بھیا !! بھلا کون ؟
ابن سعید — اگست 21، 2011 5:10 شام
یہ ہم کیوں بتائیں بھلا؟ محفل آپ کے سامنے ہے، آپ خود پتہ کریں۔

الف عین — اگست 22، 2011 7:14 صبح
ایسی عام غزل کی تم سے امید نہیں تھی۔ تمہارے معیار سے ہلکی محسوس ہوئی مجھے۔
زھرا علوی — اگست 22، 2011 10:38 صبح
جی بہت بہتر انکل ۔۔!!!

الف عین — اگست 23، 2011 11:00 صبح
اتنی خراب بھی نہیں جو یوں منہ بنا رہی ہو، لیکن میری بات کا تو تم کو خود بھی احساس ہو گا۔ اور کچھ مزید اشعار؟
زھرا علوی — اگست 24، 2011 7:22 شام
میں ضرور شامل محفل کروں گی کچھ بھی کہہ سکی تو ۔۔!!

شمشاد — اگست 24، 2011 7:45 شام
ذرا جلدی کہیں، ایسا نہ ہو کہ کہیں بغیر ہی چلی جائیں۔
آصف شفیع — اگست 24، 2011 8:40 شام
اعجاز صاحب نے صحیح کہا، اتنی بری بھی نہیں۔ اچھے اشعار ہیں۔ کچھ اور کہے جا سکتے ہین۔ غزل مکمل ہو نے بعد اور نکھر سکتی ہے۔