بھروسا جس پہ کِیا تھا اسی نے توڑ دیا

عاطف ملک — نومبر 14، 2019 2:26 شام
چند اشعار استادِ محترم اور محفلین کی نذر:

بھروسا جس پہ کِیا تھا اسی نے توڑ دیا
جو آیا ہم پہ کڑا وقت، اس نے چھوڑ دیا
جو میں نے پوچھا بتاؤ مِری خطا کیا ہے؟
مرا سوال مری سمت اس نے موڑ دیا
میں بُن رہا تھا حسیں خواب تیری قربت کے
ترے فراق نے ہر ایک خواب توڑ دیا
اب اپنے رشتہِٕ امید کی بھی کیا کہیے
کہ جس نے خواب دکھائے، اسی سے جوڑ دیا
ہماری عیش و مسرت بھری جوانی کو
تمہارے عشق نے کس ظلم سے نِچوڑ دیا
شبِ فراق میں آیا جو چاند جوبن پر
ہمارے ضبط کے بندھن کو پھر سے توڑ دیا
دلِ شکستہ پھٹا نوٹ تو نہیں عاطفؔ
اٹھایا، گوند لگایا، سُکوں سے جوڑ دیا

عاطفؔ ملک
نومبر ۲۰۱۹

الف عین — نومبر 15، 2019 4:53 شام
درست ہے غزل
بافقیہ — نومبر 16، 2019 5:19 صبح
دلِ شکستہ پھٹا نوٹ تو نہیں عاطفؔ
اٹھایا، گوند لگایا، سُکوں سے جوڑ دیا
:ROFLMAO:
عاطف ملک — نومبر 17، 2019 8:09 صبح
سند مل گئی:)
شکریہ استادِ محترم:lashes:
ایسی بھی ہنسنے کی بات نہیں تھی ویسے(n):p
بافقیہ — نومبر 17، 2019 2:59 شام
سند مل گئی:)
شکریہ استادِ محترم:lashes:
ایسی بھی ہنسنے کی بات نہیں تھی ویسے(n):p
فرق ہے جناب ! جو جس موڈ میں ہو۔۔۔ اسی انداز سے لے گا۔۔۔ آپ نے سنجیدگی سے لکھا ہوگا، لیکن ہم نے اس کو خوبصورت اور اچھوتا مزاح سمجھ لیا۔۔۔ :)
عاطف ملک — نومبر 17، 2019 3:15 شام
فرق ہے جناب ! جو جس موڈ میں ہو۔۔۔ اسی انداز سے لے گا۔۔۔ آپ نے سنجیدگی سے لکھا ہوگا، لیکن ہم نے اس کو خوبصورت اور اچھوتا مزاح سمجھ لیا۔۔۔ :)
درست کہا:)
ویسے ایسی سنجیدگی سے بھی نہیں لکھا تھا ہم نے(n)
جاسمن — نومبر 17، 2019 4:50 شام
جو میں نے پوچھا بتاؤ مِری خطا کیا ہے؟
مرا سوال مری سمت اس نے موڑ دیا
بہت خوب!
عمدہ اشعار۔
محمد شکیل خورشید — نومبر 18، 2019 9:20 صبح
سیلیس الفاظ میں بہت بامعنیٰ شاعری ہے، شائد یہ تاثر ظہیر بھائی کی غزلیں پڑھنے کے فورا بعد یہ غزل پڑھنے کی وجہ سے ہو، لیکن ایک خوشگوار آسانی کا احساس ہے
زبردست

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D9%88%D8%B3%D8%A7-%D8%AC%D8%B3-%D9%BE%DB%81-%DA%A9%D9%90%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D8%AA%D9%88%DA%91-%D8%AF%DB%8C%D8%A7.109182/