عمران شناور — اپریل 11، 2009 7:43 صبح
بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں
جینے دیتی نہیں اس کی پہلی نظر بول میں کیا کروں
تیرگی خوب ہے، کوئی ہمدم نہیں، کوئی رہبر نہیں
مجھ کو درپیش ہے ایک لمبا سفر بول میں کیا کروں
خود سے ہی بھاگ کر میں کہاں جاؤں گا، یونہی مر جاؤں گا
کوئی صورت بھی آتی نہیں اب نظر بول میں کیا کروں
میری تنہائی نے مجھ کو رسوا کیا، گھر بھی زندان ہے
مجھ پہ ہنسنے لگے اب تو دیوار و در بول میں کیا کروں
اڑ بھی سکتا نہیں، آگ ایسی لگی، کس کو الزام دوں
دھیرے دھیرے جلے ہیں مرے بال و پر بول میں کیا کروں
تو مرا ہو گیا، میں ترا ہو گیا، اب کوئی غم نہیں
پھر بھی دل میں بچھڑنے کا رہتا ہے ڈر بول میں کیا کروں
(عمران شناور)
عمران شناور — اپریل 17، 2009 6:38 صبح
زینب جی! بہت بہت شکریہ
ملائکہ — اپریل 17، 2009 6:42 صبح
شکریہ شامل کرنے کا


عمران شناور — اپریل 17، 2009 8:51 صبح
شکریہ ملائکہ جی!
محمد وارث — اپریل 17، 2009 11:28 صبح
اچھی غزل ہے عمران صاحب، شکریہ شیئر کرنے کیلیے!
عمران شناور — اپریل 17، 2009 12:07 شام
حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ وارث صاحب!
مغزل — اپریل 17، 2009 12:31 شام
سبحان اللہ ، واہ بہت خو ب عمران صاحب ، کیا ہی عمدہ غزل پیش کی ہے جناب ، سدا خوش رہیں،
آصف شفیع — اپریل 17، 2009 1:05 شام
عمران! بہت خوب۔ بہت اچھا کہہ رہے ہو۔
ش زاد — اپریل 17، 2009 5:24 شام
عمران صاحب
بہت اچھی کاوش ہے
دعا ہے آپ اور بھی اچھا کہتے رہیں
شکریہ
محمداحمد — اپریل 22، 2009 9:55 صبح
عمران شناور صاحب،
بہت عمدہ کلام ہے، سب ہی اشعار خوب ہیں۔ خاکسار کی جانب سے داد و تحسین کا نذرانہ پیشِ خدمت ہے۔
خوش رہیے۔
شاہ حسین — اپریل 30، 2009 3:09 صبح
بُہت شکریہ عمران شناور صاحب
اچھی شراکت ہے
عمران شناور — مئی 9، 2009 5:57 صبح
شراکت پسند کرنے پر شکریہ شاہ جی!
ایم اے راجا — مئی 12، 2009 10:41 صبح
تیرگی خوب ہے، کوئی ہمدم نہیں، کوئی رہبر نہیں
مجھ کو درپیش ہے ایک لمبا سفر بول میں کیا کروں
خود سے ہی بھاگ کر میں کہاں جاؤں گا، یونہی مر جاؤں گا
کوئی صورت بھی آتی نہیں اب نظر بول میں کیا کروں
میری تنہائی نے مجھ کو رسوا کیا، گھر بھی زندان ہے
مجھ پہ ہنسنے لگے اب تو دیوار و در بول میں کیا کروں
واہ واہ بہت خوب، داد قبول ہو عمران صاحب۔
عمران شناور — مئی 12، 2009 1:34 شام
تیرگی خوب ہے، کوئی ہمدم نہیں، کوئی رہبر نہیں
مجھ کو درپیش ہے ایک لمبا سفر بول میں کیا کروں
خود سے ہی بھاگ کر میں کہاں جاؤں گا، یونہی مر جاؤں گا
کوئی صورت بھی آتی نہیں اب نظر بول میں کیا کروں
میری تنہائی نے مجھ کو رسوا کیا، گھر بھی زندان ہے
مجھ پہ ہنسنے لگے اب تو دیوار و در بول میں کیا کروں
واہ واہ بہت خوب، داد قبول ہو عمران صاحب۔
ایم اے راجا صاحب! بہت بہت شکریہ
آپ سے داد وصول کرکے واقعی بہت خوشی ہوئی
ایک مرتبہ پھر شکریہ