عمران شناور — اپریل 8، 2014 4:07 شام
بھوک کم کم ہے پیاس کم کم ہے
اب تو جینے کی آس کم کم ہے
سانس لیتے تھے ہجر موسم میں
اب یہ موسم بھی راس کم کم ہے
تتلیاں اڑ گئیں یہ غم لے کر
اب کے پھولوں میں باس کم کم ہے
دل جو ملنے کی ضد نہیں کرتا
اب یہ رہتا اداس کم کم ہے
اپنی حالت اسے بتا نہ سکوں
وہ جو چہرہ شناس کم کم ہے
عمران شناور
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 9، 2014 5:20 صبح
دل جو ملنے کی ضد نہیں کرتا
اب یہ رہتا اداس کم کم ہے
بہت عمدہ جناب۔۔۔
بہت سی داد۔۔
امر شہزاد — اپریل 13، 2014 4:18 شام
سانس لیتے تھے ہجر موسم میں
اب یہ موسم بھی راس کم کم ہے
واہ!
نوید رزاق بٹ — اپریل 13، 2014 6:13 شام
تتلیاں اڑ گئیں یہ غم لے کر
اب کے پھولوں میں باس کم کم ہے
بہت خوب!
الف عین — اپریل 13، 2014 6:19 شام
واہ بہت خوب عمران
عمران شناور — اپریل 28، 2014 1:32 شام
دل جو ملنے کی ضد نہیں کرتا
اب یہ رہتا اداس کم کم ہے
بہت عمدہ جناب۔۔۔
بہت سی داد۔۔
اسامہ صاحب بہت شکریہ
عمران شناور — اپریل 28، 2014 1:32 شام
سانس لیتے تھے ہجر موسم میں
اب یہ موسم بھی راس کم کم ہے
واہ!
امر شہزاد صاحب بہت شکریہ
عمران شناور — اپریل 28، 2014 1:32 شام
تتلیاں اڑ گئیں یہ غم لے کر
اب کے پھولوں میں باس کم کم ہے
بہت خوب!
نوید رزاق صاحب بہت شکریہ
عمران شناور — اپریل 28، 2014 1:33 شام
اعجاز عبید صاحب بہت محبت۔ بے حد شکریہ