بھوکا بُرا لگا ، کبھی روٹی بری لگی

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 28، 2016 7:56 شام
غزل
بازی انا کی ، بھوک سے کیسی بری لگی
بھوکا بُرا لگا ، کبھی روٹی بری لگی
خانہ بدوشیوں کے یہ دکھ بھی عجیب ہیں
چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی
روشن دریچے کر گئے کچھ اور بھی اداس
صحرا مزاج آ نکھ کو بستی بری لگی
دشمن کی ناخدائی گوارا نہ تھی ہمیں
غرقاب ہوتے ہوتے بھی کشتی بری لگی
خود پر دیارِ غیر کی نسبت نہ رکھ سکا
بیٹے کو ماں کے نام کی گالی بری لگی
سیکھا تھا ننگے پیروں سے چلنا جہاں ظہیر
پاپوش مل گئے تو وہ مٹی بری لگی
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۰​
محمد تابش صدیقی — ستمبر 29، 2016 5:54 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی، لاجواب
روشن دریچے کر گئے کچھ اور بھی اداس
صحرا مزاج آ نکھ کو بستی بری لگی
دشمن کی ناخدائی گوارا نہ تھی ہمیں
غرقاب ہوتے ہوتے بھی کشتی بری لگی

اور کیا ہی سچا شعر ہے
سیکھا تھا ننگے پیروں سے چلنا جہاں ظہیر
پاپوش مل گئے تو وہ مٹی بری لگی
ادب دوست — ستمبر 29، 2016 7:59 صبح
غزل
بازی انا کی ، بھوک سے کیسی بری لگی
بھوکا بُرا لگا ، کبھی روٹی بری لگی
خانہ بدوشیوں کے یہ دکھ بھی عجیب ہیں
چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی
روشن دریچے کر گئے کچھ اور بھی اداس
صحرا مزاج آ نکھ کو بستی بری لگی
دشمن کی ناخدائی گوارا نہ تھی ہمیں
غرقاب ہوتے ہوتے بھی کشتی بری لگی
خود پر دیارِ غیر کی نسبت نہ رکھ سکا
بیٹے کو ماں کے نام کی گالی بری لگی
سیکھا تھا ننگے پیروں سے چلنا جہاں ظہیر
پاپوش مل گئے تو وہ مٹی بری لگی
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۰​

لاجواب ...بہترین واہ واہ واہ ظہیر بھائی کیا کہنے کیا کہنے ایک ایک شعر گویا موتی ہو واہ واہ واہ ..
حسن محمود جماعتی — ستمبر 29، 2016 8:33 صبح
سر بہت ہی عمدہ کلام ۔۔۔۔ کیا ہی کہنے۔۔!!
میرے استاد محترم نے اک شعر سنایا تھا۔۔۔
جس کا اقبال زمانے میں بلند ہوتا ہے
اسے بچپن کے رفیقوں سے حیا آتی ہے۔۔۔۔۔
سیکھا تھا ننگے پیروں سے چلنا جہاں ظہیر
پاپوش مل گئے تو وہ مٹی بری لگی
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 9:08 صبح
ظہیر بھائی!
ماشاءاللہ! خوبصورت غزل!
خانہ بدوشیوں کے یہ دکھ بھی عجیب ہیں
چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی
کیا کہنے!
دشمن کی ناخدائی گوارا نہ تھی ہمیں
غرقاب ہوتے ہوتے بھی کشتی بری لگی
کمال!!!
سیکھا تھا ننگے پیروں سے چلنا جہاں ظہیر
پاپوش مل گئے تو وہ مٹی بری لگی
بہت خوب!
ہمیشہ کی طرح لاجواب کلام۔
خاکسار کی جانب سے نذرانہء تحسین قبول ہو۔
محمد وارث — ستمبر 29، 2016 11:09 صبح
خوبصورت غزل ہے ظہیر صاحب، جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، واہ واہ۔
جاسمن — جولائی 19، 2020 5:51 صبح
زبردست پہ ہزاروں زبریں۔
بہت خوبصورت اشعار۔
ڈھیروں داد۔
مقبول — جولائی 31، 2020 2:02 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے
ظہیراحمدظہیر — اگست 5، 2020 11:07 شام
احبابِ کرام ! جواب میں تاخیر پر انتہائی شرمندہ ہوں ۔ اظہارِ پسندیدگی پر تمام دوستوں کا شکرگزار ہوں ، عزت افزائی اور ذرہ نوازی پر سراپا سپاس ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے ، خوشیاں عطا فرمائے ۔ آمین !
محمد شکیل خورشید — اگست 6، 2020 7:31 صبح
بہت خوب سر
صابرہ امین — اگست 6، 2020 2:10 شام
کتنا اچھا لکھتے ہیں آپ، ماشااللہ
اللہ قلم میں اور طاقت اور برکت دے ۔ ۔ آمین:)
ظہیراحمدظہیر — اگست 6، 2020 11:07 شام
کتنا اچھا لکھتے ہیں آپ، ماشااللہ
اللہ قلم میں اور طاقت ارو برکت دے ۔ ۔ آمین:)
نوازش! بہت شکریہ! اللہ کریم آپ کوخوش رکھے ، دین و دنیا کی فلاح نصیب فرمائے ۔
خواہرم جاسمن کا بھی شکریہ کہ چار سال پہلے پوسٹ کی ہوئی اس پرانی غزل کو پھر سے تازہ کردیا ۔
نور وجدان — اگست 7، 2020 9:49 صبح
غزل
بازی انا کی ، بھوک سے کیسی بری لگی
بھوکا بُرا لگا ، کبھی روٹی بری لگی
خانہ بدوشیوں کے یہ دکھ بھی عجیب ہیں
چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی
روشن دریچے کر گئے کچھ اور بھی اداس
صحرا مزاج آ نکھ کو بستی بری لگی
دشمن کی ناخدائی گوارا نہ تھی ہمیں
غرقاب ہوتے ہوتے بھی کشتی بری لگی
خود پر دیارِ غیر کی نسبت نہ رکھ سکا
بیٹے کو ماں کے نام کی گالی بری لگی
سیکھا تھا ننگے پیروں سے چلنا جہاں ظہیر
پاپوش مل گئے تو وہ مٹی بری لگی
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۰​
اک دھیمی سی اداسی کے لے پر لکھے گئے اشعار دل میں اتر گئے ... آپ بہت اچھا کہتے ہیں مگر آپ کا وہ نام نہیں جو ہونا چاہیے تھا
سید عاطف علی — اگست 7، 2020 10:17 صبح
خانہ بدوشیوں کے یہ دکھ بھی عجیب ہیں
چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی
واہ ظہیر بھائی واہ !کمال !
اتنی پرانی غزل آج نظر آگئی ۔ شاد آباد رہیں ۔
چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی ۔ واہ
ظہیراحمدظہیر — اگست 8، 2020 12:10 صبح
بہت شکریہ، نوازش شکیل بھائی ! سر تو آپ ہیں ، مجھے تو خاک پا ہی سمجھئے ۔ :):):)
کتنا اچھا لکھتے ہیں آپ، ماشااللہ
اللہ قلم میں اور طاقت اور برکت دے ۔ ۔ آمین:)
بہت شکریہ! اللہ آپ کو خوش رکھے!
اک دھیمی سی اداسی کے لے پر لکھے گئے اشعار دل میں اتر گئے ... آپ بہت اچھا کہتے ہیں مگر آپ کا وہ نام نہیں جو ہونا چاہیے تھا
نوازش، بہت شکریہ! بہت ممنون ہوں قدر افزائی کے لئے ، نور صاحبہ۔
الحمدللہ ، نام کا ہونا یا ہونا کبھی میرا مسئلہ نہیں رہا۔ گوشہ نشینی مجھے راس ہے ۔اور ویسے بھی: کچھ شاعری ذریعہء عزت نہیں مجھے :)
اللہ کریم مجھے اپنی بارگاہ میں سرخروکردے بس یہی تمنا ہے ۔
واہ ظہیر بھائی واہ !کمال !
اتنی پرانی غزل آج نظر آگئی ۔ شاد آباد رہیں ۔
چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی ۔ واہ
بہت بہت شکریہ عاطف بھائی ! آپ کی محبت ہے اور سراسر ذرہ نوازی ہے ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے ، شاد و آباد رکھے! آمین ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%D9%8F%D8%B1%D8%A7-%D9%84%DA%AF%D8%A7-%D8%8C-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D9%B9%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%DB%8C-%D9%84%DA%AF%DB%8C.92176/