بیماری

نوید رزاق بٹ — مارچ 31، 2014 8:59 شام
"بیماری"

پنچھی جو پَلے ہوں پنجروں میں*
پرواز کو سمجھیں بیماری
جو ہونٹ سِلے ہوں صدیوں سے
آواز کو سمجھیں بیماری
جو تار کبھی نہ تڑپے ہوں
وہ ساز کو سمجھیں بیماری

(نوید رزاق بٹ)
(* پہلا شعر مصنف اور فلمساز الیگزندرو جودوروسکی کے قول کا ترجمہ ہے)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C.73141/