تازہ غزل - الجھے ہوئے گیسو میں گرفتار کا عالم !

کاشف اسرار احمد — مئی 25، 2015 2:54 شام
احباب کے ساتھ ایک تازہ غزل شیر و شکر کر رہا ہوں
مطلع کے ضمن میں تنقید و اصلاح کا بالخصوص منتظر رہونگا۔
امید ہے کہ باقی اشعار کے ساتھ محبت سے پیش آئینگے ۔ :p
--------------------------------------
روشن ترے رُخ کے لب و رخسار کا عالم !
الجھے ہوئے گیسو میں گرفتار کا عالم !
کی حسن کی تعریف تو برہم ہوئے کیا کیا!
ماتھے کی شِکن، ابرُوِ خمدار کا عالم !!
بے ساختہ آنچل سے، مرے ہاتھوں کو کسنا
پھر شرم سے رُخ پر گُل و گُلنار کا عالم !
دالان میں بارش کے مہینوں کی وہ راتیں
وہ مینھ، وہ طوفان، وہ بوچھار کا عالم !
وہ کوندتی بجلی وہ گرجتے ہوئے بادل
ہاتھوں میں لئے ہاتھ وہ اقرار کا عالم!
کیا میرے بِنا تم نے کِیا گھر کا تصوّر ؟
شوخی بھرے اثبات میں انکار کا عالم!
میں تم کو کبھی چھوڑ کے جانے نہیں دونگا !
تم سے ہے مرے گھر، گُل و گلزار کا عالم !
ہم ساتھ چلیں مِل کے اگر، دیکھنا پھر تم !
اِس وقت کی بدلی ہوئی رفتار کا عالم !
وہ "سُنیے ذَرا" کہہ کے ترا، مجھ کو بلانا
رگ رگ میں اترتی کسی جھنکار کا عالم !
تھی تشنگی اک عمر سے ہونٹوں پہ ہمارے
اب خواب میں بھی پیاس کے آزار کا عالم !
وعدوں کے ترے سارے بھرم ٹوٹ رہے ہیں
کس کس کو دکھاؤں دلِ نادار کا عالم !
کیا طرز و ترنّم ہے ان اشعار میں کاشف
ہر دل سے گزرتا ہوا ملہار کا عالم !
سید کاشف
-------------------------------
ماہ نوراحمد — مئی 25، 2015 3:06 شام
روشن ترے رُخ کے لب و رخسار کا عالم !
الجھے ہوئے گیسو میں گرفتار کا عالم !
روشن کی جگہ استعارہ استعمال کریں ۔مطلع واضح ہوگا
ماہ نوراحمد — مئی 25، 2015 3:08 شام
ی حسن کی تعریف تو برہم ہوئے کیا کیا
کیا کیا یہاں مناسب نہیں لگ رہا۔سارا شعر خراب ہوگیا
ماہ نوراحمد — مئی 25، 2015 3:10 شام
بے ساختہ آنچل سے، مرے ہاتھوں کو کسنا
پھر شرم سے رُخ پر گُل و گُلنار کا عالم !
دالان میں بارش کے مہینوں کی وہ راتیں
وہ مینھ، وہ طوفان، وہ بوچھار کا عالم !
وہ کوندتی بجلی وہ گرجتے ہوئے بادل
ہاتھوں میں لئے ہاتھ وہ اقرار کا عالم!

یہ خوب اشعار ہیں. ان کا ربط غزل کے شعر ثابی سے نہیں ہے
ماہ نوراحمد — مئی 25، 2015 3:12 شام
وعدوں کے ترے سارے بھرم ٹوٹ رہے ہیں
کس کس کو دکھاؤں دلِ نادار کا عالم !
خوب شعر! داد
وعدوں کے ترے سارے بھرم ٹوٹ رہے ہیں
کس کس کو دکھاؤں دلِ نادار کا عالم !
کاشف اسرار احمد — مئی 26، 2015 10:06 صبح
روشن کی جگہ استعارہ استعمال کریں ۔مطلع واضح ہوگا
پہلے تو آپ کا شکریہ ماہ نور۔
اس مشورے پر کام کیا جا سکتا ہے۔ دیکھتا ہوں ۔ ان شا اللہ۔
جیسے
چاند سے رخ پر لب و رخسار کا عالم ۔۔۔ ؟؟؟
کاشف اسرار احمد — مئی 26، 2015 10:08 صبح
کیا کیا یہاں مناسب نہیں لگ رہا۔سارا شعر خراب ہوگیا
اچھا ۔ چلیے سوچتا ہوں کچھ اور ۔
کاشف اسرار احمد — مئی 26، 2015 10:10 صبح
یہ خوب اشعار ہیں. ان کا ربط غزل کے شعر ثابی سے نہیں ہے
یہ اشعار کسی حد تک نظم کے سے لگ رہے ہیں۔ کنفیوزڈ ہوں ابھی تو !
کاشف اسرار احمد — مئی 26، 2015 10:10 صبح
شکریہ
ماہ نوراحمد — مئی 26، 2015 1:12 شام
عالم کے معانی یہاں پر سماع کے ہیں ۔ آپ کسی کے حسن میں گرفتار ہیں اس کا عالم ۔ اس کی وجہ کیا ہے اس کا عالم بر خلاف اس کے منظر لگے گا سب کچھ ۔
چاند سے رخ

رخ چہرہ کو ہی کہتے ہیں مگر چہرے کے ایک حصے کو ۔ ایک حصے کو دیکھ کر آپ اس عالم میں ہیں یا پورے چہرے کو دیکھ کر ۔
چاند سے چہرے پر لب و رخسار اور گیسو سے خصوصیت بیان ہو رہی ہے آپ اس شعر بنائیں کہ اُس کے عالم سے آپ پر کیا عالم ہوا ۔بات بن جائے گی
راحیل فاروق — مئی 26، 2015 1:41 شام
رخ چہرہ کو ہی کہتے ہیں مگر چہرے کے ایک حصے کو ۔ ایک حصے کو دیکھ کر آپ اس عالم میں ہیں یا پورے چہرے کو دیکھ کر ۔
چاند سے چہرے پر لب و رخسار اور گیسو سے خصوصیت بیان ہو رہی ہے آپ اس شعر بنائیں کہ اُس کے عالم سے آپ پر کیا عالم ہوا ۔بات بن جائے گی
کیا بات ہے سرکار۔ عورتیں تنقید کی تو ہمیشہ سے دھنی رہی ہیں مگر ادبی تنقید؟ مزا آ گیا۔ آپ جیسے چند سنجیدہ ناقد معاصر ادب کو مل جائیں تو ہمارے ادیب اور شاعر اتنے بے بضاعت شاید نہ رہیں۔
عالم کے معانی یہاں پر سماع کے ہیں ۔
سماں مراد ہے غالباً؟
ماہ نوراحمد — مئی 26، 2015 1:48 شام
کیا بات ہے سرکار۔ عورتیں تنقید کی تو ہمیشہ سے دھنی رہی ہیں مگر ادبی تنقید؟ مزا آ گیا۔ آپ جیسے چند سنجیدہ ناقد معاصر ادب کو مل جائیں تو ہمارے ادیب اور شاعر اتنے بے بضاعت شاید نہ رہیں۔
سماں مراد ہے غالباً؟
آپ نے عورت بنا دیا:(
شکریہ. شاعری سے شغف ہے. آپ نے کچھ زیادہ کہا ہے. تعریف تو خوش ہو کر لوں۔ آداب
میری مراد سماع اور سماں دونوں ہے ایک منظر جس میں آپ کو حواس ِ خمسہ سے لا تعلقی ہو. وجد یا ایکٹیسی انگریزی میں
احمد فراز کا ہے شاید یہ
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وارفتگی کی انتہا پر حواس نہیں کام کرتے جذبات کرتے ہی
راحیل فاروق — مئی 26، 2015 1:58 شام
اوہ۔ ہم سمجھ رہے تھے اللہ نے بنایا ہے۔ خیر، ہماری تخلیقی صلاحیتوں سے کچھ بعید نہیں۔
میری مراد سماع ہے ایک منظر جس میں آپ کو حواس ِ خمسہ سے لا تعلقی ہو. وجد یا ایکٹیسی انگریزی میں
وجد؟ اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب۔۔۔
سارا امپریشن خراب ہو گیا۔ آپ کا!
ماہ نوراحمد — مئی 26، 2015 2:01 شام
اوہ۔ ہم سمجھ رہے تھے اللہ نے بنایا ہے۔ خیر، ہماری تخلیقی صلاحیتوں سے کچھ بعید نہیں۔
وجد؟ اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب!
میرے چاند ہونے کا جواز نہ دے!
وجد بعنی گرفتار ہونا.
کاشف اسرار احمد — مئی 26، 2015 7:26 شام
مہتاب سے چہرے پہ وہ انوار کا عالم
اور حسن فروزاں میں گرفتار کا عالم
۔۔۔۔ کیسا ہے؟
کاشف اسرار احمد — مئی 26، 2015 7:32 شام
کچھ اور تصحیحات کے بعد یہاں دوبارہ پوری غزل چسپاں کر رہا ہوں۔۔
مہتاب سے چہرے پہ وہ انوار کا عالم !
اور حسن فروزاں میں گرفتار کا عالم !
کی حسن کی تعریف تو برہم ہوئے پھر تم!
ماتھے کی شِکن، ابرُوِ خمدار کا عالم !!
آنچل سے مرے ہاتھوں کو ، بے ساختہ کسنا
پھر شرم سے رُخ پر گُل و گُلنار کا عالم !
ق
دالان میں بارش کے مہینوں کی وہ راتیں
وہ مینھ، وہ طوفان، وہ بوچھار کا عالم !
وہ کوندتی بجلی وہ گرجتے ہوئے بادل
ہاتھوں میں لئے ہاتھ وہ اقرار کا عالم!
۔۔۔۔
کیا میرے بِنا تم نے کِیا گھر کا تصوّر ؟
شوخی بھرے اثبات میں انکار کا عالم!
میں تم کو کبھی چھوڑ کے جانے نہیں دونگا !
تم سے ہے مرے گھر، گُل و گلزار کا عالم !
ہم ساتھ چلیں مِل کے اگر، دیکھنا پھر تم !
اِس وقت کی بدلی ہوئی رفتار کا عالم !
وہ "سُنیے ذَرا" کہہ کے ترا، مجھ کو بلانا
رگ رگ میں بکھرتی کسی جھنکار کا عالم !
تھی تشنگی اک عمر سے ہونٹوں پہ ہمارے
اب خواب میں بھی پیاس کے آزار کا عالم !
وعدوں کے ترے سارے بھرم ٹوٹ رہے ہیں
کس کس کو دکھاؤں دلِ نادار کا عالم !
کیا طرز و ترنّم ہے ان اشعار میں کاشف
ہر دل سے گزرتا ہوا ملہار کا عالم !
سید کاشف
-------------------------------
Arshad khan — جولائی 16، 2015 4:25 شام
ﮐﯽ ﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺗﻮ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ !
ﻣﺎﺗﮭﮯ ﮐﯽ ﺷِﮑﻦ، ﺍﺑﺮُﻭِ ﺧﻤﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ
میرے بھائی کیا کیا درست تها اس شعر میں پهر تم میں وہ بات نہیں
الف عین — جولائی 17، 2015 12:33 صبح
مجھ کو لگ رہا ہے کہ میں اس پر بات کر چکا ہوں، لیکن یہاں میری کوئی پوسٹ نہیں!! فی الحال تو میں صرف گرفتار کا عالم‘ پر غور کر رہا ہوں کہ کیسا ہوتا ہو گا!
کاشف اسرار احمد — جولائی 17، 2015 6:55 صبح
استاد محترم وہ اصلاح سخن کے سیکشن میں ہے۔ :)
شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%DA%AF%DB%8C%D8%B3%D9%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85.82199/