تازہ غزل : اٹھاؤں کیسے میں بارِ گرانِ سجدہء شوق

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 4:35 شام

اٹھاؤں کیسے میں بارِ گرانِ سجدہء شوق
کہاں زمین ، کہاں آسمانِ سجدہء شوق
نبردِ عشقِ بلا کش کہاں ہوئی ہے تمام
ابھی تو دور ہے سر سے امانِ سجدہء شوق
زمانے بھر کو مسلسل فرازِ نیزہ سے
سنا رہا ہے کوئی داستانِ سجدہء شوق
حقیقت اس کی مری حسرتِ نیاز سے پوچھ
زمانے بھر کو ہے جس پر گمانِ سجدہء شوق
وہ سنگِ در تو کجا ، اُس کی رہگزر دیکھو
قدم قدم پہ سجے ہیں نشانِ سجدہء شوق
مزا تو تب ہے کہ کھوجائیں آستان و جبیں
بس ایک تو رہے باقی میانِ سجدہء شوق
وہ روحِ بندگی جس کی تلاش میں ہے جبیں
ہے ماورائے زمین و زمان ِ سجدہء شوق
خدائے منبر و محراب ! یہ دعا ہے مری
کہ لامکاں میں عطا ہو مکانِ سجدہء شوق
ظہیر کیجے وضو آبِ انفعال سے آپ
ہوئی ہے خلوتِ جاں میں اذانِ سجدہء شوق
۔۔۔۔ اکتوبر ۲۰۱۵ ۔۔۔۔۔۔​
سید عاطف علی — دسمبر 22، 2015 5:12 شام
خدائے منبر و محراب ! یہ دعا ہے مری
کہ لامکاں میں عطا ہو مکانِ سجدہء شوق
واہ بہت خوب بیان ہے ۔
محمد تابش صدیقی — دسمبر 22، 2015 5:15 شام
کیا کہنے۔
مزا تو تب ہے کہ کھوجائیں آستان و جبیں
بس ایک تو رہے باقی میانِ سجدہء شوق
وہ روحِ بندگی جس کی تلاش میں ہے جبیں
ہے ماورائے زمین و زمان ِ سجدہء شوق
خدائے منبر و محراب ! یہ دعا ہے مری
کہ لامکاں میں عطا ہو مکانِ سجدہء شوق
آمین
ادب دوست — دسمبر 22، 2015 6:36 شام
اٹھاؤں کیسے میں بارِ گرانِ سجدہء شوق
کہاں زمین ، کہاں آسمانِ سجدہء شوق

کیا کہنے ظہیر بھائی کیا کہنے بہت بہت داد قبول کیجئے
الف عین — دسمبر 22، 2015 7:36 شام
وہ ۔ بہت عمدہ غزل کہی ہے
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 10:26 شام
خدائے منبر و محراب ! یہ دعا ہے مری
کہ لامکاں میں عطا ہو مکانِ سجدہء شوق
واہ بہت خوب بیان ہے ۔

بہت عنایت عاطف بھائی ۔ نوازش!!
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 10:27 شام
مجھےخوشی ہے کہ آپ کو اشعار پسند آئے ۔ اللہ تعالیٰ ذوق سلامت رکھے ! بہت نوازش!
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 10:28 شام
کیا کہنے ظہیر بھائی کیا کہنے بہت بہت داد قبول کیجئے

بہت بہت شکریہ نذیر صاحب ! خدا آپ کو خوش رکھے۔ بہت نوازش!
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 10:31 شام
وہ ۔ بہت عمدہ غزل کہی ہے
ذرہ نوازی ہے آپ کی اعجاز بھائی! آپ کی محبت ہے ۔ بہت خوش ہوں کہ آپ کو پسند آئی ۔
الشفاء — دسمبر 23، 2015 5:17 صبح
واہ۔ کیا کہنے ۔۔۔ اور مسحور کن شعر ہے کہ
مزا تو تب ہے کہ کھوجائیں آستان و جبیں
بس ایک تو رہے باقی میانِ سجدہء شوق
واہ۔
محمد وارث — دسمبر 23، 2015 8:45 صبح
لاجواب، کیا خوب غزل ہے ظہیر صاحب۔
فاتح — دسمبر 23، 2015 9:13 صبح
واہ واہ واہ کیا ہی خوبصورت غزل ہے اور ایسی مشکل ردیف کو اتنی سہولت سے نبھایا ہے تمام اشعار میں کہ کہیں کرکرا پن محسوس نہیں ہوتا بلکہ قاری اس کی روانی اور سلاست میں بہتا چلا جاتا ہے۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 23، 2015 6:54 شام
واہ۔ کیا کہنے ۔۔۔ اور مسحور کن شعر ہے کہ
واہ۔
ایک گنہگار کی آرزوئیں ہیں یہ ! آپ کو شعر پسند آیا تو بہت خوشی ہوئی ۔ بہت نوازش! اللہ سلامت رکھے !
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 23، 2015 6:56 شام
لاجواب، کیا خوب غزل ہے ظہیر صاحب۔
وارث بھائی ! بہت ممنون ہوں آپ کی اس حوصلہ افزائی کے لئے ۔ بہت نوازش ! خدا آپ کو سلامت رکھے !
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 23، 2015 6:59 شام
واہ واہ واہ کیا ہی خوبصورت غزل ہے اور ایسی مشکل ردیف کو اتنی سہولت سے نبھایا ہے تمام اشعار میں کہ کہیں کرکرا پن محسوس نہیں ہوتا بلکہ قاری اس کی روانی اور سلاست میں بہتا چلا جاتا ہے۔
حضور یہ آپ کی خوش نظری ہے ! دل بڑھادیا آپ کے تبصرے نے ۔ بہت ممنون ہوں ۔ خدا آپ کو سلامت رکھے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D9%90-%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%90-%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81%D8%A1-%D8%B4%D9%88%D9%82.86593/