تازہ غزل : دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 10، 2018 9:54 صبح
دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے
یہ سنگِ در ترا سار ےگھروں سے اونچا ہے
مقامِ عجز کو بخشی گئی ہے رفعتِ خاص
جو سر خمیدہ ہے وہ ہمسروں سے اونچا ہے
فرازِ طور کی خواہش نہ کر ابھی اے عشق!
یہ آسمان ابھی تیرے پروں سے اونچا ہے
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے
فریبِ قامتِ رہبر نہ کھاؤ ہمسفرو !
وہ دیکھو قدِ عَلم رہبروں سے اونچا ہے
یہ اشکِ ہجر تو سیلاب بن گیا ہے ظہیرؔ
جدھر بھی دیکھئے پانی سروں سے اونچا ہے
(جون ۲۰۱۸)
ابوعبید — ستمبر 10، 2018 9:56 صبح
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے
کیا ہی خوبصورت اشعار ہیں ۔۔ کیا کہنے سر ۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 10، 2018 10:01 صبح
لاجواب ظہیر بھائی۔پوری غزل ہی شاندار
اور ان اشعار کی تو کیا ہی بات ہے۔
مقامِ عجز کو بخشی گئی ہے رفعتِ خاص
جو سر خمیدہ ہے وہ ہمسروں سے اونچا ہے

خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے
وجاہت حسین — ستمبر 10، 2018 10:08 صبح
واہ. ماشاءاللہ. بہت خوبصورت غزل.
فرازِ طور کی خواہش نہ کر ابھی اے عشق!
یہ آسمان ابھی تیرے پروں سے اونچا ہے
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے
یہ اشکِ ہجر تو سیلاب بن گیا ہے ظہیرؔ
جدھر بھی دیکھئے پانی سروں سے اونچا ہے
یہ تو حد درجہ خوبصورت ہیں.
عرفان سعید — ستمبر 10، 2018 10:10 صبح
واہ واہ! لاجواب ظہیر بھائی
یہ اشعار تو کمال کے ہیں!
فرازِ طور کی خواہش نہ کر ابھی اے عشق!
یہ آسمان ابھی تیرے پروں سے اونچا ہے
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے
فریبِ قامتِ رہبر نہ کھاؤ ہمسفرو !
وہ دیکھو قدِ عَلم رہبروں سے اونچا ہے
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 10، 2018 10:40 صبح
ہر شعر لاجواب اور شاندار ہے ظہیر بھائی ،
دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے
یہ سنگِ در ترا سار ےگھروں سے اونچا ہے
اس شعر پر تو ہم آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، بہت بہت عمدہ اور زبردست ہے ۔
محمد خرم یاسین — ستمبر 10، 2018 10:47 صبح
دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے
یہ سنگِ در ترا سار ےگھروں سے اونچا ہے
مقامِ عجز کو بخشی گئی ہے رفعتِ خاص
جو سر خمیدہ ہے وہ ہمسروں سے اونچا ہے
فرازِ طور کی خواہش نہ کر ابھی اے عشق!
یہ آسمان ابھی تیرے پروں سے اونچا ہے
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے
فریبِ قامتِ رہبر نہ کھاؤ ہمسفرو !
وہ دیکھو قدِ عَلم رہبروں سے اونچا ہے
یہ اشکِ ہجر تو سیلاب بن گیا ہے ظہیرؔ
جدھر بھی دیکھئے پانی سروں سے اونچا ہے
(جون ۲۰۱۸)
واہ کیا کہنے!
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 10، 2018 11:04 صبح
خوب صورت۔ خوب صورت!!!
عبید انصاری — ستمبر 10، 2018 12:00 شام
کیا بات ہے۔
لا جواب!
الف نظامی — ستمبر 10، 2018 12:11 شام
دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے
یہ سنگِ در ترا سار ےگھروں سے اونچا ہے

فہد اشرف — ستمبر 10، 2018 1:36 شام
واہ واہ! بہت ہی خوبصورت غزل، کیا کہنے۔
الف عین — ستمبر 10، 2018 3:31 شام
واہ مبارکباد قبول کریں
ربیع م — ستمبر 10، 2018 5:21 شام
لاجواب
یاسر شاہ — ستمبر 15، 2018 6:12 شام
دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے
یہ سنگِ در ترا سار ےگھروں سے اونچا ہے
مقامِ عجز کو بخشی گئی ہے رفعتِ خاص
جو سر خمیدہ ہے وہ ہمسروں سے اونچا ہے
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے

واہ صاحب واہ !
سردار محمد نعیم — ستمبر 15، 2018 7:03 شام
پوری غزل ہی لاجواب ہے ماشاء اللہ ۔
نوید ناظم — ستمبر 17، 2018 10:39 صبح
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے
واہ ۔۔۔ ظہیر بھائی اس شعر پر داد نہیں بلکہ دل لیجیے۔۔۔ کمال کر دیا آپ نے۔
جاسمن — اکتوبر 28، 2018 4:12 صبح
سب اشعار لاجواب۔۔۔انمول۔۔۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔۔۔۔۔۔
منیب الف — نومبر 25، 2018 7:15 صبح
واہ وا۔۔ لاجواب اشعار!
فاخر رضا — اکتوبر 3، 2019 7:38 شام
خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ
مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا ہے

بہت خوب
اور مطلع بھی بہت اچھا ہے
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 5، 2019 3:56 صبح
سب اشعار لاجواب۔۔۔انمول۔۔۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔۔۔۔۔۔

واہ وا۔۔ لاجواب اشعار!

بہت خوب
اور مطلع بھی بہت اچھا ہے

بہت بہت شکریہ ! بہت ممنون ہوں ۔ اللہ کریم آپ سب کو خوش رکھے! جواب میں تاخیر پر بیحد معذرت خواہ ہوں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D8%B4%D9%88%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A8-%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%88%D9%86%DA%86%D8%A7-%DB%81%DB%92.103177/