راحیل فاروق — نومبر 15، 2016 9:58 شام
تامل، تذبذب، تردد، تکلف
محبت کی جھوٹی ادا کاریاں، اُف!
اسے جاننے والے پہچانتے ہیں
ستم گر کا ہے نام اس کا تعارف
مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف
محبت تھی دنیا سے، دنیا نے مارا
محبت پر افسوس، محبوب پر تُف!
مِرا حاصلِ عمر مَیں ہوں، الٰہی!
سراپا ندامت، سراپا تاسُف
ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل؟ کہاں کا توقف؟
غزل یہ ہے راحیلؔ شانِ تغزل
اسے کہتے ہیں قافیے کا تصرف
راحیلؔ فاروق
۱۶ نومبر، ۲۰۱۶ء
مریم افتخار — نومبر 16، 2016 2:33 صبح
ظہیر عباس ورک — نومبر 16، 2016 3:54 صبح
مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف
داد طلب!اعلی
حسن محمود جماعتی — نومبر 16، 2016 4:03 صبح
ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل؟ کہاں کا توقف؟
تم جب ہستی سے نکلے توبس اس لمحے
ہم سے بھی پھر آخری بس اک آہ نکلی ہے
بہت خوب قبلہ۔ زبردست کیا کہنے آپ کے۔
فہد اشرف — نومبر 16، 2016 4:13 صبح
اتنی خوبصورت غزل اف

محمد تابش صدیقی — نومبر 16، 2016 4:40 صبح
اللہ سلامت رکھے راحیل بھائی.
تامل، تذبذب، تردد، تکلف
محبت کی جھوٹی ادا کاریاں، اُف!
اسے جاننے والے پہچانتے ہیں
ستم گر کا ہے نام اس کا تعارف
مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف
محبت تھی دنیا سے، دنیا نے مارا
محبت پر افسوس، محبوب پر تُف!
مِرا حاصلِ عمر مَیں ہوں، الٰہی!
سراپا ندامت، سراپا تاسُف
ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل؟ کہاں کا توقف؟
غزل یہ ہے راحیلؔ شانِ تغزل
اسے کہتے ہیں قافیے کا تصرف
راحیلؔ فاروق
۱۶ نومبر، ۲۰۱۶ء
اکمل زیدی — نومبر 16، 2016 4:43 صبح
اور۔ ۔ ۔۔ خوب ھی ۔ ۔ ۔ تصرف کیا آپ نے ۔ ۔ ۔ ۔

محمد تابش صدیقی — نومبر 16، 2016 4:48 صبح
مِرا حاصلِ عمر مَیں ہوں، الٰہی!
سراپا ندامت، سراپا تاسُف
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 16، 2016 4:59 صبح
محمداحمد — نومبر 16، 2016 6:45 صبح
تامل، تذبذب، تردد، تکلف
محبت کی جھوٹی ادا کاریاں، اُف!
اُف ۔۔۔۔!
اسے جاننے والے پہچانتے ہیں
ستم گر کا ہے نام اس کا تعارف
ویسے شاعر نے تو کہا تھا کہ
کیا ستم ہے کہ ستم گر کو ستم گر نہ کہوں

لیکن آپ کا والا تو اسمِ بامسمی لگ رہا ہے۔
مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف
کیا کہنے!
محبت تھی دنیا سے، دنیا نے مارا
محبت پر افسوس، محبوب پر تُف!
ہائے

مِرا حاصلِ عمر مَیں ہوں، الٰہی!
سراپا ندامت، سراپا تاسُف
کمال کمال!
ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل؟ کہاں کا توقف؟
واہ واہ واہ!
غزل یہ ہے راحیلؔ شانِ تغزل
اسے کہتے ہیں قافیے کا تصرف
بلا شبہ! خوب حق ادا کیا ہے آپ نے قافیے کا۔
ماشاءاللہ۔ بہت خوبصورت غزل!
بہت سی داد اور مبارکباد بھائی کے لئےً!
سید عاطف علی — نومبر 16، 2016 8:28 صبح
واہ راحیل بھئی۔ میں تو اس پرکار سادگی کے تکلف پر اف کے علاوہ کچھ نہ کہہ سکا۔بہت ہی پر لطف بیان۔سبحان اللہ
فاخر رضا — نومبر 16، 2016 8:34 صبح
سلامت رہیں. کوئی الفاظ نہیں مل رہے تعریف کے لیے. نہایت خوبصورت. اور مقطع یقیناً سچ ہے.
آپ اتنا زور دماغ پر ڈالتے ہیں، آپ کو کم از کم ایک من بادام تو ہر مہینے کھانے چاہئیں
محمد اسامہ سَرسَری — نومبر 16، 2016 9:01 صبح
مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف
بہت اعلیٰ جناب!
لاریب مرزا — نومبر 16، 2016 10:44 صبح
بہت خوب!!
نوید ناظم — نومبر 16، 2016 11:57 صبح
لا جواب ہے !!
ادب دوست — نومبر 16، 2016 1:48 شام
کیا کہنے راحیل بھائی واہ واہ
ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل؟ کہاں کا توقف؟
جانِ غزل
واہ واہ بہت خوب
ظہیر عباس ورک — نومبر 16، 2016 1:54 شام
تم جب ہستی سے نکلے توبس اس لمحے
ہم سے بھی پھر آخری بس اک آہ نکلی ہے
بہت خوب قبلہ۔ زبردست کیا کہنے آپ کے۔
ایک ایسا ہی شعر پیش خدمت ہے!
ادھر وہ گھر سے نکل پڑے ہیں،ادھر میرا دم نکل رہا ہے
الہی کیسی ہے یہ قیامت، وہ آرہے ہیں، میں جا رہا ہوں
علی چشتی — نومبر 16، 2016 3:25 شام
واہ واہ کیا بات ہے.. اُف
ابن رضا — نومبر 16، 2016 5:40 شام
واہ واہ حضور بہت عمدہ۔۔۔۔۔ گلہائے تحسین قبولیے
ذرا ہم پہ بھی ہو نگاہِ تلطف
سکھادیں ہمیں بھی یہ عمدہ تصرف
دِکھائیِں ہمیں پیرہن میں غزل کے
نہایت ہی اچھی کلاکاریاں، اُف
کاشف اسرار احمد — نومبر 16، 2016 6:23 شام
بہت خوبصورت غزل ہے راحیل بھائی۔
ایک ایک شعر حسنِ بیان کا جیتا جاگتا ثبوت۔ ماشا اللہ
یہاں شاید ٹائپو ہے اور اس طرح ہے:
محبت تھی دنیا سے، دنیا نے مارا
محبت پہ افسوس، محبوب پر تُف!
ڈھیروں داد !