تاویل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک نظم

یاسر شاہ — مارچ 22، 2015 7:45 شام
تاویل
ایک نظم
نظم ہم نے جویہ حکایت کی
ابنِ جوزی (رح) سے ہے روایت کی
کتے نے ایک روز ہمّت کی
شیر کے آگے جا شکایت کی
سارے جنگل کے بادشاہ ہیں آپ
ہم رعایا ہیں عالی حضرت کی
کتا بھی کوئی نام ہے شا ہا !
ایک دشنام ہے حقارت کی
اسمِ نعمُ البدل پہ غور کریں
کہ ہے ایجاد ماں ضرورت کی
شیر بولا ہے نام تیرا درست
خو بری تجھ میں ہے خیانت کی
کر چکا توبہ میں خیانت سے
اپنی کتے نے یوں وکالت کی
شیر کہنے لگا کہ دیکھتے ہیں
پائیداری تری ندامت کی
لے یہ رکھ گوشت ایک دن کے لئے
ہم نے تیرے سپرد امانت کی
شیر رخصت ہوا تو کتے نے
ہر طرح گوشت کی حفاظت کی
رال ٹپکی تو سانس روک لیا
نفس للچایا تو ملامت کی
جبرِ وقتی تو کوئی چیز نہیں
بات ہے اصل استقامت کی
آخر کار سوچنے لگا جب
عود آئی خرابی فطرت کی
نام کتے میں کیا برائی ہے
ایک خوبی یہ بھی ہے قسمت کی
نام سب سے برا ہے سوّر کا
ہائے کیا زندگی ہے راحت کی
گوشت کے لوتھڑے پہ ٹوٹ پڑا
چند لمحوں میں چٹ امانت کی
سگ سے پرہیزگاری مشکل ہے
منھ نہ مارے 'یہ خواری مشکل ہے
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 22، 2015 8:33 شام
بہت عمدہ ، داد قبول فرمائیے جناب!
الف عین — مارچ 23، 2015 4:07 صبح
بہت خوب
یاسر شاہ — مارچ 23، 2015 2:41 شام
بہت عمدہ ، داد قبول فرمائیے جناب!

محترمی حوصلہ افزائی کا ممنون ہوں -جزاک الله خیرا -
یاسر شاہ — مارچ 23، 2015 2:47 شام
محترمی آپ کے یہ دوحرف میرے لئے اعزاز سے کم نہیں -جزاک الله خیرا
ادب دوست — مارچ 23، 2015 2:59 شام
بہت خوب
یاسر شاہ — مارچ 25، 2015 7:28 صبح
جزاک اللہ محترم -نوازش
ادب دوست — مارچ 25، 2015 8:34 صبح
میں نے دوبارہ پڑھا -
یہ واقعی بہت بہت خوبصورت ہے
جواب نہیں
یاسر شاہ — مارچ 28، 2015 11:57 صبح
میں نے دوبارہ پڑھا -
یہ واقعی بہت بہت خوبصورت ہے
جواب نہیں

از سر نو آپ کا ممنون ہوں -جزاک اللہ خیرا
منیب الف — نومبر 27، 2018 3:20 شام
تاویل
ایک نظم
نظم ہم نے جویہ حکایت کی
ابنِ جوزی (رح) سے ہے روایت کی
کتے نے ایک روز ہمّت کی
شیر کے آگے جا شکایت کی
سارے جنگل کے بادشاہ ہیں آپ
ہم رعایا ہیں عالی حضرت کی
کتا بھی کوئی نام ہے شا ہا !
ایک دشنام ہے حقارت کی
اسمِ نعمُ البدل پہ غور کریں
کہ ہے ایجاد ماں ضرورت کی
شیر بولا ہے نام تیرا درست
خو بری تجھ میں ہے خیانت کی
کر چکا توبہ میں خیانت سے
اپنی کتے نے یوں وکالت کی
شیر کہنے لگا کہ دیکھتے ہیں
پائیداری تری ندامت کی
لے یہ رکھ گوشت ایک دن کے لئے
ہم نے تیرے سپرد امانت کی
شیر رخصت ہوا تو کتے نے
ہر طرح گوشت کی حفاظت کی
رال ٹپکی تو سانس روک لیا
نفس للچایا تو ملامت کی
جبرِ وقتی تو کوئی چیز نہیں
بات ہے اصل استقامت کی
آخر کار سوچنے لگا جب
عود آئی خرابی فطرت کی
نام کتے میں کیا برائی ہے
ایک خوبی یہ بھی ہے قسمت کی
نام سب سے برا ہے سوّر کا
ہائے کیا زندگی ہے راحت کی
گوشت کے لوتھڑے پہ ٹوٹ پڑا
چند لمحوں میں چٹ امانت کی
سگ سے پرہیزگاری مشکل ہے
منھ نہ مارے 'یہ خواری مشکل ہے
زبردست یاسر بھائی :rose:
نہایت رواں منظوم ترجمہ کیا ہے آپ ہے!
ادبی خدمت تو ہو گئی لیکن ساتھ نیکی کا کام بھی ہو گیا۔
حکمت بھرا سبق ہے اِس روایت میں۔
اسے منتخب کرنے کے لیے آپ کو اضافی داد!
محمد تابش صدیقی — نومبر 27، 2018 3:33 شام
بہت عمدہ جناب
محمد عدنان اکبری نقیبی — نومبر 27، 2018 4:31 شام
ماشاءاللہ ،
بہت عمدہ ۔
یاسر شاہ — نومبر 28، 2018 4:16 شام
زبردست یاسر بھائی
نہایت رواں منظوم ترجمہ کیا ہے آپ ہے!
ادبی خدمت تو ہو گئی لیکن ساتھ نیکی کا کام بھی ہو گیا۔
حکمت بھرا سبق ہے اِس روایت میں۔
اسے منتخب کرنے کے لیے آپ کو اضافی داد!

منیب بھائی آخر کار آپ نے کھود نکالی نظم -نوازش 'مہربانی 'شکریہ :rose:
یاسر شاہ — نومبر 28، 2018 4:18 شام
عنایت بھائی تابش !
یاسر شاہ — نومبر 28، 2018 4:20 شام
ماشاءاللہ ،
بہت عمدہ ۔

نوازش بھائی عدنان !
فہد اشرف — نومبر 28، 2018 6:06 شام
نظم بہت خوب اور رواں ہے بس حکایت دل کو نہیں لگ رہی ہے کہ اب تک کتے کی وفاداری کے قصے ہی پڑھے تھے۔
یاسر شاہ — نومبر 28، 2018 6:54 شام
نظم بہت خوب اور رواں ہے بس حکایت دل کو نہیں لگ رہی ہے کہ اب تک کتے کی وفاداری کے قصے ہی پڑھے تھے۔
بھائی آپ کا تبصرہ اچھا لگا کہ جو محسوس کیا لکھ دیا -جزا ک اللہ -
وفاداری اور چیز ہے خیانت اور چیز - وفادار کتے کے سامنے بھی ایک پورا دن گوشت کا ٹکڑا رکھ کے دیکھیں 'میرا تو خیال ہے کھا لے گا چاہے جتناسدھایا گیا ہو اس باب میں کہ بغیر مالک کے اشارے کے گوشت نہ کھائے - بہرحال استثنائی صورتیں تو ہر اصول میں رہتی ہیں اور یہ حکایت ہے جو امام ابن جوزیؒ کی "صید الخاطر" (ترجمہ )سے ماخوذ ہے- جس میں سوّر کا تذکرہ اضافی ہے میری جانب سے -
سبق یہی ہے کہ انسان جب گناہ کرتا ہے اور دراصل خیانت کرتا ہے تو بجائے شرمندہ ہونے کے اور احساس شکست کے ایک خوبصورت تاویل گڑھتا ہے یہ دراصل کتاپن ہے-جس کو مولانا روم نے ایک ہی شعر میں سمویا ہے :
کارِ پاکاں روشنی و گرمی است
کارِ دوناں حیلہ و بے شرمی است

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D9%88%DB%8C%D9%84-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D9%85.80885/