قلم کے زور سے کھینچوں گا شاعری میں بدن
مجھے ملا جو نہیں راہ ِ عاشقی میں بدن
وہ شب پسند گریزاں تمام عمر رہا
مجھے تھی ضد کہ میں دیکھوں گا روشنی میں بدن
سمندروں سے مری پیاس بجھ نہیں سکتی
چٹخ رہا ھے کسی اور تشنگی میں بدن
اسے بتاؤ کہ ھے چند روز کی ہستی
اور ایک بار ہی ملتا ھے زندگی میں بدن
فضول ہیں تری روحانی عشق کی باتیں
تجھے ملا ہی نہیں ہوگا پالکی میں بد ن
ذرا خیال کے پیکر میں ڈھال پھر انور
وہ ریت اور وہ ساحل کی چاندنی میں بدن
انور جمال