ترکِ یقین کرکے اُس کو بھلا رہا ہوں

ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 6:12 شام
ایک بہت پرانی غزل احباب کی خدمت میں ۔ نومشقی کے زمانے کا اکثر کلام تو مسترد کرکے ضائع کرچکا ہوں سوائے دو تین غزلوں کے۔ اس غزل کو صرف اسی لئے محفوظ رکھا ہے کہ کچھ یادیں اس سے وابستہ ہیں ۔

ترکِ یقین کرکے اُس کو بھلا رہا ہوں
برسوں میں جس کی خاطر محوِ دعا رہا ہوں
شاید ملے دفینہ بنیاد میں کسی کی
میں قصرِ ذات کی ہر دیوار ڈھا رہا ہوں
عہدِ بہارِ رفتہ کی تازہ آرزو میں
گزرے ہوئے دنوں کو اب تک منارہا ہوں
اُس عشقِ رائیگاں سے حاصل یہی ہوا ہے
میں لوحِ دل سے حرفِ نفرت مٹا رہا ہوں
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۱۹۸۸
ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 6:13 شام
محمد تابش صدیقی فاتح کاشف اختر سید عاطف علی
سارہ خان — جنوری 27، 2016 6:18 شام
نو مشقی بھی بہت خوب ہے ۔۔ :)
محمد تابش صدیقی — جنوری 27، 2016 6:18 شام
بہت خوب ظہیر بھائی
شاید ملے دفینہ بنیاد میں کسی کی
میں قصرِ ذات کی ہر دیوار ڈھا رہا ہوں
فاتح — جنوری 27، 2016 6:18 شام
واہ اچھی غزل ہے۔ خصوصاً مطلع تو بہت خوبصورت ہے۔ عموماً ایسا مطلع تو پختہ کاری کے عہد میں بھی کم ہی میسر آتا ہے جیسا آپ نے نو آموزی کے دنوں میں کہہ لیا۔
اس مصرع کو دیکھیے گا۔
اس بات کو پرکھنے ترے پاس آرہا ہوں​
ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 6:31 شام
واہ اچھی غزل ہے۔ خصوصاً مطلع تو بہت خوبصورت ہے۔ عموماً ایسا مطلع تو پختہ کاری کے عہد میں بھی کم ہی میسر آتا ہے جیسا آپ نے نو آموزی کے دنوں میں کہہ لیا۔
اس مصرع کو دیکھیے گا۔

فاتح بھائی ۔ بالکل صحیح دیکھا ٓپ نے۔۔ اسے نکال دیا ہے ۔ بھائی مسئلہ یہی ہے کہ اتنی پرانی پرانی چیزیں ہیں ۔ بس انہیں کلرک کی طرح کاغذ سے کمپیوٹر پر ٹائپ کردیا ہے ۔ نظر ِثانی کے لئے تو بہت فرصت چاہیئے ۔ اور اگر فرصت مل بھی جائےتو اس کا دماغ کہاں ۔ بہتر یہی ہے ایسی چیزوں کو رد ہی کردیا جائے ۔ اب آپ کی طرف سے بھی امید رہتی ہے کہ کوئی فاش غلطی ہوئی تو فاتح بھائی نشاندہی کر ہی دین گے۔
یعنی ہماری پروف ریڈنگ کا کام حضرت فاتح الدین بشیر بلامعاوضہ انجام دے رہے ہیں ۔ :):):)
میں بہت ممنون ہوں ۔ خدا آپ کو سلامت رکھے۔
سید اسد معروف — جنوری 28، 2016 4:15 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی -
کیا پرانے کلام کو ضائع کرنے کی بجائے اصلاح سے بہتر نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ اگر یہی اصول مجھ جیسوں نے اپنایا تو ایک شعر بھی نہیں بچےگا۔
:):):):):)
کاشف اختر — جنوری 28، 2016 4:45 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی! سبحان اللہ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 30، 2016 12:41 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی -
کیا پرانے کلام کو ضائع کرنے کی بجائے اصلاح سے بہتر نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ اگر یہی اصول مجھ جیسوں نے اپنایا تو ایک شعر بھی نہیں بچےگا۔
:):):):):)
اسد بھائی ۔ اصلاح ہو تو سکتی ہے۔ مثلاً ’’ اس بات کو پرکھنے ترے پاس آرہا ہوں‘‘ کو ’’اس بات کو پرکھنے میں پاس آرہا ہوں‘‘ سے بدل کر وزن میں لایا جاسکتا ہے ۔ لیکن بات یہ ہے کہ ابتدائی دور کی بہت غزلیں ہیں اب ان کو بیٹھ کر نئے سرے سے دیکھنا اور ردو بدل کرنا بہت مشکل لگتا ہے مجھے۔ ایک تو اشعار بھی اس معیار کے نہیں کہ انہیں شائع کرنے پر اصرار ہی کیا جائے ۔ عام سی بات ہے سو اب اس پر کیا وقت ضائع کرنا۔ سو بہتر یہی لگتا ہے کہ انہین قلمزد کرکے وقت کو کہیں اور لگایا جائے ۔
آپ البتہ ایسا مت کیجئے ۔ الحمدللہ آپ کو فنی پہلوؤں کا ادراک ہے۔ وزن وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہیں ۔ چنانچہ آپ تو شہوارِ قلم دوڑاتے ہی رہیئے ۔ :):):)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B1%DA%A9%D9%90-%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D8%B1%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%8F%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.87535/