ترے ہمراہ چلنا ہے- آصف شفیع

آصف شفیع — اکتوبر 14، 2010 1:29 شام
ترے ہمراہ چلناہے
سفر غم کا زیادہ ہے
غموں کی دھول میں لپٹےشکستہ جسم پر لیکن ،
سلگتی جاگتی اور بے ارادہ خواہشوں کا اک لبادہ ہے
زمانہ لاکھ روکے مجھ کو اس پر ہول وادی میں قدم رکھنے سے
لیکن اب پلٹ سکتا نہیں ہرگز کبھی میں اس ارادے سے
مجھے معلوم ہے اس راستے پر مشکلیں ہوں گی
بگولے وقت کے مجھ کو اڑا لے جاءیں گے
ایسے کسی گمنام صحرا میں
جہاں ذی روح اشیا کا وجود
اک بے حقیقت استعارے سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا
کبھی جب تشنگی حد سے بڑھے گی تو
کوءی بارش کا قطرہ تک نہ برسے گا
بدن پر جب سلگتے آگ برساتے ہوءے سورج کی کرنیں پڑ رہی ہوں گی
تو سایا بھی نہیں ہو گا
مگرمیں نے ارادہ کر لیا ہے اب ترے ہمراہ چلنے کا
ارادہ کر لیا جاءے تو پھر یہ پوچھنا کیسا
سفر کتنا ہے اور کس طرح طے ہو گا
سفر کی انتہا کیا ہے
ارادہ کر لیا جاءے تو رستے کی تھکن کیسی
سفر کی مشکلیں کیسی
ارادہ کر لیا جاءے تو پھر یہ پوچھنا کیسا
کہ منزل بھی ملے گی یا
بھٹکتےہی رہیں گے عمر بھر دشت و بیا باں میں
سفر کی پر خطر راہیں ڈرا سکتی نہیں مجھ کو
جو سچ پوچھو تو میری جاں
مرا سب کچھ ہی تیرا ہے
غبار درد میں لپٹا ہوا چہرہ سفر کا استعارا ہے
چلو تیار ہو جاءو
اکٹھے ساتھ چلتے ہیں
سفر کے پار اس جانب
ہمیں منزل بلاتی ہے
(آصف شفیع)
الف عین — اکتوبر 15، 2010 4:31 صبح
اچھ نظم ہے آصف، مبارک ہو۔
آصف شفیع — اکتوبر 15، 2010 8:36 صبح
اعجاز صاحب، بہت شکریہ۔ یہ نظم میری کتاب “ ترے ہمراہ چلنا ہے“ میں شامل ہے اور کتاب کا نام اسی نظم کے عنوان سے لیا گیا ہے۔ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ میں نے یہاں پوسٹ کر دی ہے۔
الف عین — اکتوبر 16، 2010 9:14 صبح
میں اس کتاب کی ان پیج فائل کا منتظر ہوں۔
فائزہ ندیم — اکتوبر 16، 2010 10:15 صبح
ارادہ کر لیا جاءے تو پھر یہ پوچھنا کیسا
سفر کتنا ہے اور کس طرح طے ہو گا
سفر کی انتہا کیا ہے
ارادہ کر لیا جاءے تو رستے کی تھکن کیسی
سفر کی مشکلیں کیسی
ارادہ کر لیا جاءے تو پھر یہ پوچھنا کیسا
کہ منزل بھی ملے گی یا
بھٹکتےہی رہیں گے عمر بھر دشت و بیا باں میں

بہت پیاری نظم ہے۔ آصف شفیع کی یہ کتاب میری ایک ڈاکٹر دوست نے مجھے گفٹ کی تھی۔ یہ نظم مجھے بہت پسند آئی تھی۔ دوبارہ پرھ کر اچھا لگا۔
عمران شناور — اکتوبر 18، 2010 8:56 صبح
بہت خوب۔ آصف صاحب بہت اچھی نظم ہے۔
ایم اے راجا — اکتوبر 21، 2010 4:34 شام
بہت خوب آصف صاحب۔
مغزل — نومبر 8، 2010 11:50 صبح
جواب نہیں بہت خوب ۔ ایک دوجگہ محسوس ہوتا ہے کہ نظم کا تشکیلی دائرہ ٹوٹنے کو ہے ، مگر اگلی سطور نے پھر سے سنبھالا دیا ہے ، بہت خوب
آصف شفیع — نومبر 17، 2010 11:44 صبح
عمران شناور اور ایم اے راجا صاحب، نظم کی پسندیدگی کا شکریہ۔
آصف شفیع — نومبر 17، 2010 11:51 صبح
مغل صاحب، آپ کی بے حد نوازش۔ در اصل میں خود بھی اپنی کسی نظم سے مکمل مطمئن نہیں ہوا لیکن آپ کے تاثرات میرے لیے بےحد حوصلہ افزا ہیں۔ پزیرائی کے لیے بہت شکریہ۔
دوست — نومبر 18، 2010 8:11 صبح
بہت عرصے بعد کوئی بات دل کو لگی ہے۔ بہت اچھی نظم ہے۔
آصف شفیع — نومبر 19، 2010 8:43 صبح
نظم کی پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ میرے دوست۔
محمداحمد — نومبر 23، 2010 8:19 صبح
آصف شفیع صاحب،
بہت اچھی نظم کہی ہے آپ نے۔ پڑھ کر لطف آیا۔
داد قبول کیجے۔
آصف شفیع — نومبر 24، 2010 8:56 صبح
محمد احمد صاحب، بہت نوازش۔ آجکل کہاں ہیں آپ؟
محمداحمد — نومبر 24، 2010 9:18 صبح
محمد احمد صاحب، بہت نوازش۔ آجکل کہاں ہیں آپ؟

آصف بھائی،
بس کچھ مصروف رہا پچھلے دنوں اس لئے محفل میں حاضری کم رہی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B1%DB%92-%DB%81%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81-%DA%86%D9%84%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%A2%D8%B5%D9%81-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D8%B9.31821/