تشہیر کرنا۔

رشید حسرت — مارچ 17، 2021 8:35 صبح
تشہِیر کرنا۔
لِکھا میں نے تُمہیں اب تُم مُجھے تحرِیر کرنا
گواہی دے تِرا دِل جو وُہی تعبِیر کرنا
تُمہیں جب بھی لگے میں تُم سے باہر جا رہا ہوں
بس اپنی زُلف میرے پاؤں کی زنجِیر کرنا
مُجھے تُم ایک تھیلا دے کے آٹا سوچتے ہو
تُمہارا حق ہے میری ہر طرح تشہِیر کرنا
بُڑھاپے کی مِرے تُم لِکھ رہے ہو گر کہانی
جوانی بھی مِری پھر کھینچ کر تصوِیر کرنا
تُمہی جو گاؤں کے سردار ٹھہرے، کیا شِکایت
تُمہارا خاندانی حق مِری تحقِیر کرنا
تُمہارے قصرِ شاہی کو مُنہدِم دیکھتا ہوں
رہیں گے کب، قلعے جِتنے بھی تم تعمِیر کرنا
نہیں ہے ماں تو اب حسرتؔ دُعائیں بھی نہیں ہیں
سنبھل جا دِل نہیں اب تُو کوئی تقسِیر کرنا۔
رشِید حسرتؔ۔
سید عاطف علی — مارچ 17، 2021 9:04 صبح
تُمہارے قصرِ شاہی کو مُنہدِم دیکھتا ہوں
منہدم کا کیا تلفظ ہے ؟
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 17، 2021 9:13 صبح
اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو کچھ گزارشات
تُمہارے قصرِ شاہی کو مُنہدِم دیکھتا ہوں

منہدم کو آپ نے ہ ساکن کے ساتھ باندھا ہے جبکہ مُنہَدِم میں ہ پر زبر ہے۔ اس طرح یہ مصرع وزن میں نہیں۔
تُمہارا حق ہے میری ہر طرح تشہِیر کرنا

ہمارے خیال سے آپ نے زیادہ تر غزلیں کہی ہیں۔ غزلوں کے عنوان نہیں ہوتے۔ کوئی ایک مکمل مصرع استعمال کرسکتے ہیں۔ مندرجہ بالا بھی غزل ہی ہے، یعنی اس غزل کا عنوان یہ پورا مصرع ہوسکتا ہے، صرف "تشہیر کرنا" نہیں۔
محمد عبدالرؤوف — مارچ 17، 2021 9:55 صبح
سنبھل جا دِل نہیں اب تُو کوئی تقسِیر کرنا۔
"تقصیر" اس لفظ کو بھی ٹھیک کر لیں
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 17، 2021 10:01 صبح
رشیدؔ بھائی سوچیں گے کہ سب ایک ساتھ حملہ آور ہو گئے، مگر کہے بغیر رہا بھی نہیں جا رہا :)
مطلعے کو بھی دیکھ لیجئے ۔۔۔ شترگربہ در آیا ہے :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%DB%94.115539/