تصوّر بھی مرا اے مہ جبیں دل میں نہیں تیرے

مزمل شیخ بسمل — جنوری 18، 2014 5:57 شام
غزل
(مزمل شیخ بسملؔ)

یہ حسرت تھی کہ پیکر انکا یوں پیشِ نظر ہوتا
جبیں ہوتی ہماری اور انکا سنگِ در ہوتا
یہ مرنے میں کوئی مرنا نہیں ہے، راہ میں مرنا
مزہ مرنے کا جب تھا، آپ کے قدموں میں سر ہوتا
دوبارہ دل لگی کرتے جو ہم، اور وہ دغا کرتے
تو، پھر اک بار تازہ دم مرا زخم جگر ہوتا
چکھا دیتا مزہ دشمن کو اس کی لن ترانی کا
مرے پلّے پہ گر وہ بے وفا و فتنہ گر ہوتا
پیے جو خون کے آنسو ہوئے "مرجان" سینے میں
ہماری چشم تر سے اشک گرتا تو گہر ہوتا
لڑائی مدتوں ہم نے نظر اپنی ستاروں سے
پہنچتا آسماں تک میں، تو تاروں سے اِدھر ہوتا
مری آنکھوں کے روغن سے چراغِ بے بسی ہمدم
مرے عارض کے اوپر کیوں نہ روشن تا سحر ہوتا
تصوّر بھی مرا اے مہ جبیں دل میں نہیں تیرے
اندھیری رات کیوں ہوتی اگر نورِ قمر ہوتا
چمن میں تم اکیلے پی رہے ہو بیٹھ کر بسملؔ
مزہ جب تھا پلانے کو کوئی رشکِ قمر ہوتا

بھلکڑ — جنوری 18، 2014 6:08 شام
سُبحان اللہ!
بہت خوبصورت اشعار جناب!
یہ حسرت تھی کہ پیکر انکا یوں پیشِ نظر ہوتا
جبیں ہوتی ہماری اور انکا سنگِ در ہوتا
پیے جو خون کے آنسو ہوئے "مرجان" سینے میں
ہماری چشم تر سے اشک گرتا تو گہر ہوتا
واہ واہ ۔ لاجواب
نایاب — جنوری 18، 2014 6:14 شام
واہہہہہہہہہہہ
کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مری آنکھوں کے روغن سے چراغِ بے بسی ہمدم
مرے عارض کے اوپر کیوں نہ روشن تا سحر ہوتا
ابن رضا — جنوری 18، 2014 6:43 شام
اندھیری رات کیوں ہوتی اگر نورِ قمر ہوتا
کیا کہنے جناب۔ بہت عمدہ۔شاد و آباد رہیں
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 18، 2014 8:23 شام
چمن میں تم اکیلے پی رہے ہو بیٹھ کر بسملؔ
مزہ جب تھا پلانے کو کوئی رشکِ قمر ہوتا
بہت عمدہ جناب۔۔۔
نوید رزاق بٹ — جنوری 18، 2014 11:19 شام
تصوّر بھی مرا اے مہ جبیں دل میں نہیں تیرے
اندھیری رات کیوں ہوتی اگر نورِ قمر ہوتا
واہ، بہت خوب :)
ایوب ناطق — جنوری 19، 2014 3:55 صبح
تصوّر بھی مرا اے مہ جبیں دل میں نہیں تیرے
اندھیری رات کیوں ہوتی اگر نورِ قمر ہوتا
بہت خوب جناب
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 19، 2014 6:41 صبح

یہ مرنے میں کوئی مرنا نہیں ہے، راہ میں مرنا
مزہ مرنے کا جب تھا، آپ کے قدموں میں سر ہوتا

پیے جو خون کے آنسو ہوئے "مرجان" سینے میں
ہماری چشم تر سے اشک گرتا تو گہر ہوتا

چمن میں تم اکیلے پی رہے ہو بیٹھ کر بسملؔ
مزہ جب تھا پلانے کو کوئی رشکِ قمر ہوتا

واہ واہ۔ مزے دار مزے دار۔بہت بہت داد قبول فرمائیے جناب
باباجی — جنوری 19، 2014 7:29 صبح
واہ واہ ۔۔۔۔ بہت ہی خوب مزمل
لطف آگیا ۔۔ بہت عرصے بعد کچھ ایسا پڑھنے کو ملا کہ ایک ایک شعر پر بے اختیار داد نکلی
یہ حسرت تھی کہ پیکر انکا یوں پیشِ نظر ہوتا
جبیں ہوتی ہماری اور انکا سنگِ در ہوتا
پیے جو خون کے آنسو ہوئے "مرجان" سینے میں
ہماری چشم تر سے اشک گرتا تو گہر ہوتا
تصوّر بھی مرا اے مہ جبیں دل میں نہیں تیرے
اندھیری رات کیوں ہوتی اگر نورِ قمر ہوتا
چمن میں تم اکیلے پی رہے ہو بیٹھ کر بسملؔ
مزہ جب تھا پلانے کو کوئی رشکِ قمر ہوتا
رحیم ساگر بلوچ — جنوری 19، 2014 8:22 صبح
خوب است
مزمل شیخ بسمل — مئی 24، 2014 11:47 صبح
تمام احباب کا بہت شکریہ غزل کو سراہنے کے لیے۔
سلامت رہیں۔
Sidra-tul-Muntaha — مئی 24، 2014 2:37 شام
:good1::good1::good1:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%91%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%85%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%DB%92-%D9%85%DB%81-%D8%AC%D8%A8%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92.71288/