فقیروں کے گزر اوقات کی تصویر بولے گی
ہمارے شہر کے حالات کی تصویر بولے گی
میں جب بیٹھوں گا لکھنے کیلیئے تو دل سے لکھوں گا
مری تحریر میں جذبات کی تصویر بولے گی
لکیریں کھینچنے دو آسماں تک مجھ کو لفظوں کی
پھر اس کے بعد ہر دن رات کی تصویر بولے گی
ذرا ماحول کو آمادہ کرنے دو پھر اس کے بعد
ہوا کے دوش پر برسات کی تصویر بولے گی
مجھے ہر شخص پہچانے گا بن دیکھے ہوئے انور
مری غزلوں میں میری ذات کی تصویر بولے گی
انور جمال انور
ہمارے شہر کے حالات کی تصویر بولے گی
میں جب بیٹھوں گا لکھنے کیلیئے تو دل سے لکھوں گا
مری تحریر میں جذبات کی تصویر بولے گی
لکیریں کھینچنے دو آسماں تک مجھ کو لفظوں کی
پھر اس کے بعد ہر دن رات کی تصویر بولے گی
ذرا ماحول کو آمادہ کرنے دو پھر اس کے بعد
ہوا کے دوش پر برسات کی تصویر بولے گی
مجھے ہر شخص پہچانے گا بن دیکھے ہوئے انور
مری غزلوں میں میری ذات کی تصویر بولے گی
انور جمال انور