محمد تابش صدیقی — جون 2، 2017 8:18 صبح
الطاف حسین حالی کے مشہور شعر کے مصرع پر تضمین (قطعہ)، پھلوں کے بائیکاٹ کے حوالے سے
لٹیروں سے بچنے کا کر لو ارادہ
خریدو نہ پھل تین دن، حل ہے سادہ
لٹیری حکومت سے بھی جاں چھڑاؤ
"مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ"
٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمداحمد — جون 2، 2017 8:47 صبح
واہ واہ واہ ۔۔۔!
کمال ہے تابش بھائی!
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔۔۔!
محنت کیا سب کچھ ہی داؤ پر لگ جاتا ہے۔
محمدظہیر — جون 2، 2017 10:06 صبح
الطاف حسین حالی کے مشہور شعر کے مصرع پر تضمین (قطعہ)، پھلوں کے بائیکاٹ کے حوالے سے
لٹیروں سے بچنے کا کر لو ارادہ
خریدو نہ پھل تین دن، حل ہے سادہ
لٹیری حکومت سے بھی جاں چھڑاؤ
"مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ"
٭٭٭
محمد تابش صدیقی
جمعہ ، ہفتہ ، اتوار ۔ یہ تین دن پھل نہ کھانے کا جو احتجاج آپ کے یہاں کر رہے ہیں، اس کا علم پھل فروخت کرنے والوں کو بھی ہوگا، اور وہ بھی اس کا کچھ نا کچھ حل سوچیں ہوں گے ؟
اسد اقبال — جون 2، 2017 11:04 صبح
بہت خوب
محمد تابش صدیقی — جون 2، 2017 3:31 شام
واہ واہ واہ ۔۔۔!
کمال ہے تابش بھائی!
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔۔۔!
محنت کیا سب کچھ ہی داؤ پر لگ جاتا ہے۔
بہت شکریہ احمد بھائی.
سوشل میڈیا کی بدولت ہم اب احتجاج بھی وہی پسند کرتے ہیں کہ جس میں گھر سے نہ نکلنا پڑے.
مقصد ہرگز اس احتجاج کی اہمیت کم کرنا نہیں، مگر ایک احساس بیان کرنا ہے.

محمد تابش صدیقی — جون 2، 2017 3:32 شام
جمعہ ، ہفتہ ، اتوار ۔ یہ تین دن پھل نہ کھانے کا جو احتجاج آپ کے یہاں کر رہے ہیں، اس کا علم پھل فروخت کرنے والوں کو بھی ہوگا، اور وہ بھی اس کا کچھ نا کچھ حل سوچیں ہوں گے ؟
آج بہت سی جگہوں پر ریٹ گرنے کی اطلاعات ہیں.

محمد تابش صدیقی — جون 2، 2017 3:32 شام
محمدظہیر — جون 2، 2017 3:33 شام
آج بہت سی جگہوں پر ریٹ گرنے کی اطلاعات ہیں.
یعنی احتجاج کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے

محمداحمد — جون 3، 2017 7:43 صبح
بہت شکریہ احمد بھائی.
سوشل میڈیا کی بدولت ہم اب احتجاج بھی وہی پسند کرتے ہیں کہ جس میں گھر سے نہ نکلنا پڑے.
مقصد ہرگز اس احتجاج کی اہمیت کم کرنا نہیں، مگر ایک احساس بیان کرنا ہے.
اب جب سب کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے تو احتجاج بھی سہی!

محمداحمد — جون 3، 2017 7:44 صبح
محمد خلیل الرحمٰن — جون 3، 2017 7:47 صبح
الطاف حسین حالی کے مشہور شعر کے مصرع پر تضمین (قطعہ)، پھلوں کے بائیکاٹ کے حوالے سے
لٹیروں سے بچنے کا کر لو ارادہ
خریدو نہ پھل تین دن، حل ہے سادہ
لٹیری حکومت سے بھی جاں چھڑاؤ
"مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ"
٭٭٭
محمد تابش صدیقی
مزیدار ہے جناب۔ بہت داد قبول فرمائیے
گو ہم اس خیال کے مخالف ہیں کہ غریب کو تکلیف پہنچائی جائے۔
محمداحمد — جون 3، 2017 7:47 صبح
ویسے ہمارے ذوالقرنین بھائی کا کہنا ہے کہ پھلوں کی ریٹس حکومت طے کرتی ہے اور اُن کا یہ کہنا بجا بھی ہے۔اکثر بازاروں میں ان ریٹس کے مطابق ہی اشیاء فروخت ہوتی ہے۔ سو قصوروار حکومت ہوئی یا پھر طلب بڑھنے کے باعث طلب اور رسد میں عدم توازن کی وجہ سے ایسا ہوتا ہوگا تو یہ بھی قرینِ قیاس ہی ہے۔
محمد تابش صدیقی — جون 3، 2017 7:48 صبح
ملا جلا رجحان نظر آیا ہے. یہاں اسلام آباد کا ایک مین بازار کھنہ پل کل کافی پرہجوم تھا. اور بہت جگہوں پر ویرانی کی کیفیت بھی نظر آئی.
ریٹس کم ہونے کا تو میڈیا اور سوشل میڈیا سے ہی پتہ چلا ہے. خود پوچھنے کا اتفاق نہیں ہوا.

محمد تابش صدیقی — جون 3، 2017 7:49 صبح
مزیدار ہے جناب۔ بہت داد قبول فرمائیے
گو ہم اس خیال کے مخالف ہیں کہ غریب کو تکلیف پہنچائی جائے۔
شکریہ خلیل بھائی.
اسی لیے "کرنے کے کام" پر توجہ دلائی ہے.

محمداحمد — جون 3، 2017 7:51 صبح
شکریہ خلیل بھائی.
اسی لیے "کرنے کے کام" پر توجہ دلائی ہے.
لیکن بقول شاعر:
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

محمد خلیل الرحمٰن — جون 3، 2017 7:57 صبح
لیکن بقول شاعر:
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

درست۔ بھائی مارکیٹ اکانومی میں کوئی ایک شخص قیمتوں کا تعین نہیں کررہا۔ ہاں کچھ ذخیرہ اندوز ضرور اس پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ان کو نقصان پہنچانے کے لیے بہت سے غریب چھابڑی فروشوں کے معاشی قتل سے کیوں اپنے ہاتھ سرخ کیے جائیں؟
کیا گدھے کا گوشت کھلانے والوں کو پکڑلیا ہم نے؟
کاشف اسرار احمد — جون 5، 2017 9:55 صبح
خوب قطعہ ہے!
لیکن بائیکاٹ کا موجودہ اثر کیا ہے ؟
محمد تابش صدیقی — جون 5، 2017 10:02 صبح
شکریہ کاشف بھائی
لیکن بائیکاٹ کا موجودہ اثر کیا ہے ؟
مکمل اثر تو سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ مگر وقتی طور پر اکثر جگہوں پر قیمتیں کم ہوئی ہیں۔
اور اس سے بھی قطع نظر یہ کہ عوام میں ایک شعور بیدار ہوا ہے کہ ہم اکٹھے ہو جائیں اور عملی قدم اٹھائیں تو بہت سی چیزیں سدھر سکتی ہیں۔
محمداحمد — جون 7، 2017 10:36 صبح
اور اس سے بھی قطع نظر یہ کہ عوام میں ایک شعور بیدار ہوا ہے کہ ہم اکٹھے ہو جائیں اور عملی قدم اٹھائیں تو بہت سی چیزیں سدھر سکتی ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اس مہم کی بڑی شد و مد سے مخالفت بھی کی گئ۔ اور شاید یہ مخالفت بھی اس کی تشہیر میں کافی معاون ثابت ہوئی۔

محمداحمد — مئی 8، 2018 11:49 صبح
آصف اثر بھائی کے بائیکاٹ کے ٹیگ سے ہم یہاں پہنچ گئے۔
اب رمضان بھی آیا ہی چاہتے ہیں۔