تعبیر چاہتا ہے یہ ہر ایک خواب کی

عاطف ملک — ستمبر 4، 2019 8:18 شام
تعبیر چاہتا ہے یہ ہر ایک خواب کی
ضد بھی تو دیکھیے دلِ خانہ خراب کی
ہاتھوں میں جام سامنے بوتل شراب کی
ہم پر گنہ نہیں کہ ہے نیت ثواب کی
سارے جہاں کو چھوڑ کے تجھ سے کیا ہے عشق
مت کر قبول، داد تو دے انتخاب کی
لب بستہ اس لیے ہیں کہ یہ جانتے ہیں ہم
تجھ میں نہ ہو گی تاب ہمارے جواب کی
جا تجھ کو زندگی میں کبھی غم نہ چھو سکے
تا عمر تازگی رہے تجھ پر شباب کی

بنتا ہے پیش خیمہ خوشی کا یوں رنج و غم
ظلمت سے جیسے پھوٹے کرن آفتاب کی

جانا ہی ہے اگر تو نہ کہیے گا الوداع
تکلیف دیجیے نہ یوں دُہرے عذاب کی
میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی
عاطفؔ کا طرز سارے زمانے سے ہے جدا
شہرِ سخن میں دھوم مری آب و تاب کی

عاطفؔ ملک
اگست ۲۰۱۹
فرحان محمد خان — ستمبر 4، 2019 9:10 شام
ضد بھی تو دیکھیے دلِ خانہ خراب کی
واہ واہ واہ
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 5، 2019 7:03 صبح
واہ بھیا ،
بہت بہت شاندار غزل ہے ۔
محمد امین صدیق — ستمبر 5، 2019 8:40 صبح
تعبیر چاہتا ہے یہ ہر ایک خواب کی
ضد بھی تو دیکھیے دلِ خانہ خراب کی
ہاتھوں میں جام سامنے بوتل شراب کی
ہم پر گنہ نہیں کہ ہے نیت ثواب کی
سارے جہاں کو چھوڑ کے تجھ سے کیا ہے عشق
مت کر قبول، داد تو دے انتخاب کی
لب بستہ اس لیے ہیں کہ یہ جانتے ہیں ہم
تجھ میں نہ ہو گی تاب ہمارے جواب کی
جا تجھ کو زندگی میں کبھی غم نہ چھو سکے
تا عمر تازگی رہے تجھ پر شباب کی

بنتا ہے پیش خیمہ خوشی کا یوں رنج و غم
ظلمت سے جیسے پھوٹے کرن آفتاب کی

جانا ہی ہے اگر تو نہ کہیے گا الوداع
تکلیف دیجیے نہ یوں دُہرے عذاب کی
میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی
عاطفؔ کا طرز سارے زمانے سے ہے جدا
شہرِ سخن میں دھوم مری آب و تاب کی

عاطفؔ ملک
اگست ۲۰۱۹
لاجواب ملک صاحب ۔
عاطف ملک — ستمبر 5، 2019 4:29 شام
ضد بھی تو دیکھیے دلِ خانہ خراب کی
واہ واہ واہ
حسنِ نظر ہے آپ کا بھائی
واہ بھیا ،
بہت بہت شاندار غزل ہے ۔
بہت شکریہ
شکریہ
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 6، 2019 10:51 شام
واہ واہ! بہت خوب عاطف! اچھی غزل ہے! مطلع اچھا ہے!!!
آپ کے کلام میں پختگی نمایاں تر ہوتی جارہی ہے! کیا بات ہے! بہت بہت داد!!
میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی
یہاں پہلے مصرع کا تقاضا ہے کہ ’’زندگی تھی‘‘ کے بجائے ’’زندگی ہے‘‘ ہونا چاہئے ۔ ابھی آپ زندہ ہیں تو کچھ اور نذر کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ ( ویسے بھی عاشق تو محبوب پر زندگی نثار کرکے کچھ اور زندہ ہوجاتا ہے :):):)۔ )
عاطف ملک — ستمبر 8، 2019 6:02 صبح
واہ واہ! بہت خوب عاطف! اچھی غزل ہے! مطلع اچھا ہے!!!
آپ کے کلام میں پختگی نمایاں تر ہوتی جارہی ہے! کیا بات ہے! بہت بہت داد!!
آپ کی تعریف بہت بڑا اعزاز ہے۔
بہت شکریہ
میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی
یہاں پہلے مصرع کا تقاضا ہے کہ ’’زندگی تھی‘‘ کے بجائے ’’زندگی ہے‘‘ ہونا چاہئے ۔ ابھی آپ زندہ ہیں تو کچھ اور نذر کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ ( ویسے بھی عاشق تو محبوب پر زندگی نثار کرکے کچھ اور زندہ ہوجاتا ہے :):):)۔ )
اس مصرع میں تھی اور ہے میں کنفیوز تھا، پھر تھی اس لیے کیا کہ جب کسی کے نام کر ہی دی تو زندگی اپنی کہاں رہی(n)
بہرحال ہے درست ہے تو ویسا کر دیتا ہوں۔
نشاندہی کیلیے شکریہ:)
آپ کا تبصرہ پڑھ کے بہت خوشی ہوئی۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 8، 2019 6:43 صبح
آپ کی تعریف بہت بڑا اعزاز ہے۔
بہت شکریہ
اس مصرع میں تھی اور ہے میں کنفیوز تھا، پھر تھی اس لیے کیا کہ جب کسی کے نام کر ہی دی تو زندگی اپنی کہاں رہی(n)
بہرحال ہے درست ہے تو ویسا کر دیتا ہوں۔
نشاندہی کیلیے شکریہ:)
آپ کا تبصرہ پڑھ کے بہت خوشی ہوئی۔

میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی
عاطف بھائی ، میںپہلے لکھنا بھول گیا لیکن ایک اور بات اس شعر کے متعلق یہ ہے کہ دوسرے مصرع میں یا تو یوں کہئے کہ زندگی تیرے نام کی ۔ یا یوں کہئے کہ زندگی تجھ سے انتساب کی ۔ "نام ترے انتساب کی" مجھے گڑبڑ لگ رہا ہے ۔ (سر کھجانے والا اسماعیلی اسمائیلی) :):):)
عاطف ملک — ستمبر 8، 2019 6:55 صبح
میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی
عاطف بھائی ، میںپہلے لکھنا بھول گیا لیکن ایک اور بات اس شعر کے متعلق یہ ہے کہ دوسرے مصرع میں یا تو یوں کہئے کہ زندگی تیرے نام کی ۔ یا یوں کہئے کہ زندگی تجھ سے انتساب کی ۔ "نام ترے انتساب کی" مجھے گڑبڑ لگ رہا ہے ۔ (سر کھجانے والا اسماعیلی اسمائیلی) :):):)
حقیقت اتنی ہے اس کے مرے تعلق کی
کسی کے دکھ تھے مرے نام انتساب ہوئے
حیدر قریشی
اور
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
پروین شاکر
ہمیں تو یہ اشعار پڑھ یہی صورت بہتر معلوم ہوئی۔
سید عاطف علی — ستمبر 8، 2019 7:29 صبح
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا( یعنی تمہاری یاد کے نام منسوب کر دے گا)
ویسے میرے نزدیک تو "منسوب کرنے" کو "انتساب کرنا" کہنا ذرا عجیب ہی اسلوب ہے ۔ شعراء شاید قافیے کے ہاتھوں مجبور لگ رہے ہیں ۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 8، 2019 7:38 صبح
حقیقت اتنی ہے اس کے مرے تعلق کی
کسی کے دکھ تھے مرے نام انتساب ہوئے
حیدر قریشی
اور
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
پروین شاکر
اسناد (n)
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 12، 2019 4:45 صبح
حقیقت اتنی ہے اس کے مرے تعلق کی
کسی کے دکھ تھے مرے نام انتساب ہوئے
حیدر قریشی
اور
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
پروین شاکر
ہمیں تو یہ اشعار پڑھ یہی صورت بہتر معلوم ہوئی۔
ویسے میرے نزدیک تو "منسوب کرنے" کو "انتساب کرنا" کہنا ذرا عجیب ہی اسلوب ہے ۔ شعراء شاید قافیے کے ہاتھوں مجبور لگ رہے ہیں ۔
عاطف بھائی ، انتساب ہونا تو لغت میں موجود ہے لیکن جیسا کہ سید شاہ صاحب نے کہا انتساب کرنا عجیب یا غیر فطری سا لگتا ہے ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اسی قبیل کے دوسرے الفاظ پر قیاس کرتے ہوئے "انتساب کرنا" استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ انتخاب منتخب کرنے کے عمل کا نام ہے لیکن ہم انتخاب کرنا بھی بولتے ہیں ۔ اسی طرح انتساب منسوب کرنے کے عمل کا نام ہے ۔ سو اس پر قیاس کرتے ہوئے انتساب کرنا بولاجاسکتا ہے ۔
اسی طرح کسی کے نام انتساب کرنا بھی درست ہے ۔ اگرچہ اس بارے میں لغات خاموش ہیں لیکن ثقہ اور مستند لکھاریوں کے ہاں ایسا استعمال ملتا ہے ۔ مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوحِ ایّام" کی ابتدا میں اس طرح لکھا ہے :
انتساب
چراغ اور دریچہ
کے نام
بافقیہ — ستمبر 12، 2019 4:58 صبح
تعبیر چاہتا ہے یہ ہر ایک خواب کی
ضد بھی تو دیکھیے دلِ خانہ خراب کی
ہاتھوں میں جام سامنے بوتل شراب کی
ہم پر گنہ نہیں کہ ہے نیت ثواب کی
سارے جہاں کو چھوڑ کے تجھ سے کیا ہے عشق
مت کر قبول، داد تو دے انتخاب کی
لب بستہ اس لیے ہیں کہ یہ جانتے ہیں ہم
تجھ میں نہ ہو گی تاب ہمارے جواب کی
جا تجھ کو زندگی میں کبھی غم نہ چھو سکے
تا عمر تازگی رہے تجھ پر شباب کی

بنتا ہے پیش خیمہ خوشی کا یوں رنج و غم
ظلمت سے جیسے پھوٹے کرن آفتاب کی

جانا ہی ہے اگر تو نہ کہیے گا الوداع
تکلیف دیجیے نہ یوں دُہرے عذاب کی
میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی
عاطفؔ کا طرز سارے زمانے سے ہے جدا
شہرِ سخن میں دھوم مری آب و تاب کی

عاطفؔ ملک
اگست ۲۰۱۹
خوب۔۔۔ عاطف صاحب!!!
فاخر رضا — ستمبر 12، 2019 6:30 صبح
زبردست َزبردس ت
عاطف ملک — ستمبر 12، 2019 10:53 صبح
عاطف بھائی ، انتساب ہونا تو لغت میں موجود ہے لیکن جیسا کہ سید شاہ صاحب نے کہا انتساب کرنا عجیب یا غیر فطری سا لگتا ہے ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اسی قبیل کے دوسرے الفاظ پر قیاس کرتے ہوئے "انتساب کرنا" استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ انتخاب منتخب کرنے کے عمل کا نام ہے لیکن ہم انتخاب کرنا بھی بولتے ہیں ۔ اسی طرح انتساب منسوب کرنے کے عمل کا نام ہے ۔ سو اس پر قیاس کرتے ہوئے انتساب کرنا بولاجاسکتا ہے ۔
اسی طرح کسی کے نام انتساب کرنا بھی درست ہے ۔ اگرچہ اس بارے میں لغات خاموش ہیں لیکن ثقہ اور مستند لکھاریوں کے ہاں ایسا استعمال ملتا ہے ۔ مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوحِ ایّام" کی ابتدا میں اس طرح لکھا ہے :
انتساب
چراغ اور دریچہ
کے نام
بہت شکریہ ظہیر صاحب،
اس بہانے سے کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
خوب۔۔۔ عاطف صاحب!!!
شکریہ:)
بہت شکریہ:)
سہیل خان — ستمبر 12، 2019 11:23 صبح
سارے جہاں کو چھوڑ کے تجھ سے کیا ہے عشق
مت کر قبول، داد تو دے انتخاب کی
واہ ،
کیا بات ہے عاطف صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B9%D8%A8%DB%8C%D8%B1-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81-%DB%81%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C.108312/