تم کناروں کی بات کرتے ہو از روحانی بابا

عظیم اللہ قریشی — جولائی 5، 2010 1:40 شام
کیوں یاروں کی بات کرتے ہو
کن سہاروں کی بات کرتے ہو
کیوں شراروں کی بات کرتے ہو
اُن اشاروں کی بات کرتے ہو
یوں تو باتیں ہزار کرتے ہو
پر اشاروں کی بات کرتے ہو
ہمیں تو ڈوبنا ہے لمحہ لمحہ
تم کناروں کی بات کرتے ہو
ان کی تقدیر بھی ہمیں سے ہے
جن ستاروں کی بات کرتے ہو
ہم خزاں کے لیے ترستے ہیں
تم بہاروں کی بات کرتے ہو
وہ تو صدیوں سے یاں نہیں آئے
کن پیاروں کی بات کرتے ہو
اپنا کیا تذکرہ کرے بابا
کیوں بیماروں کی بات کرتے ہو
جیہ — جولائی 5، 2010 1:41 شام
ماشاء اللہ ایک اور در منظوم کلام۔;)
عظیم اللہ قریشی — جولائی 5، 2010 2:17 شام
حوصلہ افزائی کا شکریہ بہنا
محمود احمد غزنوی — جولائی 5، 2010 3:54 شام
دشنام تو نہیں ہے یہ ، اکرام ہی تو ہے;)
عظیم اللہ قریشی — جولائی 5، 2010 4:20 شام
ارے جناب غزنوی صاحب آپ بھی یار لوگوں کی باتوں میں آگئے ہو آپ کو کیا لگتا ہے درالمنظوم یا در منثور؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
فاتح — جولائی 5، 2010 4:47 شام

کیوں یاروں کی بات کرتے ہو
کن سہاروں کی بات کرتے ہو
ہمیں تو ڈوبنا ہے لمحہ لمحہ
تم کناروں کی بات کرتے ہو
وہ تو صدیوں سے یاں نہیں آئے
کن پیاروں کی بات کرتے ہو
اپنا کیا تذکرہ کرے بابا
کیوں بیماروں کی بات کرتے ہو
:eek::eek::eek:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%85-%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88-%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D9%88%D8%AD%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D8%A7.30493/