عظیم — اپریل 28، 2018 7:47 صبح
تمام دن جسے فرصت نہیں لطیفوں سے
وہ لو لگائے ہوئے بیٹھا ہے ادیبوں سے
حقیر جاننا اپنے سوا ہر اک کو ہے روگ
کہ جا کے ملیے گا حضرت کبھی طبیبوں سے
تمہاری شان کو روندیں گے اپنے پاؤں تلے
الجھنا پھر نہ کبھی تم یہ کم نصیبوں سے
نہ باز آئیں گے حق گوئی سے کبھی عاشق
جو باندھے جائیں یہ صحراؤں میں صلیبوں سے
کتابیں اپنی چھپا رکھ اگر ہے علم کا شوق
تو آ کے سیکھ لے جاہل کچھ اِن غریبوں سے
مجھے نہیں ہے کہ غصے میں ہی رہوں ہر وقت
کہ تنگ آیا ہوا ہوں میں تم حریفوں سے
ادب تو اب بھی یہی میں کہوں گا، ہے اسلام
سمجھ میں آئے نہ ٹھٹھوں سے یا لطیفوں سے
اکمل زیدی — اپریل 28، 2018 7:50 صبح
ادب تو اب بھی یہی میں کہوں گا، ہے اسلام
نہیں ہے اس کا کوئی واسطہ لطیفوں سے
نہیں بھئی ایسا نہیں ہے ۔ ۔ ۔ انسان بھی تو لطیفہ غیبی ہے ۔ ۔ ۔
عظیم — اپریل 28، 2018 8:00 صبح
نہیں بھئی ایسا نہیں ہے ۔ ۔ ۔ انسان بھی تو لطیفہ غیبی ہے ۔ ۔ ۔
لطیفہ غیبی سے مراد کچھ اور ہو گا، یہاں میری مراد 'ٹھٹھوں' وغیرہ سے ہے ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 28، 2018 8:06 صبح
ٹائپو!
نہ باز آئیں گے حق گوئی سے کبھی عاشق
جو باندھیں جائیں یہ صحراؤں میں صلیبوں سے
عظیم — اپریل 28، 2018 8:14 صبح
نہیں بھئی ایسا نہیں ہے ۔ ۔ ۔ انسان بھی تو لطیفہ غیبی ہے ۔ ۔ ۔
بہت شکریہ اکمل زیدی بھائی، دوسرے مصرع میں کمی کے باعث بات واضح نہیں ہو پا رہی تھی ۔ امید ہے کہ اب جو تدوین کی ہے اس سے کچھ واضح ہو جائے ۔
امان زرگر — اپریل 28، 2018 10:09 صبح
قوافی کی طرف بھی تھوڑا دھیان۔۔۔۔۔۔!
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 28، 2018 10:28 صبح
توجہ فرمائیے
تمہاری شان کو روندیں گے اپنے پاؤں تلے
الجھنا پھر نہ کبھی تم یہ کم نصیبوں سے
لفظ "یہ" بھرتی کا لگ رہا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 28، 2018 11:13 صبح
قوافی کی طرف بھی تھوڑا دھیان۔۔۔۔۔۔!
قوافی تو درست ہی لگ رہے ہیں۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 28، 2018 11:36 صبح
قوافی تو درست ہی لگ رہے ہیں۔
ان کی توجہ غالباً لطیفہ اور ادیب کی جانب ہے۔
عظیم — اپریل 28، 2018 11:48 صبح
قوافی کی طرف بھی تھوڑا دھیان۔۔۔۔۔۔!
'فوں' 'بوں' وغیرہ کو بابا ( الف عین ) درست قوافی مانتے ہیں ۔
توجہ فرمائیے
لفظ "یہ" بھرتی کا لگ رہا ہے
مجھے ایسا بالکل بھی نہیں لگ رہا، یہاں 'یہ' خاص طور پر اپنے لیے کہا گیا ہے، 'کم نصیبوں' میں بھی 'یہ کم نصیب' ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 28، 2018 11:51 صبح
یعنی آپ نے اِن کم نصیبوں کی جگہ یہ کم نصیبوں استعمال کیا ہے۔ بہت خوب!
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 28، 2018 12:02 شام
موضوع بھی بہت خوب چنا ہے آپ نے۔ حسبِ حال۔ آج کل محفل پر لطیفوں کا رواج کچھ زیادہ ہی عام ہوگیا ہے۔
ریاست چم چم چمروٹی ( ننگا پربت کی ترائی میں ایک آزاد ریاست) میں تو سرِ عام ہنسنے پر پابندی ہے۔