تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے

عاطف ملک — مارچ 2، 2021 6:20 صبح
تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے
ہمارا دل جو تری یاد کے حصار میں ہے
لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں
وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے
جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی
کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے
میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں
تو سوچتا ہے تری جیت میری ہار میں ہے
ترا ستم بھی دل و جان سے قبول، مگر
بتا تو دے کہ یہ غصے میں ہے یا پیار میں ہے
میں تجھ سے آج بھی کرتا ہوں صرف تیرا سوال
یہ معجزہ تو نہیں، تیرے اختیار میں ہے
دھڑک رہا ہے اگر دل تو صرف تیرے لیے
کھلی ہے آنکھ تو تیرے ہی انتظار میں ہے
سبھی مرادیں سکندر کی جب نہ بر آئیں
تمہارا ذکر بھی عاطفؔ کسی شمار میں ہے؟

عاطفؔ ملک
مارچ ۲۰۲۱​
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 2، 2021 6:23 صبح
میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں
تو سوچتا ہے تری جیت میری ہار میں ہے
واہ واہ!!!!
کچھ ایسا ہی ایک بار مرزا کاہل خرطوموی بھی فرما گئے تھے
عشق نہیں، یہ پاگل پن ہے
اس سے ہارو تم ہر بار! :)
عمدہ غزل ہے ماشاء اللہ، بہت سی داد
محمداحمد — مارچ 2، 2021 11:39 صبح
بہت خوب عاطف بھائی!
اچھی غزل ہے۔
عاطف ملک — مارچ 3، 2021 2:57 صبح
واہ واہ!!!!
کچھ ایسا ہی ایک بار مرزا کاہل خرطوموی بھی فرما گئے تھے
عشق نہیں، یہ پاگل پن ہے
اس سے ہارو تم ہر بار! :)
:)
عمدہ غزل ہے ماشاء اللہ، بہت سی داد
شکریہ
بہت خوب عاطف بھائی!
اچھی غزل ہے۔
نوازش احمد بھائی:)
محمد تابش صدیقی — مارچ 3، 2021 4:05 صبح
بہت خوب عاطف بھائی
تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے
ہمارا دل جو تری یاد کے حصار میں ہے
لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں
وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے
جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی
کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے
میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں
تو سوچتا ہے تری جیت میری ہار میں ہے
ترا ستم بھی دل و جان سے قبول، مگر
بتا تو دے کہ یہ غصے میں ہے یا پیار میں ہے
میں تجھ سے آج بھی کرتا ہوں صرف تیرا سوال
یہ معجزہ تو نہیں، تیرے اختیار میں ہے
دھڑک رہا ہے اگر دل تو صرف تیرے لیے
کھلی ہے آنکھ تو تیرے ہی انتظار میں ہے
سبھی مرادیں سکندر کی جب نہ بر آئیں
تمہارا ذکر بھی عاطفؔ کسی شمار میں ہے؟

عاطفؔ ملک
مارچ ۲۰۲۱​
الف عین — مارچ 3، 2021 5:28 صبح
بہت خوب، اچھی غزل ہے
الف عین — مارچ 3، 2021 5:29 صبح
واہ واہ!!!!
کچھ ایسا ہی ایک بار مرزا کاہل خرطوموی بھی فرما گئے تھے
عشق نہیں، یہ پاگل پن ہے
اس سے ہارو تم ہر بار! :)
عمدہ غزل ہے ماشاء اللہ، بہت سی داد
مرزا کاہل بھی تقطیع میں کاہلی کر گیے
عاطف ملک — مارچ 3، 2021 11:59 صبح
بہت خوب عاطف بھائی
بہت شکریہ تابش بھائی:)
بہت خوب، اچھی غزل ہے
بہت نوازش استادِ محترم:)
عرفان علوی — مارچ 4، 2021 1:21 صبح
تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے
ہمارا دل جو تری یاد کے حصار میں ہے
لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں
وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے
جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی
کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے
میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں
تو سوچتا ہے تری جیت میری ہار میں ہے
ترا ستم بھی دل و جان سے قبول، مگر
بتا تو دے کہ یہ غصے میں ہے یا پیار میں ہے
میں تجھ سے آج بھی کرتا ہوں صرف تیرا سوال
یہ معجزہ تو نہیں، تیرے اختیار میں ہے
دھڑک رہا ہے اگر دل تو صرف تیرے لیے
کھلی ہے آنکھ تو تیرے ہی انتظار میں ہے
سبھی مرادیں سکندر کی جب نہ بر آئیں
تمہارا ذکر بھی عاطفؔ کسی شمار میں ہے؟

عاطفؔ ملک
مارچ ۲۰۲۱​
عاطف صاحب، بڑی دلکش زمین چنی ہے آپ نے اور اسے نبھایا بھی خوب ہے ۔ داد حاضر ہے ۔
عاطف ملک — مارچ 4، 2021 12:17 شام
عاطف صاحب، بڑی دلکش زمین چنی ہے آپ نے اور اسے نبھایا بھی خوب ہے ۔ داد حاضر ہے ۔
بہت شکریہ جناب:)
یاسر شاہ — مارچ 6، 2021 9:40 صبح
جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی
کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے
میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں
تو سوچتا ہے تری جیت میری ہار میں ہے

واہ ،چہ خوب -
سبھی مرادیں سکندر کی جب نہ بر آئیں

<بر نہ آئیں جب >مطلوبہ مراد کے زیادہ قریب ہے -:)
عاطف ملک — مارچ 7، 2021 6:20 صبح
شکراً
بر نہ آئیں جب >مطلوبہ مراد کے زیادہ قریب ہے
ہمم۔۔۔۔چلیں اس کو بھی دیکھتا ہوں:)
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 7، 2021 2:21 شام
تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے
ہمارا دل جو تری یاد کے حصار میں ہے
لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں
وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے
جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی
کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے
میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں
تو سوچتا ہے تری جیت میری ہار میں ہے
ترا ستم بھی دل و جان سے قبول، مگر
بتا تو دے کہ یہ غصے میں ہے یا پیار میں ہے
میں تجھ سے آج بھی کرتا ہوں صرف تیرا سوال
یہ معجزہ تو نہیں، تیرے اختیار میں ہے
دھڑک رہا ہے اگر دل تو صرف تیرے لیے
کھلی ہے آنکھ تو تیرے ہی انتظار میں ہے
سبھی مرادیں سکندر کی جب نہ بر آئیں
تمہارا ذکر بھی عاطفؔ کسی شمار میں ہے؟

عاطفؔ ملک
مارچ ۲۰۲۱​
خوبصورت غزل۔ داد قبول فرمائیے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%AF%DB%81%D8%B1-%DB%81%DB%8C-%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92.115375/